مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9222
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنْ التَّلَقِّي، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر باہر ہی تاجروں سے ملنے اور کسی شہری کو دیہاتی کا سامان (مال تجارت) فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9222]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2162، م: 1520
حدیث نمبر: 9223
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اصل میں صدقہ تو دل کا غناء کے ساتھ ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9223]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1426
حدیث نمبر: 9224
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوكِ الْمُصْلِحِ أَجْرَانِ" ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْحَجُّ، وَبِرُّ أُمِّي، لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک عبد مملوک کے لئے دہرا اجر ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج بیت اللہ اور والدہ کی خدمت نہ ہوتی تو میں غلامی کی حالت میں مرنا پسند کرتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9224]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2548، م: 1665
حدیث نمبر: 9225
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَحِصْنٌ حَصِينٌ مِنَ النَّارِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لئے ڈھال اور ایک مضبوط قلعہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9225]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9226
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " حَدٌّ يُعْمَلُ فِي الْأَرْضِ، خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا ثَلَاثِينَ صَبَاحًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین میں نافذ کی جانے والی ایک سزا لوگوں کے حق میں تیس دن تک مسلسل بارش ہونے سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9226]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف جرير
حدیث نمبر: 9227
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو ثِفَالٍ الْمُرِّيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ السَّيِّدِ مِنَ الْمَعْزِ" . قَالَ دَاوُدُ: السَّيِّدُ: الْجَلِيلُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بکری کے بڑے بچے سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9227]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبي ثفال
حدیث نمبر: 9228
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَافِعٍ ، أَخْبَرَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الرَّمِيَّةِ، أَنْ تُرْمَى الدَّابَّةُ ثُمَّ تُؤْكَلَ، وَلَكِنْ تُذْبَحُ، ثُمَّ يَرْمُوا إِنْ شَاءُوا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جانور کو پتھر یا تیر مار کر ختم کردیا جائے اور پھر اسے کھالیا جائے اس لئے پہلے اسے ذبح کرنا چاہئے بعد میں اگر اس پر تیر ماریں تو ان کی مرضی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9228]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9229
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ، فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: فِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ، أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ؟!" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک نبی نے کسی درخت کے نیچے پڑاؤ کیا انہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے پورے بل کو آگ لگا دی اللہ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ ایک چیونٹی نے آپ کو کاٹا اور آپ نے تسبیح کرنے والی ایک پوری امت کو ختم کردیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9229]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3019، م: 2241
حدیث نمبر: 9230
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أُرَاهُ عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لِرَجُلٍ: أُوَدِّعْكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ كَمَا وَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَوْدَعْتُكَ اللَّهَ الَّذِي لَا يُضَيِّعُ وَدَائِعَهُ" .
موسیٰ بن وردان سے غالباً منقول ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے فرمایا میں تمہیں اس طرح رخصت کروں گا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت فرمایا تھا میں تمہیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جو اپنی امانتوں کو ضائع نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9230]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 9231
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَا: سَمِعْنَاهُ يَقُولُ: " مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ بِيَدِهِ، وَيَعِيهِ بِقَلْبِهِ، وَكُنْتُ أَعِيهِ بِقَلْبِي، وَلَا أَكْتُبُ بِيَدِي، وَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكِتَابِ عَنْهُ، فَأَذِنَ لَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مجھ سے زیادہ بکثرت جاننے والا کوئی نہیں سوائے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے کیونکہ وہ ہاتھ سے لکھتے تھے اور دل میں محفوظ کرتے تھے جبکہ میں صرف دل میں محفوظ کرتا تھا ہاتھ سے لکھتا نہیں تھا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھنے کی اجازت مانگی تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دے دی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9231]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 113