مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9787
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " كَانَ شَبْحَ الذِّرَاعَيْنِ، أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، يُقْبِلُ إِذَا أَقْبَلَ جَمِيعًا، وَيُدْبِرُ إِذَا أَدْبَرَ جَمِيعًا" . قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ: بِأَبِي وَأُمِّي، " لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا، وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَلَا سَخَّابًا بِالْأَسْوَاقِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بھرے ہوئے آنکھوں کی پلکیں لمبی اور گھنی اور دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری طرح متوجہ ہوتے اور پوری طرح رخ پھیرتے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ فحش گو یا بتکلف بےحیاء نہ بنتے تھے اور نہ ہی بازاروں میں شور مچاتے پھرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9787]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 9788
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي أُمِّ الْقُرْآنِ: " هِيَ أُمُّ الْقُرْآنِ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَهِيَ الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ کے بارے میں فرمایا یہی ام القرآن ہے یہی سبع مثانی اور یہی قرآن عظیم ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9788]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4704
حدیث نمبر: 9789
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَهَاشِمٌ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَوْلَا أَمْرَانِ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَمْلُوكًا، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا خَلَقَ اللَّهُ عَبْدًا يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ، وَحَقَّ سَيِّدِهِ، إِلَّا وَفَّاهُ اللَّهُ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ" . قَالَ يَزِيدُ: إِنَّ الْمَمْلُوكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ فِي مَالِهِ شَيْئًا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کے حقوق کو ادا کرتا ہے تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9789]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666
حدیث نمبر: 9790
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ، أُمُّ الْقُرْآنِ، وَأُمُّ الْكِتَابِ , وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ کے بارے میں فرمایا یہی ام القرآن اور ام الکتاب ہے، یہی سبع مثانی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9790]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4704
حدیث نمبر: 9791
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ، وَسَتَصِيرُ نَدَامَةً، وَحَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَنْعِمَتِ الْمُرْضِعَةُ، وبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب تم لوگ حکمرانی کی خواہش اور حرص کروگے لیکن یہ حکمرانی قیامت کے دن باعث حسرت و ندامت ہوگی پس وہ بہترین دودھ پلانے اور بدترین دودھ چھڑانے والی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9791]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7148
حدیث نمبر: 9792
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " اخْتَصَمَ آدَمُ , وَمُوسَى عليهما السلام، فَخَصَمَ آدَمُ مُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَشْقَيْتَ النَّاسَ، وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ؟ أَلَيْسَ تَجِدُ فِيهَا أَنْ قَدْ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي؟ قَالَ: بَلَى" . قَالَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، قَالَ مُحَمَّدٌ: يَكْفِينِي أَوَّلُ الْحَدِيثِ، فَخَصَمَ آدَمُ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم و موسیٰ (علیہم السلام) کی باہم ملاقات ہوگئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ وہی آدم ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اپنی جنت میں آپ کو ٹھہرایا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا پھر آپ نے یہ کام کردیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا تم وہی ہو جس سے اللہ نے کلام کیا اور اس پر تورات نازل فرمائی؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا جی ہاں حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا میری پیدائش سے قبل یہ حکم لکھا ہوا تم نے تورات میں پایا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس طرح حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9792]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4736، م: 2652
حدیث نمبر: 9793
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، اشْتَرِيَا أَنْفُسَكُمَا مِنَ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلَانِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوعبدالمطلب سے فرمایا کہ اے بنی عبد المطلب اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے بنی ہاشم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے بنی عبدمناف اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے پیغمبر اللہ کی پھوپھی ام زبیر اور اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو کیونکہ میں اللہ کی طرف سے تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ تم جو چاہو مجھ سے (مال و دولت) مانگ سکتی ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9793]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3527، م: 206
حدیث نمبر: 9794
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ لَأَنْ يَرَانِي، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِثْلُ أَهْلِهِ وَمَالِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے کسی پر ایک دن ایسا بھی آئے گا جب اس کے نزدیک مجھے دیکھنا اپنے اہل خانہ اور اپنے مال و دولت سے زیادہ محبوب ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9794]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3589، م: 2364
حدیث نمبر: 9795
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَسْتَقِيمُ لَكَ الْمَرْأَةُ عَلَى خَلِيقَةٍ وَاحِدَةٍ، إِنَّمَا هِيَ كَالضِّلَعِ إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا، وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا، وَفِيهَا عِوَجٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت ایک خصلت پر کبھی نہیں رہ سکتی وہ تو پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دوگے تو اس کے اس ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ اٹھا لوگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9795]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5184، م: 1468
حدیث نمبر: 9796
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، وَفِي مُؤَخَّرِ الصُّفُوفِ رَجُلٌ فَأَسَاءَ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ، نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا فُلَانُ، أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟، أَلَا تَرَى كَيْفَ تُصَلِّي؟، إِنَّكُمْ تَرَوْنَ أَنَّهُ يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا تَصْنَعُونَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی پچھلی صفوں میں ایک آدمی کھڑا تھا جو نماز صحیح طریقے سے نہیں پڑھ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو اسے پکار کر فرمایا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟ تم کیسی نماز پڑھ رہے تھے؟ تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری حرکات مجھ پر مخفی رہتی ہیں بخدا! میں تمہیں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9796]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423