مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 4076
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" إِذَا شَكَكْتَ فِي صَلَاتِكَ، وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمْ تَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّيْتَ أَمْ أَرْبَعًا، فَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ ظَنِّكَ أَنَّكَ صَلَّيْتَ ثَلَاثًا، فَقُمْ فَارْكَعْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلِّمْ، ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَشَهَّدْ، ثُمَّ سَلِّمْ، وَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ ظَنِّكَ أَنَّكَ صَلَّيْتَ أَرْبَعًا، فَسَلِّمْ، ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَشَهَّدْ، ثُمَّ سَلِّمْ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تمہیں نماز پڑھتے ہوئے یہ شک ہو جائے کہ تم نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار؟ تو اگر تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ تم نے تین رکعتیں پڑھیں ہیں تو کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دو اور سہو کے دو سجدے کر لو اور تشہد پڑھ کر سلام پھیر دو، لیکن تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ تم نے چار رکعتیں پڑھی ہیں تو تم تشہد پڑھ لو اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لو، پھر دوبارہ تشہد پڑھ کر سلام پھیرو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4076]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه.
حدیث نمبر: 4077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ ، مَوْلًى لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ"، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ؟ قَالَ:" وَاثْنَيْنِ"، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ: قَدَّمْتُ وَاحِدًا، قَالَ:" وَوَاحِدٌ، وَلَكِنْ ذَاكَ فِي أَوَّلِ صَدْمَةٍ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جن مسلمان میاں بیوی کے تین بچے بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جائیں، وہ ان کے لئے جہنم سے حفاظت کا ایک مضبوط قلعہ بن جائیں گے۔“ کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے“، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو دو بچے آگے بھیجے ہیں؟ فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے۔“ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ - جو سید القراء کے نام سے مشہور ہیں - عرض کرنے لگے کہ میرا صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا بھی یہ حکم ہے لیکن اس چیز کا تعلق تو صدمہ کے ابتدائی لمحات سے ہے (کہ اس وقت کون صبر کرتا ہے اور کون جزع فزع؟ کیونکہ بعد میں تو سب ہی صبر کرلیتے ہیں)۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4077]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود، ولجهالة حال أبى محمد.
حدیث نمبر: 4078
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، عَنْ مُحَمَّد بِنِ أَبِي مُحَمَّدٍ ، مَوْلًى لعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا اثْنَيْنِ، وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ يَزِيدُ أَيْضًا، قَالَ: فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: مَضَى لِي اثْنَانِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4078]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاع، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4079
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ ، مَوْلَى لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، خَالَفَا هُشَيْمًا، فَقَالَا: أَبُو مُحَمَّدٍ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4079]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود، ولجهالة حال أبى محمد.
حدیث نمبر: 4080
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ " شَهِدَ جِنَازَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَأَظْهَرُوا الِاسْتِغْفَارَ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَنَسٌ"، قَالَ هُشَيْمٌ: قَالَ: خَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ: وَأَدْخَلُوهُ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ الْقَبْرِ، وَقَالَ: هُشَيْمٌ مَرَّةً: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مَاتَ بِالْبَصْرَةِ، فَشَهِدَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَأَظْهَرُوا لَهُ الِاسْتِغْفَارَ.
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کسی انصاری کے جنازے میں شریک ہوئے، لوگوں نے وہاں بلند آواز سے استغفار کرنا شروع کر دیا لیکن سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی، دوسرے راوی کے مطابق لوگوں نے اسے قبر کی پائنتی کی جانب سے داخل کیا اور انہوں نے اس پر کوئی نکیر نہ فرمائی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4080]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4081
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ فِي جِنَازَةٍ،" فَأَمَرَ بِالْمَيِّتِ، فَسُلَّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ".
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کسی انصاری کے جنازے میں شریک ہوئے، ان کے حکم پر میت کو لوگوں نے قبر کی پائنتی کی جانب سے داخل کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4081]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4082
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: كَانَ أَنَسٌ " أَحْسَنَ النَّاسِ صَلَاةً فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ".
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفر اور حضر میں سب سے بہترین نماز پڑھنے والے سیدنا انس رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4082]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4083
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ " يَسْتَشْرِفُ لِشَيْءٍ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ".
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو دوران نماز کسی چیز کو جھانک کر دیکھتے ہوئے پایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4083]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4084
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ عبد الله . ح وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ . ح وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، الْمَعْنَى، قَالَ: لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَتْمًا عَلَيْهِ أَنْ يَنْصَرِفَ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی شخص شیطان کو اپنی ذات پر ایک حصہ کے برابر بھی قدرت نہ دے، اور یہ نہ سمجھے کہ اس کے ذمے دائیں طرف سے ہی واپس جانا ضروری ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4084]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 852.
حدیث نمبر: 4085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”یہ بہت بری بات ہے کہ تم میں سے کوئی شخص یہ کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ یوں کہے کہ وہ اسے بھلا دی گئی۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4085]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5039.