مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9430
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتْ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غارحراء پر کھڑے تھے، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان و علی و طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے اسی اثناء میں پہاڑ کی ایک چٹان ہلنے لگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا رک جا کہ تجھ پر سوائے ایک نبی، صدیق اور شہید کے اور کوئی نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9430]
الحكم على الحديث:
صحیح ، وإسنادہ قوي ، م : 2417
حدیث نمبر: 9431
وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر بہترین آدمی ہیں، عمر بہترین آدمی ہیں، ابوعبیدہ بن الجراح بہترین آدمی ہیں، اسید بن حضیر بہترین آدمی ہیں، ثابت بن قیس بہترین آدمی ہیں، معاذ بن جبل بہترین آدمی ہیں، معاذ بن عمرو بن الجموح بہترین آدمی ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9431]
الحكم على الحديث:
إسنادہ قوي
حدیث نمبر: 9432
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْقَارِيَّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ دَاوُدُ النَّبِيُّ فِيهِ غَيْرَةٌ شَدِيدَةٌ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ أُغْلِقَتْ الْأَبْوَابُ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَى أَهْلِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَرْجِعَ، قَالَ: فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَأُغْلِقَتِ الدَّارُ، فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَطَّلِعُ إِلَى الدَّارِ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ، فَقَالَتْ لِمَنْ فِي الْبَيْتِ: مِنْ أَيْنَ دَخَلَ هَذَا الرَّجُلُ الدَّارَ، وَالدَّارُ مُغْلَقَةٌ؟، وَاللَّهِ لَتُفْتَضَحُنَّ بِدَاوُدَ، فَجَاءَ دَاوُدُ، فَإِذَا الرَّجُلُ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ، فَقَالَ لَهُ دَاوُدُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الَّذِي لَا أَهَابُ الْمُلُوكَ، وَلَا يَمْتَنِعُ مِنِّي شَيْءٌ. فَقَالَ دَاوُدُ: أَنْتَ وَاللَّهِ مَلَكُ الْمَوْتِ فَمَرْحَبًا بِأَمْرِ اللَّهِ، فَرَمَلَ دَاوُدُ مَكَانَهُ حَيْثُ قُبِضَتْ رُوحُهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ شَأْنِهِ , وَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ لِلطَّيْرِ: أَظِلِّي عَلَى دَاوُدَ، فَأَظَلَّتْ عَلَيْهِ الطَّيْرُ حَتَّى أَظْلَمَتْ عَلَيْهِمَا الْأَرْضُ، فَقَالَ لَهَا سُلَيْمَانُ: اقْبِضِي جَنَاحًا جَنَاحًا" . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: يُرِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ فَعَلَتِ الطَّيْرُ، وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يده , وَغَلَبَتْ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ الْمَصْرَحِيَّةُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت داؤدعلیہ السلام میں غیرت کا مادہ بہت زیادہ تھا وہ جب گھر سے باہر جاتے تو ان کے گھر کے دروازے بند کر دئیے جاتے اور ان کی واپسی تک ان کے اہل خانہ کے پاس کوئی بھی نہ جاسکتا تھا، ایک دن حسب معمول اور اپنے گھر سے نکلے اور دورازے بند ہوگئے تو ان کی اہلیہ نے گھر میں جھانک کر دیکھا، وہاں وسط گھر میں ایک آدمی کھڑا ہوا دکھائی دیا، انہوں نے گھر میں موجود لوگوں سے پوچھا کہ گھر کا دروازہ تو بند ہے یہ آدمی گھر میں کیسے داخل ہوگیا؟ بخدا! تم داؤد کے سامنے شرمندہ کرواؤ گے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت داؤدعلیہ السلام واپس آئے تو دیکھا کہ گھر کے عین بیچ میں ایک آدمی کھڑا ہے، انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے نہیں ڈرتا اور کوئی چیز مجھے روک نہیں سکتی، حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا بخدا! تم ملک الموت ہو حکم الٰہی کو خوش آمدید اور مٹی پر لیٹ گئے جہاں ان کی روح قبض ہوگئی اور فرشتہ اپنے کام سے فارغ ہوگیا۔ جب سورج طلوع ہوا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ حضرت داؤدعلیہ السلام پر سایا کریں، چنانچہ پرندوں نے ان پر سایا کرلیا، پھر جب زمین پر تاریکی چھا گئی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے فرمایا ایک ایک پر کو سمیٹو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پرندوں کی کیفیت عملی طور پر دکھائی اور اپنا ہاتھ بند کرلیا، اس دن لمبے پروں والا شکرہ غالب آگیا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9432]
الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف لانقطاعه ، فإن المطلب لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9433
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، إِلَّا أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ يُرَبِّيهَا لَهُ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى تَكُونَ لَهُ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب مال میں سے کوئی چیزصدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے، اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے ایک پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9433]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 1410 ، م : 1014
حدیث نمبر: 9434
وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَهُمْ أَوْ شِعْبَهُمْ، الْأَنْصَارُ شِعَارِي، وَالنَّاسُ دِثَارِي" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری وادی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی وادی میں چلوں گا انصار میرا اندر کا کپڑا ہیں اور عام لوگ باہر کا کپڑا ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9434]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 3779 ، م : 76
حدیث نمبر: 9435
وأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ لُبْسَتَيْنِ: الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ بِثَوْبِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَعَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے، ایک تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور دوسرا یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے اور بیع ملامسہ، منابذہ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9435]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2145 ، م : 1511 ، 1545
حدیث نمبر: 9436
وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ , مَرَّتَيْنِ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ له؟، مَنْ الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟. فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِيءَ الْفَجْرُ" .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزانہ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ میں ہوں حقیقی بادشاہ (دو مرتبہ) کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے ے کہ میں اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخشش دوں؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطاء کروں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9436]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 1145 ، م : 758
حدیث نمبر: 9437
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثِ بْنِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً. فَقَالَ: " لَقَدْ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ" . قَالَ حَفْصٌ: سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ سِتِّينَ سَنَةً , وَلَمْ أَبْلُغْ عَشْرَ سِنِينَ، وَسَمِعْتُ حَفْصًا يَذْكُرُ هَذَا الْكَلَامَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (کی زندگی) کے لئے دعاء فرما دیجئے کہ میں اس سے پہلے اپنے تین بچے دفنا چکی ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو تم نے جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو خوب بچا لیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9437]
الحكم على الحديث:
صحیح ، وإسنادہ قوي ، م : 2636
حدیث نمبر: 9438
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: سَمِعْت أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو مقرر ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9438]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 9439
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ , حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَدْعُو، فَقَالَ: " أَحِّدْ أَحِّدْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے تو وہ دعاء کر رہے تھے (اور اس دوران دو انگلیوں سے اشارہ کر رہے تھے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک انگلی سے اشارہ کرو ایک انگلی سے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9439]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد اختلف فیه علی الأعمش