مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10264
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10264]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2179
حدیث نمبر: 10265
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْعَلَاءِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ , وَمَكَّةُ مَحْفُوفَتَانِ بِالْمَلَائِكَةِ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكٌ، لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ فرشتوں کی حفاظت میں ہیں اور ان کے تمام سوراخوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے اس لئے یہاں دجال یا طاعون داخل نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10265]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1880، م: 1379، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمر بن العلاء الثقفي وأبيه
حدیث نمبر: 10266
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُومُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ، وَلَكِنْ أَفْسِحُوا يَفْسَحْ اللَّهُ لَكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے بلکہ کشادگی پیدا کرلیا کرو اللہ تمہارے لئے کشادگی فرمائے گا۔ اور جو جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی گرمی اور مشقت سے اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ ہی اسے دے دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10266]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10266M
وَإِذَا صَنَعَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ طَعَامًا فَوَلِيَ حَرَّهُ وَمَشَقَّتَهُ، فَلْيَدْعُهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ، فَإِنْ لَمْ يَدْعُهُ، فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ .
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2557، م: 1663
حدیث نمبر: 10266M
" وَمَنْ بَاعَ مُصَرَّاةً، فَالْمُشْتَرِي بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ" .
اور جو شخص بندھے ہوئے تھن والا جانور بیچے تو مشتری (خریدنے والا) کو تین دن تک اختیار رہتا ہے اگر چاہے تو واپس کرسکتا ہے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10266M]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 10267
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَبَّحَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، خَلْفَ الصَّلَاةِ، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ وَلَوْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ پڑھ لیا کرے اور آخر میں یہ کہہ لیا کرے لاالہ اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر۔ تو اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ سے بھی زیادہ ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10267]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 597
حدیث نمبر: 10268
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِيَّ أَسْلَمَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنْ يُنْطَلَقَ بِهِ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ فَيَغْتَسِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ صَاحِبِكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ثمامہ بن اثال حنفی نے اسلام قبول کرلیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہیں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں غسل کے لئے لے جایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ساتھی کا اسلام خوب عمدہ ہوگیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10268]
الحكم على الحديث:
حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله
حدیث نمبر: 10269
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَتَاهُ عَنِّي حَدِيثٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي أَرِيكَتِهِ , فَيَقُولُ: اتْلُوا بِهِ عَلَيَّ قُرْآنًا، مَا جَاءَكُمْ عَنِّي مِنْ خَيْرٍ قُلْتُهُ أَوْ لَمْ أَقُلْهُ، فَأَنَا أَقُوله، وَمَا أَتَاكُمْ مِنْ شَرٍّ، فَإِنِّي لَا أَقُولُ الشَّرَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں سے کسی ایسے آدمی کے متعلق نہ سنوں کہ اس کے سامنے میری کوئی حدیث بیان کی جائے اور وہ مسہری پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو اور کہے کہ میرے سامنے تو قرآن پڑھو (حدیث نہ پڑھو) تمہارے پاس میرے حوالے سے خیر کی جو بات بھی پہنچے خواہ میں نے کہی ہو یا نہ کہی ہو وہ میری ہی کہی ہوئی ہے اور میرے حوالے سے جو غلط بات تم تک پہنچے تو یاد رکھو کہ میں غلط بات نہیں کہتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10269]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبى معشر
حدیث نمبر: 10270
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْخَزْرَجُ بْنُ عُثْمَانَ السَّعْدِيُّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِيدُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا، وَلَنَصِيفُ امْرَأَةٍ مِنَ الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا" ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , مَا النَّصِيفُ؟ قَالَ: الْخِمَارُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا اور اس جیسی تمام چیزوں سے بہتر ہوگی اس طرح جنتی عورت کا دوپٹہ دنیا اور اس جیسی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10270]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 2793
حدیث نمبر: 10271
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْخَزْرَجُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: دَخَلْتُ مَعَهُ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَرَأَى غُلَامًا , فَقَالَ لَهُ: يَا غُلَامُ , اذْهَبْ الْعَبْ، قََالَ: إِنَّمَا جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، قََالَ: يَا غُلَامُ , اذْهَبْ الْعَبْ، قََالَ: إِنَّمَا جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، قََالَ: فَتَقْعُدُ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ؟ قََالَ: نَعَمْ، قََالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَجِيءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَتَقْعُدُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، فَيَكْتُبُونَ السَّابِقَ وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ وَالنَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ، حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پر فرشتے لوگوں کے مراتب لکھتے ہیں فلاں پہلے، دوسرے اور تیسرے، نمبر پر آیا، ابوایوب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا تو فرمایا اے لڑکے! باہر جا کر کھیلو وہ کہنے لگا کہ میں تو مسجد میں آیا ہوں دو مرتبہ یہی سوال جواب ہوئے پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ امام کے آنے تک بیٹھے رہو اس نے کہا بہت اچھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہاں تک کہ امام نکل آئے اس کے بعد صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10271]
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3211، م: 850