مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10234
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً، لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ يَدْعُو فِيهَا خَيْرًا، إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10234]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 10235
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے تجارت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10235]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 10236
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الْغُبَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمْ الشَّاةَ أَوْ اللِّقْحَةَ، فَلَا يُحَفِّلْهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری یا اونٹنی کو بیچنا چاہے تو اس کے تھن نہ باندھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10236]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 10237
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رزق اتنا مقرر فرما کہ گذارہ ہوجائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10237]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6460، م: 1055
حدیث نمبر: 10238
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَمِسْعَرٌ , عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ هِشَامٌ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَوَقَفَهُ مِسْعَرٌ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ، أَوْ تَكَلَّمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کو یہ چھوٹ دی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10238]
الحكم على الحديث:
صحيح، خ: 2528، م: 127، وله هنا إسنادان، الأول: مرفوع والثاني: موقوف
حدیث نمبر: 10239
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً، فَهُوَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ رَدَّهَا، وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دیئے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10239]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 10240
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُكُمْ إِسْلَامًا أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا إِذَا فَقُهُوا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10240]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10241
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى الْمِلَّةِ"، وَقَالَ مَرَّةً: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُشْرِكَانِهِ" قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین یہودی عیسائی یا مشرک بنا دیتے ہیں کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ جو بچے پہلے ہی مرجائیں ان کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا کرتے؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10241]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1358 ، م: 2658
حدیث نمبر: 10242
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قََالَ: أَرَى أَبَا حَازِمٍ ذَكَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ، إِنْ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِلَّا تَرَكَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنانہ ہوتی تو سکوت فرمالیتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10242]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5409، م: 2064
حدیث نمبر: 10243
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے صرف ایک دستی کی دعوت دی جائے تو میں قبول کرلوں گا اور اگر ایک پائے کی دعوت دی جائے تب بھی قبول کرلوں گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10243]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5178