مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9052
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فَتَفَرَّقُوا عَنْ غَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ، إِلَّا كَأَنَّمَا تَفَرَّقُوا عَنْ جِيفَةِ حِمَارٍ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَجْلِسُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً" .
گذشۃ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کچھ لوگ کسی جگہ اکٹھے ہوں اور اللہ کا ذکر کئے بغیر ہی جدا ہوجائیں تو یہ ایسے ہی ہے جیسے مردار گدھے کی لاش سے جدا ہوئے اور وہ مجلس ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9052]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9053
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيُغْفَرُ ذَلِكَ الْيَوْمَ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا امْرَأً كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالَ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتے ہیں جو ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9053]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2565
حدیث نمبر: 9054
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الدِّينَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین کی ابتداء اجنبیت میں ہوئی اور عنقریب یہ اپنی ابتدائی حالت پر لوٹ جائے گا سو خوشخبری ہے غرباء کے لئے (جو دین سے چمٹے رہیں گے) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9054]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 145
حدیث نمبر: 9055
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا مومن کے لئے قیدخانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9055]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2956
حدیث نمبر: 9056
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاصُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ دَاءٍ إِلَّا فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ مِنْهُ شِفَاءٌ، إِلَّا السَّامُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9056]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 9057
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدْ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَكُلَّمَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ، اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ، وَكُلَّمَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ، انْقَبَضَتْ عَلَيْهِ كُلُّ حَلْقَةٍ مِنْهَا إِلَى صَاحِبَتِهَا , وَتَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَعْنِي يَقُولُ:" فَيَجْهَدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلَا تَتَّسِعُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک لوہے کے دو جبے ہوں خرچ کرنے والا جب بھی کچھ خرچ کرتا ہے اسی کے بقدر اس جبے میں کشادگی ہوتی جاتی ہے اور وہ اس کے لئے کھلتا جاتا ہے اور کنجوس آدمی کی جکڑ بندی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ اسے کشادہ کرنے کے لئے زور آزمائی کرتا ہے لیکن وہ کشادہ ہو نہیں پاتی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9057]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1443، م: 1021
حدیث نمبر: 9058
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَرَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، قَالَ:" هَلْ تَرَوْنَ الشَّمْسَ بِنِصْفِ النَّهَارِ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ سَحَابَةٌ؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" هَلْ تَرَوْنَ الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ سَحَابَةٌ؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرَوُنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، كَمَا لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا نصف النہار کے وقت جبکہ کوئی بادل بھی نہ ہو سورج کو دیکھ سکتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم رات کے وقت جبکہ کوئی بادل بھی نہ ہو " چودھویں کا چاند دیکھ سکتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم اپنے پروردگار کا دیدار ضرور کروگے اور تمہیں اسے دیکھنے میں کسی قسم کی مشقت نہیں ہوگی جیسے چاند اور سورج کو دیکھنے میں نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9058]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي، خ: 6573، م: 182
حدیث نمبر: 9059
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَكْثَرَ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْل" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکثر عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9059]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9060
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ سورة يوسف آية 50، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَوْ كُنْتُ أَنَا، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے " کی تفسیر میں فرمایا کہ اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تھے پھر مجھے نکلنے کی پیشکش ہوتی تو میں اسی وقت قبول کرلیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9060]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9061
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ . ح وَيَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لَغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحیح سالم آدمی کے لئے زکوٰۃ کا پیسہ حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9061]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وفيه سالم كثير الإرسال عن الصحابة ولم يصرح بسماعه من أبي هريرة، لكنه متابع