مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9032
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ: عِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جو ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق ہیں مریض کی بیمار پرسی کرنا جنازہ میں شرکت کرنا اور چھینکنے والے کو جبکہ وہ الحمدللہ کہے چھینک کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دینا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9032]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
حدیث نمبر: 9033
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَش ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکثر عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9033]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9034
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9034]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9035
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيم ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " قُرَيشٌ , وَالْأَنْصَارُ , وَأَسْلَمُ , وَغِفَارٌ , وَمُزَيْنَة، وَجُهَيْنَةُ , وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ، لَيْسَ لَهُمْ دُونَ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ مَوْلًى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، غفار اور اشجع نامی قبائل میرے موالی ہیں اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ان کا کوئی مولیٰ نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9035]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3504، م: 2520
حدیث نمبر: 9036
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَس ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: قَالَ: زَعَمَ ذَاكَ ثُمَامَةُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْمِسْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَالْآخَرِ دَوَاءً" ، وَقَالَ عَفَّان مَرَّةً:" فَإِنَّ أَحَدَ جَنَاحَيْهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے پر میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9036]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 5782، له إسنادان: الأول منقطع ، فإن ثمامة لم يسمع من أبي هريرة ، والثاني صحيح
حدیث نمبر: 9037
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ إِنْسَانًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَسْوَدَ , فمَاتَ أَوْ مَاتَتْ , فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الْإِنْسَانُ الَّذِي كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِد؟". قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: مَاتَ. قَالَ:" فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ". فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ لَيْلًا. قَالَ:" فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهَا". قَالَ: فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهَا، قَالَ ثَابِتٌ عِنْدَ ذَاكَ، أَوْ فِي حَدِيثٍ آخَرَ: " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک سیاہ فام عورت یا مرد مسجد نبوی کی خدمت کرتا تھا (مسجد میں جھاڑو دے کر صفائی ستھرائی کا خیال رکھتا تھا) ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نظر نہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تو فوت ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ رات کا وقت تھا (اس لئے آپ کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بتادی چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر اس کے لئے دعاء مغفرت کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9037]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 458، م: 956
حدیث نمبر: 9038
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ غَالِبٍ اللَّيْثِيٍُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة , أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِِ"، قَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَاكَ؟، َقَالَ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟، قَالَ:" أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟، قَالَ:" فَتُعِينُ ضَائِعًا، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَاكَ؟، قَالَ:" فَاحْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَسَنَةٌ تَصَدَّقْتَ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر جبکہ وہ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے سوال کیا کہ اسے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا اس نے پوچھا کہ کس غلام کو آزاد کرنے کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس کی قیمت زیادہ ہو اور وہ مالکوں کے نزدیک زیادہ نفیس ہو اس نے کہا اگر میں غلام آزاد کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہوں تو کیا کروں؟ فرمایا کسی مزدور کو اس کے پاؤں پر کھڑا کردو یا کسی ضرورت مند کو کما کردے دو اس نے پوچھا کہ اگر میں اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہوں تو؟ فرمایا پھر اپنے آپ کو شر اور گناہ کے کاموں سے بچا کر رکھو کیونکہ یہ بھی ایک عمدہ صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دوگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9038]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، خ: 26، م: 83
حدیث نمبر: 9039
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا قَطُّ، وَتَقُومُ عَاهَةٌ، إِلَّا رُفِعَتْ عَنْهُمْ أَوْ خَفَّتْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب صبح والا ستارہ طلوع ہوجائے تو کھیتوں کی مصبتیں ٹل جاتی ہیں [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9039]
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 9040
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتًا فَأَعْجَبَهُ، فَقَالَ: " قَدْ أَخَذْنَا فَألَكَ مِنْ فِيكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آواز سنی جو آپ کو اچھی لگی تو فرمایا کہ ہم نے تمہارے منہ سے اچھی فال لی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9040]
الحكم على الحديث:
صحيح بلفظ آخر، خ: 5755، م: 2223، وإسناده ضعيف لإبھام الراوي عن أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9041
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أُمِّ بُرْثُنٍ حَدَّثَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " كَتَبَ اللَّهُ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَنَا فَاخْتَلَفُوا فيها، وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ، فَلِلْيَهُودِ غَدًا، وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور پرسوں کا دن (اتو ار) عیسائیوں کا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9041]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856