مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9557
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَحْفِهِمَا جَمِيعًا، أَوْ انْعَلْهُمَا جَمِيعًا، فَإِذَا انْتَعَلْتَ فَابْدَأْ بِالْيُمْنَى، وَإِذَا خَلَعْتَ فَابْدَأْ بِالْيُسْرَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں جوتیاں پہنا کرو یا دونوں اتار دیا کرو جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9557]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 5856 ، م : 2097
حدیث نمبر: 9558
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ، فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ، أو لُقْمةَ أو لُقْمَتين وقال ابن جعفر: أَكْلة أَو أَكلتينِ، فَإِنَّهُ وَلِيَ عِلَاجَهُ وَحَرَّهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک دو لقمے ہی اسے دے دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9558]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2557 ، م : 1663
حدیث نمبر: 9559
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَرَدَّهَا، رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، لَا سَمْرَاءَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (اس دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالہ کر دے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9559]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2151 ، م : 1524
حدیث نمبر: 9560
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ بَرَّةَ، فَسَمَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا نام پہلے برہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر ان کا نام زینب رکھ دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9560]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 6192 ، م : 2141
حدیث نمبر: 9561
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة . وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَحْفَظُهُ"، قَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، الم تَنْزِيلُ، وَ هَلْ أَتَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9561]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 1068 ، م : 880
حدیث نمبر: 9562
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً، أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی غلام کو آزاد کرے اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرما دیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9562]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 2517 ، م : 1509
حدیث نمبر: 9563
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَتَبَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ حَظَّهَا مِنَ الزِّنَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہر انسان پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ چھوڑا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9563]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 6612 ، م : 2657
حدیث نمبر: 9564
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الضِّيَافَةَ ثَلَاثَةٌ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ بھی وہ صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9564]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، و ھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9565
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ إِلَّا طَيِّبٌ، إِلَّا كَأَنَّمَا يَضَعُهَا فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرَبِّيهَا، كَمَا يُرَبِّي الرَّجُلُ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ، حَتَّى إِنَّ التَّمْرَةَ لَتَعُودُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ " جو حلال قبول کرتا ہے " اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے، اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے، حتیٰ کہ ایک کھجور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے ایک پہاڑ کے برابر بن جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9565]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1410 ، م : 1014
حدیث نمبر: 9566
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنِ الْمُحَرِّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَ، حَتَّى يَقُولُوا: كَانَ اللَّهُ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، فَمَا كَانَ قَبْلَهُ؟" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگوں پر سوال کی عادت غالب آجائے گی حتیٰ کہ وہ یہ سوال کرنے لگیں گے کہ ساری مخلوق کو تو اللہ نے پیدا کیا، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9566]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 3276 ، م : 135 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف مجالد