مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9517
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَأْخُذُ مِمَّا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ كَلِمَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا، فَيَجْعَلُهُنَّ فِي طَرَفِ رِدَائِهِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ وَيُعَلِّمُهُنَّ؟" . قُلْتُ: أَنَا. وَبَسَطْتُ ثَوْبِي، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ , حَتَّى انْقَضَى حَدِيثُهُ، فَضَمَمْتُ ثَوْبِي إِلَى صَدْرِي، فَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ لَمْ أَنْسَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسمل کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہے کوئی آدمی جو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے فرض کیا ہو ایک کلمہ یا دو تین چار پانچ کلمات حاصل کرے انہیں اپنی چادر کے کونے میں رکھے انہیں سیکھے اور دوسروں کو سکھائے؟ میں نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اپنا کپڑا بچھاؤ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا بچھا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان کی اور فرمایا کہ اسے اپنے جسم کے ساتھ لگا لو میں نے اسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اسی وجہ سے میں امید رکھتا ہوں کہ اس کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث بھی سنی ہے اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9517]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 118 ، م : 2492 ، في ھذا الإسناد عنعنة الحسن البصري : وھو مدلس
حدیث نمبر: 9518
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَسُمْ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9518]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، خ : 2140 ، م : 1413 ، وھذا إسناد منقطع ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9519
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ أَوْ قَارَضٍ ، لَا أَدْرِي شَكَّ إِسْمَاعِيلُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَكَلَ أَثْوَارَ أَقِطٍ، فَتَوَضَّأَ , فَقَالَ: أَتَدْرُونَ مِمَّا تَوَضَّأْتُ؟، إِنِّي أَكَلْتُ أَثْوَارَ أَقِطٍ، فَتَوَضَّأْتُ مِنْهُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ" .
ابراہیم بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پنیر کے ٹکڑے کھائے اور وضو کرنے لگے مجھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ تم جانتے ہو کہ میں کسی چیز سے وضو کر رہا ہوں؟ میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9519]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، م : 352
حدیث نمبر: 9520
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: ذُكِرَ الشَّهِيدُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " لَا تَجِفُّ الْأَرْضُ مِنْ دَمِهِ، حَتَّى تَبْتَدِرَهُ زَوْجَتَاهُ كَأَنَّهُمَا ظِئْرَانِ أَضَلَّتَا , فَصِيلَيْهِمَا فِي بَرَاحٍ مِنَ الْأَرْضِ بِيَدِ أَوْ قَالَ: فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُلَّةٌ، هِيَ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں شہید کا تذکرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین پر شہید کا خون خشک نہیں ہونے پاتا کہ اس کے پاس اس کی دو جنتی بیویاں سبقت کر کے پہنچ جاتی ہیں اور وہ اس ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتی ہوئی آتی ہیں جنہوں نے زمین کے کسی حصے میں اپنے بچوں کو سایہ لینے کے لئے چھوڑ دیا ہو، ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک جوڑا ہوتا ہے جو دنیا ومافیہا سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9520]
الحكم على الحديث:
إسنادہ ضعیف لجھالة ھلال و ضعف شھر
حدیث نمبر: 9521
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، وَحَسَبِهَا، وَدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے چار وجوہات کی بناء پر نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال و دولت کی وجہ سے اس کے حسن و جمال کی وجہ سے اس کے حسب نسب کی وجہ سے اور ان کے دین کی وجہ سے تو دین دار کو منتخب کر کے کامیاب ہوجاؤ تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہوں [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9521]
الحكم على الحديث:
إسنادہ صحیح ، خ : 5090 ، م : 1466
حدیث نمبر: 9522
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ يَسِيرُ، فَلَعَنَ رَجُلٌ نَاقَةً، فَقَالَ:" أَيْنَ صَاحِبُ النَّاقَةِ؟". فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا. قَالَ: " أَخِّرْهَا فَقَدْ أُجِبْتَ فِيهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کو لعنت ملامت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اونٹنی کا مالک کہاں ہے؟ اس آدمی نے کہا میں حاضر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اونٹنی کو پیچھے لے جاؤ کہ اس کے بارے میں تمہاری بات قبول ہوگئی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9522]
الحكم على الحديث:
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد جید
حدیث نمبر: 9523
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ أَنْبِيَاءَهُمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَيْهِمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9523]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 7288 ، م : 1337
حدیث نمبر: 9524
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ فَإِنْ تَحْرِصْ عَلَى إِقَامَتِهِ تَكْسِرْهُ، وَإِنْ تَتْرُكْهُ تَسْتَمْتِعْ بِهِ وَفِيهِ عِوَجٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو اس کے اس ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ اٹھا لوگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9524]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 3331 ، م : 1468
حدیث نمبر: 9525
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَأَبَا الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَيْكَ فِي بَيْتِكَ فَحَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی تمہاری اجازت کے بغیر تمہارے گھر میں جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری دے مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9525]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، له إسنادان ، الأول جید ، والثاني قوي ، خ : 6902 ، م : 2158
حدیث نمبر: 9526
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُكْثِرُونَ هُمْ الْأَسْفَلُونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" , أَمَامَهُ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَخَلْفَهُ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی نیچے ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9526]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید