🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7896
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ، يُحِبُّ الْوِتْرَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7896]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6410، م: 2677.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7897
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نُهِيَ عَنِ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ" . قَالَ: قُلْنَا لِهِشَامٍ: مَا الِاخْتِصَارُ؟ قَالَ: يَضَعُ يَدَهُ عَلَى خَصْرِهِ وَهُوَ يُصَلِّي. قَالَ يَزِيدُ: قُلْنَا لِهِشَامٍ: ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ بِرَأْسِهِ، أَيْ: نَعَمْ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7897]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1220، م: 545.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7898
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ إِذَا أَمْسَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ تَضُرَّهُ حُمَةٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ" . قَالَ: فَكَانَ أَهْلُنَا قَدْ تَعَلَّمُوهَا، فَكَانُوا يَقُولُونَهَا، فَلُدِغَتْ جَارِيَةٌ مِنْهُمْ، فَلَمْ تَجِدْ لَهَا وَجَعًا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شام ہونے پر تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق۔ اس رات اسے کوئی زہریلی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی ہمارے اہل خانہ نے اس دعا کو سیکھ رکھا تھا اور وہ دعا کو پڑھتے تھے اتفاق سے ایک مرتبہ ہماری ایک بچی کو کسی چیز نے ڈس لیا لیکن اسے کسی قسم کا کوئی درد محسوس نہ ہوا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7898]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2709.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7899
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَهِدَ جَنَازَةً سَأَلَ:" هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟" فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ لَهُ وَفَاءٌ؟" فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنْ قَالُوا: لَا، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ، قَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے یہ سوال پوچھتے کہ اس شخص پر کوئی قرض ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ اسے ادا کرنے کے لئے اس نے کچھ مال چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر وہ ناں میں جواب دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو پھر اللہ نے فتوحات کا دروازہ کھولا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ میں مؤمنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7899]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7900
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنِ ابْنِ مِكْرَزٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضَ الدُّنْيَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَجْرَ لَهُ"، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، وَقَالُوا لِلرَّجُلِ: عُدْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَعَلَّهُ لَمْ يَفْهَمْ. فَعَادَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضَ الدُّنْيَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا أَجْرَ لَهُ"، ثُمَّ عَادَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا أَجْرَ لَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس کا مقصد دنیاوی ساز و سامان کا حصول ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا لوگوں پر یہ چیز بڑی گراں گذری انہوں نے اس آدمی سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ مسئلہ پوچھو ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات اچھی طرح نہ سمجھ سکے ہوں اس نے دوبارہ وہی سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا اس نے سہ بارہ وہی سوال کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7900]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن مكرز مجهول.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7901
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نماز میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے، نامکمل ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7901]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 395.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7902
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَ مِصْرِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَوَّلُ شَيْءٍ ما يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ الْمَكْتُوبَةُ، فَإِنْ صَلَحَتْ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً: فَإِنْ أَتَمَّهَا، وَإِلَّا زِيدَ فِيهَا مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ يُفْعَلُ بِسَائِرِ الْأَعْمَالِ الْمَفْرُوضَةِ كَذَلِكَ" .
انس بن حکیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تم اپنے شہر والوں کے پاس پہنچو تو انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہوگی اگر وہ صحیح نکل آئی تو بہت اچھا ورنہ نوافل کے ذریعے اس میں اضافہ کیا جائے اس کے بعد دیگر فرض اعمال میں بھی اسی طرح کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7902]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أنس مجهول، وعلي ضعيف.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7903
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، فَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَمْحُو الصَّلِيبَ، وَتُجْمَعُ لَهُ الصَّلَاةُ، وَيُعْطَى الْمَالُ حَتَّى لَا يُقْبَلَ، وَيَضَعُ الْخَرَاجَ، وَيَنْزِلُ الرَّوْحَاءَ، فَيَحُجُّ مِنْهَا أَوْ يَعْتَمِرُ، أَوْ يَجْمَعُهُمَا" . قَالَ: وَتَلَا أَبُو هُرَيْرَةَ: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا سورة النساء آية 159، فَزَعَمَ حَنْظَلَةُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: يُؤْمِنُ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ: عِيسَى. فَلَا أَدْرِي، هَذَا كُلُّهُ حَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ شَيْءٌ قَالَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ؟!.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے نماز قائم کریں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور روحاء میں پڑاؤ کر کے وہاں سے حج یا عمرے یا دونوں کا احرام باندھیں گے پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی اہل کتاب میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہے جو ان کی وفات سے قبل ان پر ایمان نہ لے آئے اور وہ قیامت کے دن ان سب پر گواہ ہوں گے حنظلہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یومن کا فاعل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیتے ہیں اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ مکمل حدیث ہے یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7903]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1252.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7904
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُرَيْشٌ، وَالْأَنْصَارُ، وَجُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارٌ، وَأَشْجَعُ: مَوَالِيَّ، لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش انصار جہینہ مزینہ اسلم غفار اور اشجع نامی قبائل میرے موالی ہیں اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ان کا کوئی مولیٰ نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7904]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3504، م: 2520، وهذا إسناد ضعيف، المسعودي مختلط.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7905
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، وَأَبُو النَّضْرِ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، الْمَعْنَى، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ بُيِّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ومَسِيحُ الضَّلَالَةِ، فَكَانَ تَلَاحٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ، فَأَتَيْتُهُمَا لِأَحْجِزَ بَيْنَهُمَا، فَأُنْسِيتُهُمَا، وَسَأَشْدُو لَكُمْ مِنْهُمَا شَدْوًا: أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ، فَإِنَّهُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ، أَجْلَى الْجَبْهَةِ، عَرِيضُ النَّحْرِ، فِيهِ دَفَاً، كَأَنَّهُ قَطَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَضُرُّنِي شَبَهُهُ؟ قَالَ:" لَا، أَنْتَ امْرُؤٌ مُسْلِمٌ، وَهُوَ امْرُؤٌ كَافِرٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے پاس آنے کے لئے گھر سے نکلا تھا درحقیقت لیلۃ القدر اور مسیح الضلالۃ (دجال) کی تعیین مجھ پر واضح کردی گئی تھی لیکن مسجد کے ایک دروازے کے قریب دو آدمیوں کے درمیان کچھ جھگڑا ہو رہا تھا میں نے ان دونوں کے درمیان معاملہ رفع دفع کرانے کے لئے آیا تو مجھے وہ دونوں چیزیں بھول گئیں البتہ میں تمہیں اس کی علامت کا کچھ اندازہ بتائے دیتا ہوں۔ جہاں تک شب قدر کا تعلق ہے تو تم اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو باقی رہامسیح ضلالت تو وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا کشادہ پیشانی اور چوڑے سینے والا ہوگا اس کے جسم میں کندھے کا جھکاؤ سینہ کی طرف ہوگا اور وہ قطن بن عبد العزی کے مشابہہ ہوگا یہ سن کر قطن کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس سے مشابہت میرے لئے نقصان دہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تم ایک مسلمان آدمی ہو اور وہ کافر ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7905]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں