مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8286
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ يَعْنِي مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِيَدِهِ رَايَتَان رَايَةٌ بِيَدِ مَلَكٍ، وَرَايَةٌ بِيَدِ شَيْطَانٍ، فَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، اتَّبَعَهُ الْمَلَكُ بِرَايَتِهِ، فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الْمَلَكِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ، وَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُسْخِطُ اللَّهَ، اتَّبَعَهُ الشَّيْطَانُ بِرَايَتِهِ، فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الشَّيْطَانِ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بھی کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ایک جھنڈا فرشتے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور دوسرا شیطان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اگر وہ اللہ کی رضا والے عمل کے لئے نکلتا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے پیچھے راونہ ہوجاتا ہے اور وہ گھر لوٹنے تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہوتا ہے اور اگر وہ اللہ کی ناراضگی والے عمل کے لئے نکلتا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے روانہ ہوجاتا ہے اور وہ گھر واپس آنے تک شیطان کے جھنڈے تلے رہتا ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8286]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8287
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: " لَعَنَ َرسولُ اللَّهِ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ" .
حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8287]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8288
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قَالَ: " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا، حَتَّى تُقَادَ الشَّاةُ الْجَمَّاءُ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8288]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2582
حدیث نمبر: 8289
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا مؤمن کے لئے قیدخانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8289]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2956
حدیث نمبر: 8290
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِير ، عَنِ ابْنِ يَعْقُوبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ الْمُفَرِّدُون؟ قَالَ" الَّذِينَ يُهْتَرُونَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مفردون سبقت لے گئے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ مفردون کون لوگ ہوتے ہیں؟ فرمایا جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8290]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2676
حدیث نمبر: 8291
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ" ، قال عبد الله بن أحمد: وَفِي كِتَابِ أَبِي: وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَا أَدْرِي حَدَّثَنَا بِهِ أَمْ لَا!.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے (میرے والد صاحب کی کتاب میں یہ بھی تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کا قد ساٹھ ہاتھ تھا اب مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے ہم سے یہ بیان کیا تھا یا نہیں)؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8291]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2612
حدیث نمبر: 8292
حَدَّثَنا َأَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْيَمَامِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا يَمَامِيُّ، لَا تَقُولَنَّ لِرَجُلٍ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا، قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنَّ هَذِهِ لَكَلِمَةٌ يَقُولُهَا أَحَدُنَا لِأَخِيهِ وَصَاحِبِهِ إِذَا غَضِبَ، قَالَ: فَلَا تَقُلْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلَانِ، كَانَ أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدًا فِي الْعِبَادَةِ، وَكَانَ الْآخَرُ مُسْرِفًا عَلَى نَفْسِهِ، فَكَانَا مُتَآخِيَيْنِ، فَكَانَ الْمُجْتَهِدُ لَا يَزَالُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى ذَنْبٍ، فَيَقُولُ: يَا هَذَا، أَقْصِرْ، فَيَقُولُ: خَلِّنِي وَرَبِّي، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟! قَالَ: إِلَى أَنْ رَآهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ اسْتَعْظَمَهُ، فَقَالَ لَهُ: وَيْحَكَ، أَقْصِرْ، قَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟! قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا، قَالَ: أَحَدُهُمَا، قَالَ: فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمَا مَلَكًا، فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، وَاجْتَمَعَا عنده، فَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، وَقَالَ لِلْآخَرِ: أَكُنْتَ بِي عَالِمًا، أَكُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي خَازِنًا، اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ، لَتَكَلَّمَ بِالْكَلِمَةِ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ" .
ضمضم بن جوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے یمامی کسی آدمی کے متعلق یہ ہرگز نہ کہنا کہ واللہ تیری بخشش کبھی نہیں ہوگی یا اللہ تجھے کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا میں نے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ یہ تو ہم میں سے ہر شخص غصہ کے وقت اپنے بھائی اور ساتھی سے کہہ دیتا ہے؟ فرمایا لیکن تم پھر بھی نہ کہنا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے ان میں سے ایک بڑا عبادت گذار تھا اور دوسرا بہت بدکار وگناہگار تھا عبادت گذار نے گناہگار سے یہ کہہ دیا کہ واللہ تیری کبھی بخشش نہ ہوگی یا اللہ تجھے کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ اللہ نے ان دونوں کے پاس ملک الموت کو بھیجا اور اس نے دونوں کی روح قبض کرلی اور وہ دونوں اللہ کے حضور اکٹھے ہوئے اللہ نے گناہگار سے فرمایا کہ تو میرے رحم و کرم سے جا اور جنت میں داخل ہوجا اور دوسرے سے فرمایا کیا تو میرے فیصلوں کو جانتا تھا؟ کیا تو میرے قبضے میں موجود ہوگیا تھا؟ اسے جہنم میں لے جاؤ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اس نے صرف ایک کلمہ ایسا بولا جس نے اس کی دنیا و آخرت کو تباہ و برباد کردیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8292]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن ومتنه غريب، تفرد به عكرمة، وقد روى أحاديث غرائب
حدیث نمبر: 8293
حَدَّثَنَا أَبُو عَاَمِرٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، مِنْ أَهْلِ قُبَاءَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُول: " إِنْ طَالَتْ بكْ مُدَّةٌ، أَوْشَكَ أَنْ تَرَوْا قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ، وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَةِ اللَّهِ، فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو عنقریب تم ایک ایسی قوم کو دیکھو گے جس کی صبح اللہ کی ناراضگی میں اور شام اللہ کی لعنت میں ہوگی اور ان کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح ڈنڈے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8293]
الحكم على الحديث:
صحيح، وإسناده قوي، م: 2857
حدیث نمبر: 8294
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ عُرِضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ، فَلْيَقْبَلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ بن مانگے کچھ مال و دولت عطاء فرما دیں تو اسے قبول کرلینا چاہئے کیونکہ یہ رزق ہے جو اللہ نے اس کے پاس بھیجا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8294]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عبدالملك فلم نتبين من هو
حدیث نمبر: 8295
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي، وَقَرَّتْ عَيْنِي، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، قَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْمَاءِ" . قَالَ: أَنْبِئْنِي بِأَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: " أَفْشِ السَّلَامَ، وَأَطْعِمْ الطَّعَامَ، وَصِلْ الْأَرْحَامَ، وَصَلِّ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلْ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ" ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: وَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور آنکھوں کو قرار آجاتا ہے آپ مجھے ہر چیز کی اصل بتائیے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئے کہ اگر میں اسے تھام لوں تو جنت میں داخل ہوجاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلام پھیلاؤ طعام کھلاؤ صلہ رحمی کرو اور راتوں کو جس وقت لوگ سو رہے ہوں تم قیام کرو اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8295]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح