مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9757
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ ثُوَيْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَشْتَكِي، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ: يَعُودُنِي، فَقَالَ:" أَلَا أُعَلِّمُكَ"، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:" أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ رَقَانِي بِهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام؟"، قُلْتُ: بَلَى، بِأَبِي وَأُمِّي. قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ" . وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:" مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے اور فرمایا کیا میں تمہیں جھاڑ پھونک کے ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن سے جبرائیل علیہ السلام نے مجھے دم کیا تھا؟ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیوں نہیں فرمایا وہ کلمات یہ ہیں اللہ کے نام سے میں تمہیں جھاڑتا ہوں اللہ تمہیں ہر اس بیماری سے جو تمہیں تکلیف پہنچائے گرہوں میں پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے پر آجائے شفاء عطاء فرمائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9757]
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم ولجهالة زیاد
حدیث نمبر: 9758
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى قَطُّ، إِلَّا مَرَّةً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے ایک مرتبہ کے کبھی چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9758]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 9759
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9759]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 9760
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَهْدِيٌّ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ؟، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ :" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ" .
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے میدان عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9760]
الحكم على الحديث:
إسناده ضيف لجهالة مهدي
حدیث نمبر: 9761
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَارُونَ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا لَمْ يُسْمِعْنَا لَمْ نُسْمِعْكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرأت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قراءت کریں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9761]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 772، م: 396
حدیث نمبر: 9762
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشِعْبٍ فِيهِ عَيْنٌ عَذْبَةٌ، قَالَ: فَأَعْجَبَتْهُ، يَعْنِي طِيبَ الشِّعْبِ، فَقَالَ: لَوْ أَقَمْتُ هَاهُنَا وَخَلَوْتُ، ثُمَّ قَالَ: لَا، حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَسَأَلَهُ فَقَالَ: " مُقَامُ أَحَدِكُمْ يَعْنِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَحَدِكُمْ فِي أَهْلِهِ سِتِّينَ سَنَةً، أَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَتَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ؟، جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا کسی ایسی جگہ سے گذر ہوا جہاں پر میٹھے پانی کا چشمہ تھا اور انہیں وہاں کی آب و ہوا بھی اچھی لگی انہوں نے سوچا کہ میں یہیں رہائش اختیار کرکے خلوت گزیں ہوجاتا ہوں پھر انہوں نے سوچا کہ نہیں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا چنانچہ انہوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کا جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہونا اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتے ہوئے ساٹھ سال تک مسلسل عبادت کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور تم جنت میں داخل ہوجاؤ؟ اللہ کی راہ میں جہاد کرو جو شخص اونٹنی کے تھن میں دودھ اترنے کی مقدار کے برابر بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9762]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 9763
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " كُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، لَا تَعَادَوْا وَلَا تَبَاغَضُوا؟، سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو آپس میں دشمنی اور بغض نہ رکھا کرو راہ راست پر رہو صراط مستقیم کے قریب رہو اور خوشخبری قبول کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9763]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9764
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي مَجْلِسٍ فَتَفَرَّقُوا، وَلَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَيُصَلُّوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا كَانَ مَجْلِسُهُمْ تِرَةً عَلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد نہ بھیجیں اور جدا ہوجائیں وہ ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9764]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9765
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَجَّ بِنِسَائِهِ , قَالَ: " إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الْحَجَّةُ، ثُمَّ الْزَمْنَ ظُهُورَ الْحُصْرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ حج کیا تو فرمایا کہ یہ حج تو ہوگیا اس کے بعد تمہیں گھروں میں بیٹھنا ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9765]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 9766
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " نِعْمَ الْإِبِلُ الثَّلَاثُونَ يُحْمَلُ عَلَى نَجِيبِهَا، وَتُعِيرُ أَدَاتَهَا، وَتُمْنَحُ غَزِيرَتُهَا، وَيُجْبِيهَا يَوْمَ وِرْدِهَا فِي أَعْطَانِهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین اونٹ (تعداد کے اعتبار سے) تیس ہوتے ہیں جن میں سے عمدہ اونٹ پر آدمی سامان لادتا ہے کم درجے والے کو عاریت پردے دیتا ہے دودھ سے لبریز کو ہدیہ کردیتا ہے اور جب وہ باڑے میں آتے ہیں تو انہیں دوہ لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9766]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح