مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8296
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي، وَقَرَّتْ عَيْنِي، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْء..." فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8296]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8297
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دَخَلَ هَذَا الْمَسْجِدَ فَبَزَقَ أَوْ تَنَخَّمَ، أَوْ تَنَخَّعَ، فَلْيَحْفِرْ فِيهِ وَلْيُبْعِدْ، فَلْيَدْفِنْهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَفِي ثَوْبِهِ ثُمَّ لِيَخْرُجْ بِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر ناک صاف کرنا یا تھوکنا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ دور چلا جائے اور اسے دفن کر دے اگر ایسا نہ کرسکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8297]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 416، م: 550
حدیث نمبر: 8298
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقُتِلَ، فَهُوَ شَهِيدٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کا مال ناحق اس سے چھیننے کی کوشش کی جائے اور وہ اس کی حفاطت کرتے ہوئے مارا جائے تو وہ شہید ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8298]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 140
حدیث نمبر: 8299
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ تَمْرٍ، فَجَعَلْتُهُ فِي مِكْتَلٍ لَنَا، فَعَلَّقْنَاهُ فِي سَقْفِ الْبَيْتِ، فَلَمْ نَزَلْ نَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى كَانَ آخِرُهُ أَصَابَهُ أَهْلُ الشَّامِ حَيْثُ أَغَارُوا عَلَى الْمَدِينَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ کھجوریں عطاء فرمائیں میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھ لیا اور اس تھیلی کو اپنے گھر کی چھت میں لٹکا لیا ہم اس میں سے کھجور نکال کر کھاتے رہتے (لیکن وہ کم نہ ہوتیں) لیکن جب شام والوں نے مدینہ منورہ پر حملہ کیا تو وہ ان کے ہاتھ لگ گئی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8299]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وقوله فى هذا الحديث: « أصابه أهل الشام » وهم لعله وقع من أحد الرواة
حدیث نمبر: 8300
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، حَدَّثَنَا عَمْروُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلَّمَ: " الزَّانِي الْمَجْلُودُ لَا يَنْكِحُ إِلَّا مِثْلَةُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوڑوں سے پٹا ہوا زانی اپنے ہی جیسے رشتے سے نکاح کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8300]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8301
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: أَقَمْتُ بِالْمَدِينَةِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ سَنَةً، فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا لَنَا ثِيَابٌ إِلَّا الْبِرَادُ الْمُفَتَّقَةُ، وَإِنَّهُ لَيَأْتِي عَلَى أَحَدِنَا الْأَيَّامُ مَا يَجِدُ طَعَامًا يُقِيمُ بِهِ صُلْبَهُ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَأْخُذُ الْحَجَرَ فَيَشُدُّهُ عَلَى أَخْمَصِ بَطْنِهِ، ثُمَّ يَشُدُّهُ بِثَوْبِهِ لِيُقِيمَ بِهِ صُلْبَه، " فَقَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَنَا تَمْرًا"، فَأَصَابَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَبْعَ تَمَرَاتٍ فِيهِنَّ حَشَفَةٌ، فَمَا سَرَّنِي أَنَّ لِي مَكَانَهَا تَمْرَةً جَيِّدَةً، قَالَ: قُلْتُ: لِم؟ قَالَ: تَشُدُّ لِي مِنْ مَضْغِي . قَالَ: فَقَالَ لِي: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ قُلْتُ مِنَ الشَّامِ، قَالَ: فَقَالَ لِي: هَلْ رَأَيْتَ حَجَرَ مُوسَى؟ قُلْتُ: وَمَا حَجَرُ مُوسَى؟ قَالَ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالُوا لِمُوسَى قَوْلًا تَحْتَ ثِيَابِهِ فِي مَذَاكِيرِهِ، قَالَ: فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ، قَالَ: فَسَعَتْ ثِيَابُهُ، قَالَ: فَتَبِعَهَا فِي أَثَرِهَا وَهُوَ يَقُولُ: يَا حَجَرُ، أَلْقِ ثِيَابِي، حَتَّى أَتَتْ بِهِ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَرَأَوْا مُسْتَوِيًا حَسَنَ الْخَلْقِ، فَلَجَبَهُ ثَلَاثَ لَجَبَاتٍ، فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، لَوْ كُنْتُ نَظَرْتُ، لَرَأَيْتُ لَجَبَاتِ مُوسَى فِيهِ .
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں ایک سال تک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی رفاقت میں رہا ہوں ایک دن جب کہ ہم حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے قریب تھے وہ مجھ سے کہنے لگے کہ میں نے اپنے آپ پر وہ وقت بھی دیکھا ہے کہ ہمارے پاس سوائے پھٹی پرانی چادروں کے کوئی دوسرے کپڑے نہ ہوتے تھے اور ہم پر کئی کئی دن ایسے گذر جاتے تھے کہ اتنا کھانا بھی نہ ملتا تھا جس سے کمر سیدھی ہوجائے حتی کہ ہم لوگ اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے تاکہ اسی کے ذریعے کمر سیدھی ہوجائے۔ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان کچھ کجھوریں تقسیم فرمائیں اور ہم میں سے ہر ایک کے حصے میں سات سات کھجوریں آئیں جن میں ایک کھجور گدر بھی تھی مجھے اس کی جگہ عمدہ کھجور ملنے کی کوئی تمنا نہ پیدا ہوئی میں نے پوچھا کیوں؟ فرمایا مجھے چبانے میں دشواری ہوتی پھر مجھ سے فرمایا تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا شام سے فرمایا کیا تم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پتھر دیکھا ہے؟ میں نے پوچھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کیسا پتھر ہے؟ فرمایا کہ ایک مرتبہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرمگاہ کے متعلق انتہائی نازیبا باتیں کہیں ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غسل کرنے کے لئے اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھے وہ ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے دے دے اے پتھر میرے کپڑے دے دے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کے پاس پہنچ کر رک گیا انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو بالکل تندرست ہیں اور ان کی جسامت بھی انتہائی عمدہ ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غصے میں آ کر اس پتھر پر تین ضربیں لگائیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے اگر میں اسے دیکھ پاتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ضربوں کے نشان بھی نظر آجاتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8301]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8302
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَكْذَبَ النَّاسِ الصَّوَّاغُونَ، وَالصَّبَّاغُونَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑھ کر جھوٹے رنگریز اور زرگر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8302]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، فرقد ضعيف
حدیث نمبر: 8303
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: ثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَبَادَرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّال، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ" ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا قَالَ:" وَأَمْرَ الْعَامَّةِ"، قَالَ: وَأَمْرَ السَّاعَةِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھ واقعات رونما ہونے سے قبل اعمال صالحہ میں سبقت کرلو سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا خروج، دھواں چھاجانا، دابۃ الارض کا خروج تم میں سے کسی خاص آدمی کی موت یا سب کی عمومی موت۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8303]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2947
حدیث نمبر: 8304
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَدِّي سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدِ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ" ، قَالَ مَرْوَانُ: وَهُوَ مَعَنَا فِي الْحَلْقَةِ قَبْلَ أَنْ يَلِيَ شَيْئًا , فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ غِلْمَةً، قَالَ: وَأَمَا وَاللَّهِ لَوْ أَشَاءُ أَقُولُ: بَنُو فُلَانٍ وَبَنُو فُلَانٍ، لَفَعَلْتُ، قَالَ: فَقُمْتُ أَخْرُجُ أَنَا مَعَ أَبِي وَجَدِّي إِلَى مَرْوَانَ بَعْدَمَا مُلِّكُوا، فَإِذَا هُمْ يُبَايِعُونَ الصِّبْيَانَ مِنْهُمْ، وَمَنْ يُبَايِعُ لَهُ وَهُوَ فِي خِرْقَةٍ، قَالَ لَنَا: هَلْ عَسَى أَصْحَابُكُمْ هَؤُلَاءِ أَنْ يَكُونُوا الَّذِينَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ أَنَّ هَذِهِ الْمُلُوكَ يُشْبِهُ بَعْضُهَا بَعْضًا؟.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی یہ حدیث سن کر مروان نے جو ہمارے ساتھ درس حدیث کے حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ابھی گورنر نہیں بنا تھا کہا کہ ان لڑکوں پر اللہ کی لعنت ہو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ اگر میں چاہوں تو ان کے قبیلوں کے نام تک بتاسکتا ہوں راوی کہتے ہیں کہ جب مروان گورنر بن گیا تو میں اپنے والد اور دادا کے ساتھ روانہ ہوا وہ لوگ بچوں سے بھی بیعت لے رہے تھے اور جس کے لئے بیعت لے رہے تھے وہ ایک چادر میں لپٹا ہوا تھا اس نے ہم سے کہا کہ شاید تمہارے ان ساتھیوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بادشاہوں کے متعلق ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہو کہ یہ ایک دوسرے کے مشابہہ ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8304]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3605
حدیث نمبر: 8305
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ: الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْم، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہداء پانچ طرح کے لوگ ہیں طاعون میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے گر کر مرنا بھی شہادت ہے جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8305]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 653، م: 1914