🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8722
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ وَلَا يَخْذُلُه، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ قَالَ إِسْمَاعِيلُ فِي حَدِيثِهِ: وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا، يُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثًا، بحَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ دھوکہ نہ دو بغض نہ رکھو۔ قطع تعلقی نہ کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔ اس پر ظلم نہیں کرتا اسے بےیارو مددگار نہیں چھوڑتا اس کی تحقیر نہیں کرتا ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان مال اور عزت و آبرو قابل احترام ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا کسی مسلمان کے شر کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8722]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناده جيد م: 2564
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8723
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ المُبَارَكٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا، قَالَ:" إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو ہمارے ساتھ مذاق بھی کرتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مذاق میں بھی ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8723]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8724
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي؟ قَالَ: " فَانْشُدْ اللَّهَ"، قال: فَإِنْ أَبَوْا، قال:" فانشُدِ اللهِ"، قال: فإنْ أَبَوْا، قال:" فَقَاتِلْ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص میرے مال پر دست درازی کرے تو میں کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اللہ کا واسطہ دو اس نے پوچھا اگر وہ نہ مانے تو؟ فرمایا پھر اللہ کا واسطہ دو تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے قتال کرو اگر تم مارے گئے تو جنت میں اور اگر تم نے اسے مار دیا تو جہنم میں جاؤگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8724]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 140، وسقط من هذا الإسناد عمرو من بين يزيد وابن مطرف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8725
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ" . " وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" . " وَلَا يَمْنَعْ فَضْلَ مَاءٍ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَأَ" . " وَمِنْ حَقِّ الْإِبِلِ أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ يَوْمَ وِرْدِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص پتھر سے استنجاء کرے تو طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔ جب کوئی کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ مار دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے۔ اور زائد پانی استعمال کرنے سے کسی کو روکا نہ جائے کہ اس کے ذریعے زائد گھاس روکی جا سکے۔ اور اونٹ کا حق ہے کہ جب اسے پانی کے گھاٹ پر لایا جائے تب اسے دوہا جائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8725]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن، خ: 2354، 161 م: 237، 1566
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8726
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا، فَعَمَّ وَخَصَّ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا مَعْشَرَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا مَعْشَرَ بَنِي هَاشِمٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبِلَالِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک قریش کے ہر بطن کو بلایا اور فرمایا اے گروہ قریش! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنو کعب بن لؤی اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنو عبد مناف اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنو ہاشم! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں البتہ قرابت داری کا جو تعلق ہے اس کی تری میں تم تک پہنچاتا رہوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8726]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2753، م: 204
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8727
حَدَّثَنَا حُسنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا" يَعْنِي فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8727]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8728
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ أَبَى"، قَالُوا: وَمَنْ يَأْبَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا ہر امتی قیامت کے دن جنت میں داخل ہوجائے گا سوائے انکار کرنے والوں کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عنم نے پوچھا یارسول اللہ! انکار کرنے والے کون ہیں؟ فرمایا جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو میری نافرمانی کرے گا وہ انکار کرنے والا ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8728]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 7280
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8729
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ فِي مَجْلِسِهِ حَدِيثًا، جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَة؟ قَالَ: فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، فَقَالَ: بَعْضُ الْقَوْمِ سَمِعَ فَكَرِهَ مَا قَالَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ لَمْ يَسْمَعْ، حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ، قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟" قَالَ: هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِذَا ضُيِّعَتْ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرْ السَّاعَةَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَوْ قَالَ مَا إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ:" إِذَا تَوَسَّدَ الْأَمْرَ غَيْرُ أَهْلِهِ، فَانْتَظِرْ السَّاعَةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مجلس میں بیٹھے احادیث بیان فرما رہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک دیہاتی آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو جاری رکھی اس پر کچھ لوگ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن تو لی لیکن ناگواری گذری اور کچھ لوگ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سنی ہی نہیں حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی بات مکمل کرچکے تو فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ موجود ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امانت ضائع ہونے لگے تو قیامت کا انتظار کرو اس نے پوچھا یا رسول اللہ امانت ضائع ہونے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا جب معاملات نااہلوں کے سپرد کئے جانے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8729]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 59
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8730
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَمَّا هَلَكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ، وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا بَعَثْتُهُ يَتَقَاضَى قُلْتُ لَهُ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ، لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تھا جس نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہ کیا تھا البتہ وہ لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے قاصد سے کہہ دیتا تھا کہ جو آسانی سے دے سکے اس سے واپس لے لینا اور جو تنگدست ہو اسے چھوڑ دینا اور اس سے درگذر کرنا شاید اللہ ہم سے بھی درگذر فرما لے جب وہ فوت ہوا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرا ایک غلام تھا اور میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب میں اپنے غلام کو قرض کا تقاضا کرنے کے لئے بھیجتا تو اس سے کہہ دیتا تھا کہ جو آسانی سے دے سکے اس سے واپس لے لینا اور جو تنگدست ہو اسے چھوڑ دینا اور درگذر کرنا شاید اللہ ہم سے بھی درگذر فرما لے اس پر اللہ نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے درگذر کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8730]

الحكم على الحديث:
صحيح، وإسناده قوي، خ: 3480، م: 1562
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8731
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الأَنْدرَاَوَرْدِى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ عِنْدِي لبِمَنْزِلَةِ كُلِّ خَيْرٍ، يَحْمَدُنِي وَأَنَا أَنْزِعُ نَفْسَهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میری نگاہوں میں اپنے بندہ مومن کے لئے ہر موقع پر خیر ہی خیر ہے وہ میری حمد بیان کر رہا ہوتا ہے کہ میں اس کے دونوں پہلؤوں سے اس کی روح کھینچ لیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8731]

الحكم على الحديث:
إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں