مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10272
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي الْخَزْرَجُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ السَّعْدِيَّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ يَعْنِي مَوْلَى عُثْمَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ تُعْرَضُ كُلَّ خَمِيسٍ , لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَلَا يُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے بنی آدم کے اعمال ہر جمعرات کو پیش کئے جاتے ہیں اور کسی قطع رحمی کرنے والے کے اعمال قبول نہیں کئے جاتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10272]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 10273
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا الْخَزْرَجُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" أَوْصَانِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ: الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَصَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالْوَتْرُ قَبْلَ النَّوْمِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا (١) جمعہ کے دن غسل کرنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10273]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 10274
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، أَوْ كَمَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بےحجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے دیا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10274]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1819، م: 1350
حدیث نمبر: 10275
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ أَوْ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10275]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، م: 1394
حدیث نمبر: 10276
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ , وَأَبُو نُعَيْمٍ , قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْتَرِيَ حَاضِرٌ لِبَادٍ" ، وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ:" لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے تجارت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10276]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 10277
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ رَبَّهُمْ، وَيُصَلُّوا فِيهِ عَلَى نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنْ شَاءَ آخَذَهُمْ بِهِ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد نہ بھیجیں اور جدا ہوجائیں وہ ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہو گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10277]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10278
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ"، فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10278]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، لكنه متابع، أنظر ما قبله
حدیث نمبر: 10279
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ" ، وَالْمُحَاقَلَةُ , الْبُرُّ بِالْبُرِّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ (وضاحت گذر چکی ہے) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10279]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1511
حدیث نمبر: 10280
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعُقُوبَةِ، مَا طَمِعَ بِالْجَنَّةِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ، مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ، خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَوَضَعَ وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا، وَعِنْدَ اللَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندہ مومن کو وہ سزائیں معلوم ہوجائیں جو اللہ نے تیار کر رکھی ہیں تو کوئی بھی جنت کی طمع نہ کرے (صرف جہنم سے بچنے کی دعا کرتے رہیں) اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کا اندازہ ہوجائے تو کوئی بھی جنت سے ناامید نہ ہو اللہ نے سو رحمتیں پیدا فرمائی ہیں ایک رحمت اپنے بندوں کے دل میں ڈال دی ہے جس سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10280]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2752
حدیث نمبر: 10281
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي وَأَمَتِي، كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: غُلَامِي وَجَارِيَتِي، وَفَتَايَ وَفَتَاتِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے عبدی امتی کیونکہ تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری عورتیں اس کی بندیاں ہیں بلکہ یوں کہے میرا جوان میری جوان میرا غلام۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10281]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249