مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8325
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا زَارَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَوْ عَادَهُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: طِبْتَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات یا بیمار پرسی کے لئے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو کامیاب ہوگیا اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8325]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبي سنان
حدیث نمبر: 8326
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ السَّهْمِيَّ قَامَ يُصَلِّي، فَجَهَرَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا ابْنَ حُذَافَةَ، " لَا تُسْمِعْنِي وَأَسْمِعْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو اس میں اونچی آواز سے قرأت کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن حذافہ! مجھے نہ سناؤ اپنے پروردگار کو سناؤ۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8326]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف النعمان
حدیث نمبر: 8327
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: ثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَنَا وَدَعَا اللَّه عز وجلَّّّّّّّّّ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَهُ، ثُمَّ قَلَبَ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ، وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ نماز استسقاء کے لئے باہر نکلے اور بغیر اذان و اقامت کے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ سے دعاء کرتے رہے اور اپنا چہرہ قبلے کی جانب پھیرلیا ہاتھ بلند کر لئے تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر پلٹ لی اور دائیں کندھے پر اور بائیں کو نے کو دائیں کندھے پر رکھ لیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8327]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، النعمان ضعيف
حدیث نمبر: 8328
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبو سلمة , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام إِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے ہم حقدار ہیں کیونکہ انہوں نے فرمایا تھا کہ پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟ اللہ نے فرمایا کیا تم ایمان نہیں لائے عرض کیا کیوں نہیں لیکن میں اپنے دل کو مطمئن کرنا چاہتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8328]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3372، م: 151
حدیث نمبر: 8329
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ، لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ" .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں حضرت لوط علیہ السلام پر وہ ایک مضبوط ستون کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے اور اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تو میں آنے والے کی پیشکش کو قبول کرلیتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8329]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3387، م: 151
حدیث نمبر: 8330
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، وَلَا يُنَجِّيهِ مِنَ النَّارِ"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي بِرَحْمَةٍ مِنْهُ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ وَهْبٌ يَقْبِضُهَا، وَيَبْسُطُهَا .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل کر کے جہنم سے نجات نہیں دلا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8330]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 8331
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکثر عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8331]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8332
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا رُزَيْقٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلْمَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِالسَّمَاءِ"، يَعْنِي: ذَاتِ الْبُرُوجِ، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں اکثر سورت بروج اور سورت طارق کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8332]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو المهزم ضعيف
حدیث نمبر: 8333
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبَّادٍ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُهَزِّمِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ أَنْ يُقْرَأَ بِالسَّماَوَاتِ فِي الْعِشَاءِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں لفظ سماء سے شروع ہونے والی سورتوں کی تلاوت کا حکم دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8333]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8334
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا، ورضَي َلُكْم َثَلًاثا: رَضِيَ لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا، وَأَنْ تَنْصَحُوا لِوُلَاةِ الْأَمْرِ، وَكَرِهَ لَكُمْ: قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے لئے تین باتوں کو ناپسند اور تین باتوں کو پسند کیا ہے پسند تو اس بات کو کیا ہے کہ تم صرف اس ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور حکمرانوں کے خیرخواہ رہو اور ناپسند اس بات کو کیا ہے کہ زیادہ قیل و قال کی جائے مال کو ضائع کیا جائے اور کثرت سے سوال کئے جائیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8334]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1715