مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 8772
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَوْبَرِ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا وَعَلَيْهِمْ نِعَالُهُمْ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي إِلَى هَذَا الْمَقَامِ وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ، وَانْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ" . وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي أَيَّامٍ" .
ابوالاوبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ وہی ہیں جو لوگوں کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے اور واپس جاتے دیکھا ہے البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا الاّ یہ کہ وہ اس کے معمولات میں شامل ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8772]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، خ: 1985، م: 1144، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الأوبر
حدیث نمبر: 8773
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعْنَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ، لَمْ يُقْبَلْ لَهَا صَلَاةٌ حَتَّى تَغْسِلَهُ عَنْهَا اغْتِسَالَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8773]
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين، وإسناده ضعيف لضعف ليث، وجهالة عبدالكريم
حدیث نمبر: 8774
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " كَرَمُ الرَّجُلِ دِينُهُ، وَمُرُوءَتُهُ عَقْلُهُ، وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کی سخاوت اس کا دین اس کی مروت اس کی عقل اور اس کا حسب اخلاق ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8774]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، مسلم سيئ الحفظ وكثير الأوهام
حدیث نمبر: 8775
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، أنهَ قَالَ: " يَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ رَايَاتٌ سُودٌ، لَا يَرُدُّهَا شَيْءٌ حَتَّى تُنْصَبَ بِإِيلِيَاءَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے انہیں کوئی چیز لوٹا نہ سکے گی یہاں تک کہ وہ بیت المقدس پر جا کر نصب ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8775]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، رشدين ضعيف، منكر الحديث
حدیث نمبر: 8776
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نَعِيمَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ جَلِيسِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ أُفْتِيَ بِفُتْيَا بِغَيْرِ عِلْمٍ، كَانَ إِثْمُ ذَلِكَ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ، وَمَنْ اسْتَشَارَ أَخَاهُ فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِأَمْرٍ وَهُوَ يَرَى الرُّشْدَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَقَدْ خَانَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے جس شخص کو غیرمستند فتوی دے دیا گیا ہو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہے اور جس شخص سے اس کا مسلمان بھائی کوئی مشورہ مانگے اور وہ اسے درست مشورہ نہ دے تو اس نے خیانت کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8776]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعف لضعف رشدين وجهالة عمرو، وأما القسم الأول من الحديث صحيح متواتر ، خ: 110، م: 3
حدیث نمبر: 8777
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ" ، حَدَّثَنَاه بَعْدَ ذَلِكَ الْخُزَاعِيَّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، وَالْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو لوگوں کے درمیان جج بنادیا جائے گویا اسے بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8777]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 8778
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنِ الْعَلَاء ِبن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَاعْفُوا اللِّحَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8778]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5893، م: 260
حدیث نمبر: 8779
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ: وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میں چار چیزوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے ایسے دل سے جو خشیت اور خشوع سے خالی ہو ایسے نفس سے جو کبھی سیراب نہ ہو اور ایسی دعاء سے جو قبول نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8779]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، عباد لم يرو عنه غير أخيه، وذكره العجلي وابن حبان وابن خلفون فى الثقات
حدیث نمبر: 8780
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُجِيرُ عَلَى أُمَّتِي أَدْنَاهُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا ایک ادنیٰ امتی بھی کسی کو امان دے سکتا ہے (اور پوری امت پر اس کی پابندی ضروری ہوگی) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8780]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، م: 1508
حدیث نمبر: 8781
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ بِلَالٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا يَنْبَغِي لِذِي الْوَجْهَيْنِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی دوغلے آدمی کا امین ہونا ممکن نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8781]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي