مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9470
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا زَنَتْ خَادِمُ أَحَدِكُمْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا , فَإِنْ عَادَتْ الثَّانِيَةَ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ الثَّالِثَةَ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ الرَّابِعَةَ فَلْيَجْلِدْهَا، وَلْيَبِعْهَا بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ , أَوْ بِضَفِيرٍ مِنْ شَعَرٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزا دے لیکن اسے عار نہ دلائے پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ یہی گناہ سرزد ہونے پر فرمایا کہ اسے بیچ دے خواہ اس کی قسمت صرف بالوں سے گندھی ہوئی ایک رسی ہی ملے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9470]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2152 ، م : 1703
حدیث نمبر: 9471
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْإِسْلَامَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب ایمان مدینہ منورہ کی طرف ایسے سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9471]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 1876 ، م : 147
حدیث نمبر: 9472
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ الشَّهْرُ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو، چاند دیکھ کر عید منایا کرو۔ اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایا ہو کیا تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9472]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 1909 ، م : 1081 ، وھذا إسناد ضعیف ، الحجاج بن أرطاۃ مدلس ، وقد عنعن
حدیث نمبر: 9473
حَدَّثَنَا غَسَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ شِفَاءٌ لِكُلِّ دَاءٍ، إِلَّا السَّامَ، وَالسَّامُ الْمَوْتُ" .
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9473]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 5688 ، م : 2215
حدیث نمبر: 9474
حَدَّثَنَا غَسَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمْ الْأَذَانَ، وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ، فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ مِنْهُ" .
خواجہ حسن بصری سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو جب تک کھانا مکمل نہ کرلے اسے نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9474]
الحكم على الحديث:
إسنادہ حسن من الطریق الأول ، و إسنادہ الثاني مرسل من جھة الحسن البصري
حدیث نمبر: 9475
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الرِّدَّةُ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: تُقَاتِلُهُمْ، وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ، وَلَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهَا، قَالَ: فَقَاتَلْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رَشَدًا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں، جب وہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہے جب فتنہ ارتداد پھیلا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ان سے کیونکر قتال کرسکتے ہیں جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا! میں نماز اور زکوٰۃ میں فرق نہیں کروں گا اور ان دونوں کے درمیان فرق کرنے والوں سے ضرور قتال کروں گا، چنانچہ ہم نے ان کی معیت میں قتال کیا اور بعد میں ہم نے اسی میں خیروبھلائی دیکھی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9475]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، م : 21
حدیث نمبر: 9476
قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَمِيرِ فِيهَا زَكَاةٌ؟، فَقَالَ: " مَا جَاءَنِي فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْفَاذَّةُ: مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 5 - 7" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کی زکوٰۃ کے متعلق دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تو یہی ایک جامع مانع آیت نازل فرما دی ہے کہ جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیک عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرے کے برابر بھی برا عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9476]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2371 ، م : 987
حدیث نمبر: 9477
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ، أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَنْزِلِهِ، نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اسے جنت میں داخل کرے یا اس حال میں اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دے کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کرچکا ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9477]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 3123 ، م : 1876
حدیث نمبر: 9478
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9478]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9478M
وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ أَسْوَدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ:" أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ".
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، شریك ، وإن کان سیئ الحفظ ، متابع