🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9232
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9232]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9233
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ؟". قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي. قَالَ:" قُلْ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کا خزانہ ہے میں نے عرض کیا ضرور آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو لا حول و لا قوۃ الا باللہ۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9233]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9234
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً، إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَهَا عَلَيْهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمتوں کے آثار اپنے بندے پر دیکھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9234]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً، شريك سيئ الحفظ، وابن موهب متروك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9235
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟"، قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا، وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر کون ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کی عمر طویل ہو اور اخلاق بہترین ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9235]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، وقد صرح ابن إسحاق بالتحديث عند ابن حبان: 2981
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9236
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ، فَإِنْ ابْتَاعَ مُبْتَاعٌ، فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر خریداری کرنے سے منع فرمایا ہے جو شخص اس طرح کوئی چیز خریدے تو بیچنے والے کو بازار اور منڈی میں پہنچنے کے بعد اختیار ہوگا (کہ وہ اس بیع کو قائم رکھے یا فسخ کردے) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9236]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1519
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9237
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ اللُّؤْلُئِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَخْرُجَنَّ رِجَالٌ مِنَ الْمَدِينَةِ رَغْبَةً عَنْهَا، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کچھ لوگ مدینہ منورہ سے بےرغبتی کے ساتھ نکل جائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے زیادہ بہتر تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9237]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1381
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9238
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي الْإِنَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِيمَ بَاتَتْ يَدُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9238]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 162، م: 278، ابن لهيعة - وإن کان سيئ الحفظ - قد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9239
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: وَقَدْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ، لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ إِلَّا اسْتُجِيبَ لَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ بندہ مسلم اللہ سے جو دعاء کرتا ہے اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9239]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6400، م: 852، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9240
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَجِّرُ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ جِئْتُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , اشِكَنَْبْ دَرْدْ؟". قَالَ: قُلْتُ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " صَلِّ فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شِفَاءً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب بھی دوپہر کے وقت نکلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ہی پڑھتے ہوئے پایا (ایک دن میں حاضر ہوا تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فارسی میں پوچھا کہ تمہارے پیٹ میں درد ہو رہا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو کیونکہ نماز میں شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9240]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ذوّاد وليث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9241
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ: قَوْلُهُ حِينَ دُعِيَ إِلَى آلِهَتِهِمْ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89، وَقَوْلُهُ: فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، وَقَوْلُهُ لِسَارَةَ: إِنَّهَا أُخْتِي"، قَالَ:" وَدَخَلَ إِبْرَاهِيمُ قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَقِيلَ: دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ اللَّيْلَةَ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْمَلِكُ أَوْ الْجَبَّارُ: مَنْ هَذِهِ مَعَكَ؟، قَالَ: أُخْتِي، قَالَ: أَرْسِلْ بِهَا، قَالَ: فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، وَقَالَ لَهَا: لَا تُكَذِّبِي قَوْلِي، فَإِنِّي قَدْ أَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، إِنْ عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَتْ إِلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا، قَالَ: فَأَقْبَلَتْ تَوَضَّأ وَتُصَلِّي، وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ، قَالَ: فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ إِنْ يَمُتْ، يُقَلْ: هِيَ قَتَلَتْهُ، قَالَ: فَأُرْسِلَ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي، وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ، قَالَ: فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ إِنْ يَمُتْ، يُقَلْ: هِيَ قَتَلَتْهُ، قَالَ: فَأُرْسِلَ، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ , أَوْ الرَّابِعَةِ: مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَيَّ إِلَّا شَيْطَانًا، ارْجِعُوهَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، وَأَعْطُوهَا هَاجَرَ، قَالَ: فَرَجَعَتْ، فَقَالَتْ لِإِبْرَاهِيمَ: أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَدَّ كَيْدَ الْكَافِرِ، وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً؟!" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے کبھی ایسی بات نہیں کہی جو حقیقت میں تو سچی اور بظاہر جھوٹ معلوم ہوتی ہو ہاں اس طرح کی تین باتیں کہی تھیں۔ پہلی دونوں باتیں تو یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میں بیمار ہوں اور یہ فرمایا تھا کہ یہ فعل (بت شکنی) بڑے بت کا ہے اور تیسری بات کی یہ صورت ہوئی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ علیہا السلام کا ایک گاؤں سے گذر ہوا وہاں ایک ظالم بادشاہ موجود تھا بادشاہ سے کسی نے کہا کہ یہاں ایک شخص آیا ہے جس کے ساتھ ایک نہایت حسین عورت ہے بادشاہ نے ایک آدمی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیج کر دریافت کرایا کہ یہ عورت کون ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میری بہن ہے پھر حضرت سارہ علیہا السلام کے پاس آکر فرمایا کہ روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی اور ایمان دار نہیں ہے اور اس ظالم نے مجھ سے تمہارے متعلق دریافت کیا تھا میں نے اس سے کہہ دیا کہ تم میری بہن ہو لہٰذا تم میری تکذیب نہ کرنا۔ اس کے بعد بادشاہ نے حضرت سارہ علیہا السلام کو بلوایا سارہ چلی گئیں بادشاہ غلط ارادے سے ان کی طرف بڑھا حضرت سارہ علیہا السلام وضو کر کے نماز پڑھنے لگیں اور کہنے لگیں کہ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر کے علاوہ سب سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ فرما اس پر وہ زمین میں دھنس گیا حضرت سارہ علیہا السلام نے دعاء کی کہ اے اللہ اگر یہ اس طرح مرگیا تو لوگ کہیں گے کہ سارہ نے اسے قتل کیا ہے چنانچہ اللہ نے اسے چھوڑ دیا دوبارہ اس نے دست درازی کرنا چاہی لیکن پھر اسی طرح ہوا وہ زمین میں دھنسا اور رہا ہوا۔ تیسری یا چوتھی مرتبہ بادشاہ اپنے دربان سے کہنے لگا کہ تو میرے پاس آدمی کو نہیں لایا ہے بلکہ شیطان کو لایا ہے اسے ابراہیم کے پاس واپس بھیج دو یہ کہہ کر حضرت سارہ علیہا السلام کو خدمت کے لئے ہاجرہ علیہا السلام عطا فرمائی حضرت سارہ (علیہا السلام) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس واپس آگئیں اور کہا اللہ تعالیٰ نے کافر کی دست درازی سے مجھے محفوظ رکھا اور اس نے مجھے خدمت کے لئے ہاجرہ دی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9241]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2217
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں