مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8345
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ، وَعَرْضُ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانَ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مِثْلُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ الرَّبَذَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن کافر کی ایک ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی کھال کی چوڑائی ستر گز ہوگی اور اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہوگی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ میرے اور رہذہ کے درمیانی فاصلے جتنی ہوگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8345]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، م: 2851
حدیث نمبر: 8346
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ، فَعَطَسَ الشَّرِيفُ فَلَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَطَسَ الْآخَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَقَالَ الشَّرِيفُ عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَ هَذَا عِنْدَكَ فَشَمَّتَّهُ! فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ، وَإِنَّكَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت زیادہ معزز تھا لیکن اس نے چھینکے کے بعد الحمد اللہ نہیں کہا لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہیں دیا اور دوسرے نے الحمد اللہ کہا لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دے دیا وہ آدمی کہنے لگا کہ مجھے چھینک آئی تو آپ نے جواب نہیں دیا اور اسے چھینک آئی تو أپ نے اسے جواب دے دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے اللہ کو یاد کیا تھا چنانچہ میں نے بھی اسے یاد رکھا اور تم نے اسے بھلا دیا لہذا میں نے بھی تمہیں بھلا دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8346]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8347
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ، يَقُولُ: " هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ غِلْمَةٍ أُمَرَاءَ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مروان بن حکم کو حدیث سناتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ابوالقاسم جو کہ صادق و مصدوق تھے صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8347]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مالك
حدیث نمبر: 8348
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51 , وَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172 . ثُمَّ ذَكَرَ: " الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ، أَشْعَثَ أَغْبَرَ، ثُمَّ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ، يَا رَبّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟!" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! اللہ پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیزوں ہی کو قبول کرتا ہے اور اس نے عام مسلمانوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو پیغمبروں کو دیا ہے چنانچہ ارشاد ہے اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو میں تمہارے اعمال کو جانتا ہوں اور فرمایا اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھایا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کر کے آیا ہو اس کے بال بکھرے ہوئے ہوں گرد و غبار سے وہ اٹا ہوا ہو اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر یا رب یا رب کر رہا ہو جبکہ اس کا کھانا بھی حرام کا ہو پینا بھی حرام کا ہو لباس بھی حرام کا ہو اور اس کی غذا بھی حرام کی ہو تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8348]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8349
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ عَلَى الْوَحْدَةِ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8349]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 648، م: 649
حدیث نمبر: 8350
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُوَطِّنُ قَالَ ابْنُ أَبِي بَكْرٍ: لَا يُوَطِّنُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ حَتَّى يَخْرُجَ، كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان مسجد کو اپنا وطن بنائے اور اس کا مقصد صرف ذکر کرنا اور نماز پڑھنا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے کسی مسافر کے اپنے گھر پہنچنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8350]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات، لكن روي الحديث بزیادة رجل مجهول وهو الذي رجحه الدارقطني
حدیث نمبر: 8351
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَان ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَبَا قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَهُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہ کرنا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ کبھی آباد نہ ہوسکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8351]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8352
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ شَبْحَ الذِّرَاعَيْنِ، أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، يُقْبِلُ جَمِيعًا وَيُدْبِرُ جَمِيعًا، بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بھرے ہوئے۔ آنکھوں کی پلکیں لمبی اور گھنی اور دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری طرح متوجہ ہوتے اور پوری طرح رخ پھیرتے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ فحش گو یا بتکلف بےحیاء نہ بنتے تھے اور نہ ہی بازاروں میں شور مچاتے پھرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8352]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8353
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: ثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ذَكَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" أَنَّ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ لَيُحَاسَبُ بِصَلَاتِهِ، فَإذا نَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا، قِيلَ: لِمَ نَقَصْتَ مِنْهَا؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، سَلَّطْتَ عَلَيَّ مَلِيكًا شَغَلَنِي عَنْ صَلَاتِي، فَيَقُولُ: قَدْ رَأَيْتُكَ تَسْرِقُ مِنْ مَالِهِ لِنَفْسِكَ، فَهَلَّا سَرَقْتَ لِنَفْسِكَ مِنْ عَمَلِكَ أَوْ عَمَلِهِ , قَالَ: فَيَتَّخِذُ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحُجَّةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب عبد مملوک سے نماز کا حساب ہوگا اور اس میں کچھ کمی واقع ہوگی تو اس سے پوچھا جائے گا کہ تو نے اس میں کوتاہی کیوں کی؟ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار تو نے مجھ پر ایک مالک مسلط کر رکھا تھا جس نے مجھے نماز سے روکے رکھا اللہ فرمائے گا کہ میں نے تجھے اس کے مال میں سے اپنے لئے کچھ چوری کرتے ہوئے دیکھا تھا تو کیا اپنے لئے اس کا عمل نہیں چوری کرسکتا تھا؟ اس طرح اس پر حجت تمام ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8353]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، المبارك مشهور بالتدليس وقد عنعنه ، والحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8354
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فُضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كُلُّ سُلَامَى مِنَ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ حِينَ يُصْبِحُ" فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ سَلَامَكَ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتَكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ أَمْرَكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وإن َنَهْيَكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ" ، وَحَدَّثَ أَشْيَاءَ مِنْ نَحْوِ هَذَا لَمْ أَحْفَظْهَا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کے ہر جوڑ پر صبح کے وقت صدقہ واجب ہوتا ہے مسلمانوں کو یہ بات بڑی مشکل معلوم ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اللہ کے بندوں کو سلام کرنا بھی صدقہ ہے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی صدقہ ہے امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا بھی صدقہ ہے اس کے علاوہ بھی کچھ چیزیں بیان فرمائیں جو مجھے یاد نہیں رہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8354]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه