مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 7956
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7956]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، شتير مجهول.
حدیث نمبر: 7957
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " أَنَا وَمَنْ مَعِي"، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الَّذِي عَلَى الْأَثَرِ"، قِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فَرَفَضَهُمْ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے بہتر انسان کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور میرے ساتھی پوچھا گیا اس کے بعد کون لوگ؟ فرمایا جو ہمارے بعد ہوں گے پوچھا گیا اس کے بعد؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7957]
الحكم على الحديث:
إسناده جيد.
حدیث نمبر: 7958
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُرِيدُ بِهَا بَأْسًا، يَهْوِي بِهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا فِي النَّارِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات انسان کوئی بات کرتا ہے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں ستر سال تک جہنم میں لڑھکتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7958]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6478.
حدیث نمبر: 7959
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلًى لِأَبِي رُهْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ لَقِيَ امْرَأَةً، فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ إِعْصَارٍ طَيِّبَةً، فَقَالَ لَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ: الْمَسْجِدَ تُرِيدِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ فَيَقْبَلُ اللَّهُ لَهَا صَلَاةً حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنْهُ اغْتِسَالَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ" ، فَاذْهَبِي فَاغْتَسِلِي.
ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہوگیا جس نے خوشبو لگا رکھی تھی؟ انہوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارا مسجد کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا جی ہاں انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبولگا رکھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے لہٰذا تم جا کر اسے دھو دو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7959]
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبدالله.
حدیث نمبر: 7960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، قَالَ: قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، إِنَّهُ سَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ"، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ:" فُوابِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ، وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ" .
ابوحازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھنے کا شرف پانچ سال تک حاصل ہوا ہے میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں ملکی نظم و نسق انبیاء کرام علیہماالسلام ہی چلایا کرتے تھے جب ایک نبی رخصت ہوتے تو دوسرے نبی ان کے جانشین بن جاتے لیکن میرے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں ہے اس لئے اس امت میں خلفاء ہوں گے اور خوب ہوں گے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درجہ بدرجہ ہر ایک کی بیعت پوری کرو اور انہیں ان کا وہ حق دو جو اللہ نے ان کے لئے مقرر کیا ہے کیونکہ اللہ ان سے ان کی رعایا کے متعلق خود ہی پوچھ گچھ کرلے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7960]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3455، م: 1842.
حدیث نمبر: 7961
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ ، يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ، قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جو میں صبح وشام پڑھ لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو کہ اے اللہ اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے ظاہر اور پوشیدہ سب کچھ جاننے والے ہر چیز کے پالنہار اور مالک میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہوسکتا میں اپنی ذات کے شر شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں یہ کلمات صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت کہہ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7961]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرَ وَالْمَاءَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارے پاس سوائے دو کالی چیزوں کھجور اور پانی کے کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7962]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7963
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: هَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: شَهْرًا، فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ عَلَى حَصِيرٍ، قَدْ أَثَّرَ الْحَصِيرُ بِظَهْرِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كِسْرَى يَشْرَبُونَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَأَنْتَ هَكَذَا! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي حَيَاتِهِمْ الدُّنْيَا". ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ، هَكَذَا وَهَكَذَا، وَكَسَرَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو (ایک مہینہ) کے لئے چھوڑ دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کمرے میں چٹائی پر تشریف فرما تھے جس کے نشانات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک پر پڑگئے تھے یہ دیکھ کر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (قیصر و) کسریٰ تو سونے چاندی کے برتنوں میں پانی پئیں اور آپ اس حال میں رہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کو عمدہ چیزیں فوری طور پر اسی دنیا کی زندگی میں دے دی گئی ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مہینہ ٢٩ کا بھی ہوتا ہے اتنا اتنا اور تیسری مرتبہ میں انگوٹھا بند کرلیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7963]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7964
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ " يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ جَهَنَّمَ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عذاب جہنم سے عذاب قبر سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7964]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588.
حدیث نمبر: 7965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ جُوعٌ، قَالَ: وَنَحْنُ سَبْعَةٌ، قال: " فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ، لِكُلِّ إِنْسَانٍ تَمْرَةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں بھوک نے ستایا ہم سات افراد تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات کھجوریں عطاء فرمائیں ہر آدمی کے لئے صرف ایک کھجور تھی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7965]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.