🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8762
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اپنے اعضاء وضو کو صرف دو دو مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8762]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَأْسِي ضُرِبَ، فَرَأَيْتُهُ يَتَدَهْدَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " يَطْرُقُ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَيَتَهَوَّلُ لَهُ، ثُمَّ يَغْدُو يُخْبِرُ النَّاسَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے دیکھا کہ کسی نے میرے سر پر ضرب لگائی اور میں نے اسے لڑھکتے ہوئے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے پھر فرمایا کہ تم میں سے کسی کے سامنے رات کے وقت شیطان آتا ہے اور اسے ڈراتا ہے پھر وہ آدمی صبح کو لوگوں کے سامنے یہ خبر بیان کرتا پھرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8763]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8764
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو صَالِحٍ ، بِمَكَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحَمِيرِ بِاللَّيْلِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ صُرَاخَ الدِّيَكَةِ بِاللَّيْلِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کے وقت گدھے کی آواز سنو تو اس نے شیطان کو دیکھا ہوگا اس لئے اللہ سے شیطان کے شر سے پناہ مانگا کرو اور جب تم رات کے وقت مرغ کی بانگ سنو تو یاد رکھو کہ اس نے کسی فرشتے کو دیکھا ہوگا اس لئے اس وقت سے اللہ کے فضل کا سوال کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8764]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3303، م: 2729
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8765
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِعِصِيِّنَا وَسِيَاطِنَا، فَسُقِطَ فِي أَيْدِينَا وَقُلْنَا: مَا صَنَعْنَا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ! فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کرکے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں؟ پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8765]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً، مؤمل سيئ الحفظ، وأبو المهزم متروك الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8766
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أُذَيْنٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ، حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ فِي الْمُزَاح، وَالْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک مذاق میں بھی جھوٹ بولناچھوڑ نہ دے اور سچا ہونے کے باوجود جھگڑا ختم نہ کردے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8766]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، منصور مجهول، ومكحول لم يسمع من أبى هريرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8767
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ، قَالَ: " فَإِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ صَلِّي فِيهِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَخْرُجْ أَثَرُهُ؟ قَالَ:" يَكْفِيكِ الْمَاءُ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہو کر کہنے لگیں یا رسول اللہ! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے اور اس میں مجھ پر ناپاکی کے ایام بھی آتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم پاک ہوجایا کرو تو جہاں خون لگا ہو، وہ دھو کر اس میں ہی نماز پڑھ لیا کرو، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! اگر خون کے دھبے کا نشان ختم نہ ہو؟ فرمایا پانی کافی ہے، اس کا نشان ختم نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8767]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وقد روي عن ابن لهيعة هذا الحديث عبدالله بن وهب وغيره وخالفوا فيه موسى، وهو المحفوظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8768
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيُّ وَذَلِكَ قَبْلَ الْمِحْنَةِ قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَلَمْ يُحَدِّثْ أَبِي عَنْهُ بَعْدَ الْمِحْنَةِ بِشَيْءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8768]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد قد اختلف فيه على الحسن، والحسن لم يسمع من أبى هريرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8769
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، اخْرُجِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، قَال: فَلَا يَزَالُ يُقَالُ ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيَقُولُون: مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، قَالَ: فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، اخْرُجِي ذَمِيمَةً، وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ، وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٍ، فَلَا يَزَالُ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً، فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ، ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، فَيُقَالُ لَهُ: مِثْلُ مَا قِيلَ لَهُ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السَّوْءُ، فَيُقَالُ لَهُ: مِثْلُ مَا قِيلَ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب المرگ آدمی کے پاس فرشتے آتے ہیں اگر وہ نیک آدمی ہو تو اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس طیبہ! جو پاکیزہ جسم میں رہا یہاں سے نکل قابل تعریف ہو کر نکل اور روح و ریحان کی خوشبخری قبول کر اور اس رب سے ملاقات کر جو تجھ سے ناراض نہیں اس کے سامنے یہ جملے بار بار دہراتے جاتے ہیں حتی کہ اس کی روح نکل جاتی ہے اس کے بعد اسے آسمان پر لے جایا جاتا ہے، دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے آواز آتی ہے کون؟ جواب دیا جاتا ہے فلاں آسمان والے کہتے ہیں اس پاکیزہ نفس کو جو پاکیزہ جسم میں رہا خوش آمدید، قابل تعریف ہو کر داخل ہو جاؤ اور روح و ریحان اور ناراض نہ ہونے والے رب سے ملاقات کی خوشخبری قبول کرو، یہی جملے اس سے ہر آسمان میں کہے جاتے ہیں یہاں تک کہ اسے اس آسمان پر لے جایا جاتا ہے جہاں پروردگار عالم خود موجود ہے۔ اور اگر وہ گناہ گار آدمی ہو تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح! جو خبیث جسم میں رہی نکل قابل مذمت ہو کر نکل، کھولتے ہوئے پانی اور کانٹے دار کھانے کی خوشخبری قبول کر اور اس کے علاوہ دیگر انواع و اقسام کے عذاب کی خوشخبری بھی قبول کر اس کے سامنے یہ جملے بار بار دہرائے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کی روح نکل جاتی ہے فرشتے اسے لے کر آسمانوں پر چڑھتے ہیں اور دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں پوچھا جاتا ہے کون؟ بتایا جاتا ہے کہ فلاں، وہاں سے جواب آتا ہے کہ اس خبیث روح کو جو خبیث جسم میں رہی کوئی خوش آمدید نہیں اسی حال میں قابل مذمت واپس لوٹ تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے چنانچہ وہ آسمان سے واپس آکر قبر میں چلی جاتی ہے۔ پھر نیک آدمی کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے وہی تمام جملے کہے جاتے ہیں جو پہلی مرتبہ کہے گئے تھے اور گناہ گار آدمی کو بھی اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے بھی وہی کچھ کہا جاتا ہے جو پہلے کہا جا چکا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8769]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8770
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهَا زَكَاةٌ لَكُمْ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا دَرَجَةٌ فِي أَعَلَى الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ پر درود بھیجا کرو کیونکہ یہ تمہارے لئے باعث تزکیہ ہے اور اللہ سے میرے لئے وسیلہ مانگا کرو یہ جنت کے سب سے اعلیٰ ترین درجے کا نام ہے جو صرف ایک آدمی کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بھی میں ہوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8770]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وليث ضعيف، وكعب مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8771
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا؟ مَا يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِنْ خُشُوعِكُمْ وَرُكُوعِكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میرا قبلہ یہاں سمجھتے ہو؟ واللہ مجھ پر تمہارا خشوع مخفی ہوتا ہے اور نہ رکوع میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8771]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 418، م: 423
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں