🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7916
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ مِمَّنْ حَوْلَ الْمَسْجِدِ لَا يَشْهَدُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي الْجَمِيعِ، أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ حَوْلَ بُيُوتِهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد کے اردگرد رہنے والے جو لوگ نماز عشاء میں نہیں آتے وہ نماز ترک کرنے سے باز آجائیں ورنہ میں ان کے گھروں کے پاس لکڑیوں کے گٹھے جمع کرکے انہیں آگ لگا دوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7916]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2420، م: 651.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7917
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُعْطِيَتْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فِي رَمَضَانَ، لَمْ تُعْطَهَا أُمَّةٌ قَبْلَهُمْ: خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُمْ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُفْطِرُوا، وَيُزَيِّنُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ جَنَّتَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: " يُوشِكُ عِبَادِي الصَّالِحُونَ أَنْ يُلْقُوا عَنْهُمْ الْمَئُونَةَ وَالْأَذَى وَيَصِيرُوا إِلَيْكِ، وَيُصَفَّدُ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ، فَلَا يَخْلُصُوا إِلَى مَا كَانُوا يَخْلُصُونَ إِلَيْهِ فِي غَيْرِهِ، وَيُغْفَرُ لَهُمْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو رمضان میں پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے افطار تک فرشتے ان کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ روزانہ جنت کو مزین فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ عنقریب میرے نیک بندے اپنے اوپر سے محنت و تکلیف کو اتار پھینکیں گے اور تیرے پاس آئیں گے اس مہینے میں سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ لہٰذا غیر رمضان میں انہیں جو آزادی حاصل ہوتی ہے وہ اس میہنے میں نہیں ہوتی اور ماہ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی بخشش کردی جاتی ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہی شب قد رہے؟ فرمایا نہیں البتہ بات یہ ہے کہ جب مزدور اپنی مزدوری پوری کرلے تو اسے اس کی تنخواہ پوری پوری دے دی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7917]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا، هشام متفق على ضعفه، ومحمد مجهول الحال.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7918
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً، فَعَوَّضَهُ منها سِتَّ بَكَرَاتٍ، فَتَسَخَّطَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ فُلَانًا أَهْدَى إِلَيَّ نَاقَةً، وَهِيَ نَاقَتِي، أَعْرِفُهَا كَمَا أَعْرِفُ بَعْضَ أَهْلِي، ذَهَبَتْ مِنِّي يَوْمَ زَغَابَاتٍ، فَعَوَّضْتُهُ سِتَّ بَكَرَاتٍ، فَظَلَّ سَاخِطًا، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوان اونٹ کا ہدیہ پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھ جوان اونٹ عطا فرمائے لیکن وہ اس پر بھی ناخوش رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ فلاں آدمی نے مجھے اونٹ ہدیہ کے طور پر دیا حالانکہ وہ میرا ہی اونٹ تھا اور میں اسے اسی طرح پہنچاتا تھا جیسے اپنے کسی گھر والے کو پہچانتا ہوں یوم زغابات کے موقع پر وہ میرے ہاتھ سے نکل گیا تھا (لیکن پھر بھی میں نے اسے قبول کرلیا) اور اسے چھ جوان اونٹ دیئے تاہم وہ اس پر بھی ناخوش ہے میں تو یہ ارادہ کر رہا ہوں کہ آئندہ کسی شخص سے ہدیہ قبول نہ کروں سوائے اس کے جو قریش یا انصار یا ثقیف یا دوس سے تعلق رکھتا ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7918]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر، لكنه قد توبع.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7919
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَرَجَ رَجُلٌ يَزُورُ أَخًا لَهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، فَأَرْصَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فَلَمَّا مَرَّ بِهِ قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ فُلَانًا. قَالَ: لِقَرَابَةٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلِنِعْمَةٍ لَهُ عِنْدَكَ تَرُبُّهَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلِمَ تَأْتِيهِ؟ قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهُ فِي اللَّهِ. قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ. أَنَّهُ يُحِبُّكَ بِحُبِّكَ إِيَّاهُ فِيهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے لئے جو دوسری بستی میں رہتا تھا روانہ ہوا اللہ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جب وہ فرشتے کے پاس سے گذرا تو فرشتے نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ فلاں آدمی سے ملاقات کے لئے جا رہا ہوں فرشتے نے پوچھا کیا تم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا کہ کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جسے تم پال رہے ہو؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا پھر تم اس کے پاس کیوں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا کہ میں اللہ کے پاس سے تیری طرف قاصد بن کر آیا ہوں کہ اس کے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7919]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2567.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7920
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ فَرْقَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَكْذَبُ النَّاسِ، أَوْ مِنْ أَكْذَبِ النَّاسِ الصَّوَّاغُونَ وَالصَّبَّاغُونَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑھ کر جھوٹے لوگ رنگریز اور زرگر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7920]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، فرقد ضعيف.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7921
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ، فَلْيَقْبَلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ بن مانگے کچھ مال و دولت عطا فرما دے تو اسے قبول کرلینا چاہئے کیونکہ یہ رزق ہے جو اللہ نے اس کے پاس بھیجا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7921]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عبدالملك، فلم يتبين من هو.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7922
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: " مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے وہ مامون ہے اور جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ بھی مامون ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7922]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1780.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7923
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7923]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7924
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَسَيِّدَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہے تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7924]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7925
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ" . قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، هُوَ أَبُو بَنِي شَيْبَةَ. حدثني أبي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِتِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ حَدِيثًا، ثُمَّ أَتَمَّهَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَمَامَ مِائَةِ حَدِيثٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لذتوں کو توڑنے والی چیز موت کا تذکرہ کثرت سے کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7925]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں