مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9062
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالداری ساز و سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9062]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
حدیث نمبر: 9063
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" أَتَى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فقَالَ: إِنِّي جِئْتُ الْبَارِحَةَ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ صُورَةٌ أَوْ كَلْب" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں رات کو آپ کے پاس آیا تھا اور تو کسی چیز نے مجھے آپ کے گھر میں داخل ہونے سے نہ رو کا البتہ گھر میں ایک آدمی کی تصویر تھی یا کتا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9063]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9064
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، وَلَا يُنَجِّيهِ مِنَ النَّارِ، إِلَّا بِرَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ" ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا أَنْتَ؟، قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ". قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِيَدِهِ , يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل کرکے جہنم سے نجات نہیں دلا سکتا جب تک کہ اللہ کا فضل و کرم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یارسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9064]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 9065
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِم ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَمِّي، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى بَابِ الْمَدِينَةِ فَمَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ كَأَنَّهُ مُسْتَرْخِي الْإِزَارِ، قَالَ: ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَجَعَلَ يَعْتَذِرُ، فَقَالَ: إِنَّهُ اسْتَرْخَى، وَإِنَّهُ مِنْ كَتَّانٍ، فَلَمَّا مَضَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ لَهُ مُعْجَبٌ بِنَفْسِهِ، إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
جریر بن زید کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کے پاس باب مدینہ کے قریب بیٹھا ہوا تھا وہاں سے ایک قریشی نوجوان گذرا اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی حضرت سالم رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا کہ اپنی شلوار اونچی کرو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ چونکہ کتان کی ہے اس لئے خود ہی نیچے ہوجاتی ہے جب وہ چلا گیا تو حضرت سالم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے کہ ایک آدمی اپنے قیمتی حلے میں ملبوس اپنے او پر فخر کرتے ہوئے تکبر سے چلا جا رہا تھا کہ اسی اثناء میں اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9065]
الحكم على الحديث:
هذا إسناد حسن، خ: 5790، م: 2088
حدیث نمبر: 9066
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا ذَوَّادٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: مَا هَجَّرْتُ، إِلَّا وَجَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ: فَصَلَّى , ثُمَّ قَالَ:" اشِكَنْبْ دَرْدْ؟". قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ:" قُمْ فَصَلِّ، فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شِفَاءً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب بھی دوپہر کے وقت نکلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ہی پڑھتے ہوئے پایا (ایک دن میں حاضر ہوا تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فارسی میں پوچھا کہ تمہارے پیٹ میں درد ہو رہا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو کیونکہ نماز میں شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9066]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ذوّاد وليث
حدیث نمبر: 9067
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَيَدَعَنَّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْمَدِينَةَ وَهِيَ خَيْرُ مَا يَكُونُ، مُرْطِبَةٌ مُونِعَةٌ"، فَقِيلَ: فَمَنْ يَأْكُلُهَا؟، قَالَ:" الطَّيْرُ وَالسِّبَاعُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ مدینہ منورہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ایک وقت میں آکر چھوڑ دیں گے کسی نے پوچھا کہ اسے کون کھائیں گے؟ فرمایا وہاں صرف درندے اور پرندے رہ جائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9067]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1874، م: 1389، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي المهزم
حدیث نمبر: 9068
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " هَذِهِ صَدَقَةُ قَوْمِي، وَهُمْ أَشَدُّ النَّاسِ عَلَى الدَّجَّالِ" ، يَعْنِي بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا كَانَ قَوْمٌ مِنَ الْأَحْيَاءِ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْهُمْ، فَأَحْبَبْتُهُمْ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوتمیم کے صدقات کے متعلق فرمایا یہ میری قوم کا صدقہ ہیں اور یہ لوگ دجال کے لئے سب سے زیادہ سخت قوم ثابت ہوں گے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبل ازیں مجھے اس قبیلے سے بہت نفرت تھی لیکن جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہے میں ان سے محبت کرنے لگا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9068]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2543، م: 2525، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبي زرعة
حدیث نمبر: 9069
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللَّهِ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ" ، قَالَ كَعْبٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، لَا حِسَابَ عَلَيْهِ، وَلَا عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ غلام کیا ہی خوب ہے جو اللہ اور اپنے آقا کے حقوق دونوں کو ادا کرتا ہوکعب نے اس پر اپنی طرف سے یہ اضافہ کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا اس کا اور دنیا سے بےرغبت مومن کا کوئی حساب نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9069]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666
حدیث نمبر: 9070
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اللَّهُمَّ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا مُسْلِمٍ لَعَنْتُهُ أَوْ آذَيْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَقُرْبَةً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں بھی ایک انسان ہوں میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذاء پہنچائی ہو یا اسے لعنت کی ہو اسے اس شخص کے لئے باعث تزکیہ و قربت بنا دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9070]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 9071
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ , أَنَّهُ قَالَ:" زَكَاةً وَرَحْمَةً".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9071]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ما قبله