🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7456
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ تَجِيءُ الْأَعْرَابُ، نقُولُ: يَا أَعْرَابِيُّ، نَحْنُ نَبِيعُ لَكَ، قَالَ: دَعُوهُ فَلْيَبِعْ سِلْعَتَهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
مسلم بن ابی مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس وقت دیکھا جب ہم بچے تھے دیہاتی لوگ آتے تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ اے دیہاتی ہم تمہارا سامان بیچ دیتے ہیں؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ اسے چھوڑ دو اسے اپنا سامان خود فروخت کرنا چاہے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شہری کو کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7456]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبى سلمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے)۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7457]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6913، م: 1710، ابن جريج ثقة لكنه يدلس، وقد صرح هنا بالسماع.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَلَمْ تَفُتْهُ، وَمَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَلَمْ تَفُتْهُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پڑھ لے اس کی وہ نماز فوت نہیں ہوئی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پڑھ لے اس کی وہ نماز بھی فوت نہیں ہوئی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7458]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ثَلَاثٌ أَوْصَانِي بِهِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أَدَعُهُنَّ أَبَدًا: الْوَتْرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ، وَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرِ، وَالْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا (١) سونے سے پہلے نمازوتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7459]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1187، م: 721، وهذا الإسناد فيه انقطاع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدرَكَ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7460]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيُصَلِّ إِلَى شَيْءٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ، فَعَصًا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَصًا، فَلْيَخْطُطْ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اپنے سامنے کوئی چیز (بطور سترہ کے) رکھ لے اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی ہی کھڑی کرلے اور اگر لاٹھی بھی نہ ہو تو ایک لکیر ہی کھینچ لے اس کے بعد اس کے سامنے سے کچھ بھی گذرے اسے کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7461]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة ابن عمرو وأبيه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7462
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَلَقِيَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ: أَرِنِي أُقَبِّلْ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ"، قَالَ: فَقَالَ:" بْقَمِيصَةِ"، قَالَ: فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ.
عمیر بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ راستے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی وہ کہنے لگے کہ مجھے دکھاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے جسم کے جس حصے پر بوسہ دیا تھا میں بھی اس کی تقبیل کا شرف حاصل کروں اس پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیص اٹھائی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7462]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، تفرد به عمير بن إسحاق، وأن حديثه ضعيف عند ما انفرد به.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7463]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" وَاللَّهِ لَأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي حَدِيثِهِ:" الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَمَا يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ، وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ،. وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ: وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا! نماز میں میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوں ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز ظہر، عشاء اور نماز فجر کی آخری رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں مسلمانوں کے لئے دعا اور کفار پر لعنت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7464]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 797، م: 676.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبى سلمة بن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلَى أَحَدٍ، أَوْ يَدْعُوَ لِأَحَدٍ، قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَرُبَّمَا، قَالَ، إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ":" اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ"، قَالَ: يَجْهَرُ بِذَلِكَ، وَيَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ:" اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا"، حَيَّيْنِ مِنَ الْعَرَبِ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے خلاف بد دعا یا کسی کے حق میں دعا کا ارادہ فرماتے تو رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا و لک الحمد کہنے کے بعد یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ولید بن ولید۔ سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ۔ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا بلند آواز میں فرماتے تھے اور بعض اوقات نماز فجر میں عرب کے دو قبیلوں کا نام لے کر فرماتے تھے اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت نازل فرما یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں اللہ چاہے تو ان پر متوجہ ہو یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7465]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4560، م: 675.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں