مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7996
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الْقَرْنَاءِ تَنْطَحُهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7996]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2582.
حدیث نمبر: 7997
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيِّ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ زِيَادُ بْنُ حُدَيْرٍ : " وَدِدْتُ أَنِّي فِي حَيِّزٍ مِنْ حَدِيدٍ، مَعِي مَا يُصْلِحُنِي، لَا أُكَلِّمُ النَّاسَ وَلَا يُكَلِّمُونِي" .
زیاد بن حدیر کہتے ہیں کہ میری خواہش تو یہ ہے کہ میں لوہے کی کسی ایسی جگہ پر ہوں جہاں میرے پاس صرف ضرورت کی چیزیں ہوں نہ میں کسی سے بات کروں اور نہ کوئی مجھ سے بات کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7997]
الحكم على الحديث:
هذا أثر وليس بحديث.
حدیث نمبر: 7998
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: " لَا يَرُدُّ مِنَ الْقَدَرِ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے تقدیر ٹل نہیں سکتی البتہ منت کے ذریعے بخیل آدمی سے مال نکلوا لیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7998]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6694، م: 1640.
حدیث نمبر: 7999
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّهُ قَالَ: " أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ، فَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا فَأَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي، فَأَنَا بَرِيءٌ مِنْهُ، وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ میں تمام شرکاء میں سب سے بہتر ہوں جو شخص کوئی عمل سر انجام دے اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کرے تو میں اس سے بیزار ہوں اور وہ عمل اسی کا ہوگا جسے اس نے میرا شریک قرار دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7999]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2985.
حدیث نمبر: 8000
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، قال: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ، مَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا فَأَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي، فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ، وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ میں تمام شرکاء میں سب سے بہتر ہوں جو شخص کوئی عمل سر انجام دے اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کرے تو میں اس سے بیزار ہوں اور وہ عمل اسی کا ہوگا جسے اس نے میرا شریک قرار دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8000]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 8001
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ أَبَا الْقَاسِمِ صَاحِبَ الْحُجْرَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ" . قَالَ شُعْبَةُ: كَتَبَ بِهِ إِلَيَّ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، يَعْنِي مَنْصُورًا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے صادق و مصدوق ابوالقاسم صاحب الحجرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رحمت اسی شخص سے کھینچتی جاتی ہے جو خود شقی ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8001]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8002
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور اس کا پانی زہر کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8002]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 8003
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي زِيَادٍ الطَّحَّانِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَشْرَبُ قَائِمًا، فَقَالَ لَهُ:" قِه"، قَالَ: لِمَهْ؟ قَالَ:" أَيَسُرُّكَ أَنْ يَشْرَبَ مَعَكَ الْهِرُّ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَإِنَّهُ قَدْ شَرِبَ مَعَكَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ، الشَّيْطَانُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھڑے ہو کر پانی پیتے ہوئے دیکھا تو اس سے فرمایا اسے قے کردو اس نے پوچھا کیوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہارے ساتھ کوئی بلا پانی پیئے؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ساتھ بلے سے بھی زیادہ شر والی چیز نے پانی پیا ہے اور وہ ہے شیطان۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8003]
الحكم على الحديث:
هذا الحديث غريب، تفرد بروايته أبو زياد، والغرابة بينة فى متنه
حدیث نمبر: 8004
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8004]
الحكم على الحديث:
هو مكررما قبله
حدیث نمبر: 8005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ"، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ" . قال عبد الله بن أحمد: وقَالَ أَبِي فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: اضْرِبْ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ، فَإِنَّهُ خِلَافُ الْأَحَادِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي قَوْلَهُ:" اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَاصْبِرُوا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو قریش کا یہ قبیلہ ہلاک کردے گا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا اگر لوگ الگ ہی رہیں تو بہتر ہے عبداللہ بن احمد۔ جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے ہیں کہتے ہیں کہ میرے والد نے مرض الموت میں فرمایا اس حدیث پر نشان لگا دو کیونکہ یہ دیگر احادیث کے خلاف ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی بات سنو اطاعت کرو اور صبر کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8005]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3604، م: 2917