مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9527
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ"، قِيلَ: وَمَا الْهَرْجُ؟، قَالَ:" الْقَتْلُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم اٹھا نہ لیا جائے جہالت کا غلبہ نہ ہوجائے اور " ہرج " کی کثرت نہ ہونے لگے کسی نے پوچھا کہ ہرج کیا معنی ہے؟ فرمایا قتل۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9527]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 7061 ، م : 2672
حدیث نمبر: 9528
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَبْلَى وَيَأْكُلُهُ التُّرَابُ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ، مِنْهُ خُلِقَ، وَفِيهِ يُرَكَّبُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین ابن آدم کا سارا جسم کھاجائے گی سوائے ریڑھ کی ہڈی کے کہ اسی سے انسان پیدا کیا جائے گا اور اسی سے اس کی ترکیب ہوگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9528]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، م : 2955
حدیث نمبر: 9529
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَخْرُجَ , فَيُنَادِيَ:" أَنْ لَا صَلَاةَ، إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ باہر نکل کر اس بات کی منادی کردیں کہ سورت فاتحہ اور اس کے ساتھ کسی دوسری سورت کی قرأت کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9529]
الحكم على الحديث:
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف جعفر
حدیث نمبر: 9530
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعُطَاسَ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَمَنْ عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَحَقٌّ عَلَى مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، وَلَا يَقُلْ: آهْ آهْ , فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا فَتَحَ فَاهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ أَوْ بِهِ" . قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ:" وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ، فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی سے نفرت کرتا ہے۔ لہذا جس آدمی کو چھینک آئے اور وہ اس پر الحمدللہ کہے تو ہر سننے والے پر حق ہے کہ یرحمک اللہ کہے اور جب کسی کو جمائی آئے تو حتی الامکان اسے روکے اور ہاہا نہ کہے کیونکہ جب آدمی جمائی لینے کے لئے منہ کھول کر ہاہا کرتا ہے تو وہ شیطان ہوتا ہے جو اس کے پیٹ میں سے ہنس رہا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9530]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 3289 ، م : 2995
حدیث نمبر: 9531
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ، أَعْظَمُ أَجْرًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسجد سے جتنے زیادہ فاصلے سے آتا ہے اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9531]
الحكم على الحديث:
حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة عبد الرحمن بن مھران
حدیث نمبر: 9532
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَجْلَانُ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُسَابَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ، وَإِنْ سَبَّكَ إِنْسَانٌ , فَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہو تو اسے کوئی گالی گلوچ کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9532]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 1894 ، م : 1151
حدیث نمبر: 9533
حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيْدَ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ , نَاوِلِينِي الثَّوْبَ". قَالَتْ: إِنِّي لَسْتُ أُصَلِّي. قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِكِ"، فَنَاوَلَتْهُ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا مجھے کپڑا پکڑا دو انہوں نے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھ سکتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ناپاکی تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کپڑا پکڑا دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9533]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، م : 299
حدیث نمبر: 9534
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ"، قَالَ: فَفَعَلْنَا، قَالَ فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے کسی سفر میں رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا، ہم سونے کے بعد طلوع آفتاب سے قبل بیدار نہ ہو سکے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر آدمی اپنی سواری کا سر پکڑے (اور یہاں سے نکل جائے) کیونکہ اس جگہ شیطان ہم پر غالب آگیا ہے چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر نماز فجر سے پہلے کی دو سنتیں پڑھیں، پھر اقامت کہی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9534]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، م : 680
حدیث نمبر: 9535
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ"، قَالَ: فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ، ثُمَّ خَرَجَ , فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، ثُمَّ دَخَلَ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ، فَذَلِكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ:" إِنِّي قَدْ قُلْتُ لَكُمْ: إِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، وَإِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمع ہوجاؤ میں تمہیں ایک تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا چنانچہ جمع ہونے والے جمع ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور سورت اخلاص کی تلاوت فرمائی اور واپس گھر میں داخل ہوگئے ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے اس لئے آپ گھر چلے گئے ہیں لیکن تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تمہیں ایک تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا سورت اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9535]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، م : 812
حدیث نمبر: 9536
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خِلَاسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، وَالْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے تو گویا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی شریعت سے کفر کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9536]
الحكم على الحديث:
حدیث حسن ، وھذا إسناد منقطع من جھة خلاس ، فإنه لم یسمع من أبي ھریرۃ ، ومرسل من جھة الحسن البصري