🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9242
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , أَنَّهُ قَالَ: " مَرِضْتُ، فَلَمْ يَعُدْنِي ابْنُ آدَمَ، وَظَمِئْتُ، فَلَمْ يَسْقِنِي ابْنُ آدَمَ. فَقُلْتُ: أَتَمْرَضُ يَا رَبِّ؟!، قَالَ: يَمْرَضُ الْعَبْدُ مِنْ عِبَادِي مِمَّنْ فِي الْأَرْضِ، فَلَا يُعَادُ، فَلَوْ عَادَهُ، كَانَ مَا يَعُودُهُ لِي، وَيَظْمَأُ فِي الْأَرْضِ، فَلَا يُسْقَى، فَلَوْ سُقِيَ كَانَ مَا سَقَاهُ لِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں بیمار ہوا لیکن ابن آدم نے میری عیادت نہیں کی مجھے پیاس لگی لیکن ابن آدم نے پانی نہیں پلایا میں نے عرض کیا پروردگار! کیا آپ بھی بیمار ہوتے ہیں؟ جواب ملا کہ زمین پر میرا کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے اور اس کی بیمار پرسی نہیں کی جاتی اگر بندہ اس کی عیادت کے لئے جاتا ہے تو اسے وہی ثواب ملتا جو میری عیادت کرنے پر ملتا اور زمین پر میرا کوئی بندہ پیاسا ہوتا ہے لیکن اسے پانی نہیں پلایا جاتا۔ اگر کوئی اسے پانی پلاتا تو اسے وہی ثواب ملتا جو مجھے پانی پلانے پر ہوتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9242]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2569، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9243
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ، وَإِنَّ وَرَقَهَا لَيُخَمِّرُ الْجَنَّةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں ایک درخت ایسا ہے کوئی بہترین سوار اس کے سائے میں سو سال تک چل سکتا ہے اور اس کے پتوں نے جنت کو ڈھانپ رکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9243]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: « وإن ورقها ليخمر الجنة » ، خ: 4881، م: 2826، وهذه الزيادة تفرد بها ابن لهيعة، وهو سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9244
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا، وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، وَأُومِنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَغُدِيَ عَلَيْهِ، وَرِيحَ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ، وَكُتِبَ لَهُ أَجْرُ الْمُرَابِطِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو شخص سرحدوں کی حفاظت کرتا ہوا فوت ہوجائے وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گا اور بڑی گھبراہٹ کے دن مامون رہے گا صبح و شام اسے جنت سے رزق پہنچایا جائے گا اور قیامت تک اس کے لئے سرحدی محافظ کا ثواب لکھا جاتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9244]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9245
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صِبْرَةَ ، وَعَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أنهما سمعا القاسم بن محمد، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ، وَلَا يَقْبَلُ مِنْهَا إِلَّا الطَّيِّبَ، يَقْبَلُهَا بِيَمِينِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَيُرَبِّيهَا لِعَبْدِهِ الْمُسْلِمِ , كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَصِيلَهُ، حَتَّى يُوَافَى بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلَ أُحُدٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرمالیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن وہاں سے احد پہاڑ کے برابر ادا کردیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9245]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1410، م: 1014، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد، وجهالة عبدالواحد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9246
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دَخَلَ عَبْدٌ الْجَنَّةَ بِغُصْنِ شَوْكٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ، فَأَمَاطَهُ عَنْهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اس کی برکت سے وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9246]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 652، م: 1914، إسماعيل بن عياش توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9247
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو عِنْدَ النَّوْمِ: " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے کے لئے آتے تو یوں فرماتے کہ اسے ساتوں آسمانوں، زمین اور ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے اللہ تورات انجیل اور قرآن نازل کرنے والے میں ہر شریر کے شر سے جس کی پیشانی آپ کے قبضے میں ہے آپ کی پناہ میں آتا ہوں آپ اول ہیں آپ سے پہلے کچھ نہیں آپ آخر ہیں آپ کے بعد کچھ نہیں آپ ظاہر ہیں آپ سے اوپر کچھ نہیں آپ باطن ہیں آپ سے پیچھے کچھ نہیں میرے قرضوں کو ادا فرمائیے اور مجھے فقروفاقہ سے بےنیاز فرما دیجئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9247]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2713، إسماعيل ابن عياش قد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9248
حَدَّثَنَا خَلَفٌ بنِِ الوليدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا، إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9248]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2699، إسماعيل بن عياش قد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9249
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قال: " كَانَ يَمُرُّ بِآلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ، ثُمَّ هِلَالٌ، لَا يُوقَدُ فِي شَيْءٍ مِنْ بُيُوتِهِمْ النَّارُ، لَا لِخُبْزٍ، وَلَا لِطَبِيخٍ، فَقَالُوا: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانُوا يَعِيشُونَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟، قَالَ: الأسودانِ: التَّمْرِ وَالْمَاءِ، وَكَانَ لَهُمْ جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَجَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا، لَهُمْ مَنَائِحُ، يُرْسِلُونَ إِلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْ لَبَنٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو دو مہینے ایسے گذر جاتے تھے کہ ان کے گھروں میں آگ تک نہیں جلتی تھی نہ روٹی کے لئے اور نہ کھانا پکانے کے لئے، لوگوں نے ان سے پوچھا اے ابوہریرہ! پھر وہ کس چیز کے سہارے زندگی گذارا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دو کالی چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر اور کچھ انصاری اللہ انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے ان کے پڑوسی تھے ان کے پاس کچھ بکریاں تھیں جن کا وہ تھوڑا سا دودھ بھجوا دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9249]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9250
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " تَهَادَوْا، فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَغَرَ الصَّدْرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں ہدایا کا تبادلہ کیا کرو کیونکہ ہدیہ سینے کے کینے دور کردیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9250]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9251
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ عَمَّرَ سِتِّينَ سَنَةً أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً، فَقَدْ عُذِرَ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس شخص کو اللہ نے ساٹھ ستر سال تک زندگی عطاء فرمائی ہو عمر کے حوالے سے اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9251]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6419، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں