مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7886
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيْحَانُ، وَجَيْحَانُ، وَالنِّيلُ، وَالْفُرَاتُ، كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی نے فرمایا دریائے فرات، دریائے نیل، دریائے جیحون، دریائے سیحون، یہ سب جنت کی نہریں ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7886]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2839.
حدیث نمبر: 7887
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ومحمدُ بن عمرو ، عن أبي سَلَمة ، عن أبي هريرة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ نَبِيٍّ وَلَا خَلِيفَةٍ"، أَوْ قَالَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، وَمَنْ وُقِيَ شَرَّ بِطَانَةِ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا وَهُوَ مَعَ الْغَالِبَةِ عَلَيْهِ مِنْهُمَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی نبی یا حکمران ایسا نہیں ہے کہ اس کے دو قسم کے مشیر نہ ہوں ایک گروہ اسے نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے اور دوسرا گروہ (اس کی بدنصیبی میں اپنا کردار ادا کرنے میں) کوئی کسر نہیں چھوڑتا جو اس برے گروہ کے شر سے بچ گیا وہ محفوظ رہا (تین مرتبہ فرمایا) ورنہ جو گروہ اس پر غالب آگیا اس کا شمار انہی میں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7887]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ لكنه متابع.
حدیث نمبر: 7888
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَنْشَقَ أَدْخَلَ الْمَاءَ مَنْخِرَيْهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ناک میں پانی ڈالتے تو ناک کے نتھنوں میں پانی داخل کرتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7888]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 162، م: 237.
حدیث نمبر: 7889
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، عَنْ عَمِّهِ حَكِيمِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلطَّاعِمِ الشَّاكِرِ، مِثْلُ مَا لِلصَّائِمِ الصَّابِرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھا کر شکر کرنے والے کا ثواب روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7889]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7890
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا يَنْبَغِي لِذِي الْوَجْهَيْنِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی دوغلے آدمی کا امین ہونا ممکن نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7890]
الحكم على الحديث:
حديث قوي، وإسناده هنا منقطع، عبيدالله لم يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7891
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ ، عَنْ طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، الْمُتَشَبِّهِينَ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَبَتِّلِينَ مِنَ الرِّجَالِ، الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا نَتَزَوَّجُ، وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، اللَّائِي يَقُلْنَ ذَلِكَ، وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى اسْتَبَانَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ، وَقَالَ: الْبَائِتُ وَحْدَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر گوشہ نشین مردوں پر جو یہ کہیں کہ وہ شادی نہیں کریں گے اور گوشہ نشین عورتوں پر جو یہی بات کہیں اور جنگل میں تنہا سفر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے صحابہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات اتنی محسوس ہوئی کہ اس کے آثار ان کے چہروں سے ظاہر ہونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے رات گذارنے والے کا بھی ذکر فرمایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7891]
الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: «لعنة راكب الفلاة والبائت وحده» ، وإسناده ضعيف لجهالة طيب.
حدیث نمبر: 7892
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ ، أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ وَهْبًا يَقُولُ: أَخْبَرَنِي، يَعْنِي هَمَّامًا ، قال عبد الله بن أحمد: كَذَا قَالَ أَبِي، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَنْتَظِرُ الَّتِي بَعْدَهَا، وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَسْجِدِهِ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يُحْدِثْ" . قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ: وَمَا ذَلِكَ الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ: إِنْ فَسَا أَوْ ضَرَطَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فر شتے اس کے لئے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے اس پر حضرموت کے ایک آدمی نے پوچھا اے ابوہریرہ بےوضو ہونے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا اس کی ہوا خارج ہوجائے یا زور سے آواز نکلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7892]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 477، م: 649، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن وهب.
حدیث نمبر: 7893
رقم الحديث: 7694 حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، اسْتَأْذَنَ عَلَى سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَبَّحَ لِي، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ إِذْنَ الرَّجُلِ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ يُسَبِّحَ، وَإِنَّ إِذْنَ الْمَرْأَةِ أَنْ تُصَفِّقَ" .
یزید بن کیسان رحمہ اللہ ایک مرتبہ نماز پڑہ رہے تھے کہ سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ نے اندر آنے کی اجازت چاہی انہوں نے سبحان اللہ کہہ دیا سلام پھیرنے کے بعد وہ کہنے لگے اگر مرد نماز پڑھ رہاہو تو اس کی طرف سے سبحان اللہ کہنے کو اجازت سمجھنا چاہئے اور عورت کا تالی بجانا اس کی طرف سے اجازت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7893]
الحكم على الحديث:
هذا أثر عن سالم بن أبي الجعد، وليس بحديث، وإسناده إليه صحيح، وانظر مابعده.
حدیث نمبر: 7894
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7894]
الحكم على الحديث:
هذا مرسل لأن الحسن تابعي، وانظر مابعده.
حدیث نمبر: 7895
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، أَخْبَرَنِي عَوْفٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7895]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422.