مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8802
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَأُرَاهُ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي الصَّلَاةِ إِلَى السَّمَاءِ، أَوْ لَيَخْطِفَنَّ اللَّهُ أَبْصَارَهُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ دوران نماز آسمان کی طرف آنکھیں اٹھا کر دیکھنے سے باز آجائیں ورنہ ان کی بصارتیں سلب کرلی جائیں گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8802]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 429، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8803
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟" قَالَ: بَرْبَرِيٌّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ عَنِّي" قَالَ: بِمِرْفَقِهِ هَكَذَا، فَلَمَّا قَامَ عَنْهُ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" إِنَّ الْإِيمَانَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص شریک تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا کہ میں بربری ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ جاؤ جب وہ چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان ان لوگوں کے گلے سے بھی نیچے نہیں اترے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8803]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف و متنه منكر، صالح مختلط
حدیث نمبر: 8804
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا، وَلَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے قبر کو جشن منانے کی جگہ نہ بنانا اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنانا اور جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود پڑھتے رہنا کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8804]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8805
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي بِمَأْخَذِ الْأُمَمِ وَالْقُرُونِ قَبْلَهَا، شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ وَالرُّومُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَلْ النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت گزشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلا نہ ہوجائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جیسے فارس اور روم کے لوگوں نے کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کیا ان کے علاوہ بھی پہلے کوئی لوگ گذرے ہیں؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8805]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7319
حدیث نمبر: 8806
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، يَعْنِي مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8806]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8807
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " كَانَ صَدَاقُنَا إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ، وَطَبَّقَ بِيَدَيْهِ، وَذَلِكَ أَرْبَعُ مِائَةٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود رہے ہمارا مہر دس اوقیہ چاندی ہوتا تھا اور انہوں نے اپنے ہاتھ جوڑ کر دکھائے یہ کل چار سو درہم کی مقدار بنتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8807]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8808
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ أَنْزِعُ بِدَلْوٍ، ثُمَّ أَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ فِيهِمَا ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَرْحَمُهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ، فَإِنْ بَرِحَ يَنْزِعُ حَتَّى اسْتَحَالَتْ غَرْبًا ثُمَّ ضَرَبَتْ بِعَطَنٍ، فَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَزْعِ عَبْقَرِيٍّ أَحْسَنَ مِنْ نَزْعِ 63 عُمَرَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک حوض پر ڈول کھینچ کر لوگوں کو پانی پلا رہا ہوں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے راحت پہنچانے کے لئے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا اور ایک دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزروی کے آثار تھے اللہ ان پر رحم فرمائے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے انہوں نے وہ ڈول لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں آکر بڑا ڈول بن گیا لوگ اس سے سیراب ہوگئے اور میں نے عمر سے اچھا ڈول کھینچنے والا کوئی عبقری آدمی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8808]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3664، م: 2392
حدیث نمبر: 8809
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ , قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھاتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ہمارے زندہ اور فوت شدہ موجود اور غائب چھوٹوں اور بڑوں مردوں اور عورتوں کی بخشش فرما اے اللہ تو ہم میں سے جسے زندہ رکھا اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے ایمان پر موت دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8809]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 8810
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِمَا تَحْقِرُونَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان اس بات سے مایوس ہوگیا ہے کہ تمہاری اس سر زمین عرب میں دو باہرہ اس کی پوجا کی جائے گی البتہ وہ ایسی چیزوں پر خوش ہوگیا ہے جنہیں تم حقیر سمجھتے ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8810]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8811
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ تَرَوْا مَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو تو سہی کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے وہ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندوں پر جتنی بھی نعمتیں برسائیں ہمیشہ ایک گروہ نے ان کی ناشکری ہی کی اور یہی کہتے رہے کہ یہ فلاں ستارے کی تاثیر ہے اور یہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہوا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8811]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 72، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين