مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9212
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْعَشْرَ الْأَوَاسِطَ، فَمَاتَ، حِينَ مَاتَ، وَهُوَ يَعْتَكِفُ عِشْرِينَ يَوْمًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اور درمیانے عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9212]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2044
حدیث نمبر: 9213
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنْ جَهْمِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ مِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ، وَقَلْبِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو رکھ دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9213]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله العمري، ولجهالة جهم
حدیث نمبر: 9214
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا بَيْنَ مِنْبَرِي وَبَيْتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9214]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1196، م: 1391، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري
حدیث نمبر: 9215
حَدَّثَنَا نُوحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَ ذَلِكَ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مِنْبَرِي عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ".
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1196، م: 1391، وهذا إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 9216
حَدَّثَنَا نُوحٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُوشِكُ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ إِلَى الْمَدِينَةِ، حَتَّى تَصِيرَ مَسَالِحُهُمْ بِسِلَاحٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہے کہ لوگ مدینہ منورہ لوٹ کر واپس آجائیں گے یہاں تک کہ ان کے اسلحہ ڈپو میں اسلحہ بھی واپس آجائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9216]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالله العمري
حدیث نمبر: 9217
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، قَالَ: " أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: الْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی۔ (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتوں کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9217]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 9218
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: " بِرَّ أُمَّكَ"، ثُمَّ عَادَ، فَقَالَ:" بِرَّ أُمَّكَ"، ثُمَّ عَادَ، فَقَالَ:" بِرَّ أُمَّكَ"، ثُمَّ عَادَ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ:" بِرَّ أَبَاكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرو اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہاری والدہ چوتھی مرتبہ فرمایا تمہارے والد۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9218]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5971، م: 2548
حدیث نمبر: 9219
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُشَاكُ بِشَوْكَةٍ فِي الدُّنْيَا، يَحْتَسِبُهَا، إِلَّا قُصَِّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کو جو کانٹا بھی چبھتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9219]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبيدالله بن عبدالله
حدیث نمبر: 9220
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَ صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ أَيْضًا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ، يُضْحِكُ بِهَا جُلَسَاءَهُ، يَهْوِي بِهَا مِنْ أَبْعَدِ مِنَ الثُّرَيَّا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات آدمی اپنے دوستوں کو ہنسانے کے لئے کوئی بات کرتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں ثریا ستارے سے بھی دور کے فاصلے سے گرپڑتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9220]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الزبير ، وانظر، خ: 6477
حدیث نمبر: 9221
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9221]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح