🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10254
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَزَالُ أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي أَمْوَالَهُمْ وَأَنْفُسَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب کتاب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10254]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 21
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10255
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، وَلَكِنْ مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10255]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7288، م: 1337
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10256
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ,قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ، وَلَكِنْ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ لیکن صراط مستقیم کے قریب رہو راہ راست پر رہو اور خوشخبری قبول کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10256]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5673، م: 2816
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10257
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ مَا أُعْطِيكُمْ وَلَا أَمْنَعُكُمْ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ، أَضَعُهُ حَيْثُ أُمِرْتُ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا! میں تمہیں کچھ دیتا ہوں یا تم سے روکتا نہیں ہوں میں تو تقسیم کنندہ ہوں۔ جہاں حکم ہوتا ہے رکھ دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10257]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3117
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10258
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سب سے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء (علیہم السلام) باپ شریک بھائی ہیں اور ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہی ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10258]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3442، م: 2365
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10259
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً، يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَظِلٍّ مَمْدُودٍ سورة الواقعة آية 30" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو لمبے اور طویل سائے میں ہوں گے۔ اس کے آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا چیزیں چھپائی گئی ہیں۔ " [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10259]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3252، م: 2826
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10260
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَابُ قَوْسٍ، أَوْ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِمَّا تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَتَغْرُبُ" .
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہوگی جن پر سورج طلوع و غروب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10260]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2793
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10261
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِمَامًا عَادِلًا، وَحَكَمًا مُقْسِطًا، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيُرْجِعُ السَّلْمَ، وَيَتَّخِذُ السُّيُوفَ مَنَاجِلَ، وَتَذْهَبُ حُمَةُ كُلِّ ذَاتِ حُمَةٍ، وَتُنْزِلُ السَّمَاءُ رِزْقَهَا، وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ بَرَكَتَهَا، حَتَّى يَلْعَبَ الصَّبِيُّ بِالثُّعْبَانِ فَلَا يَضُرُّهُ، وَيُرَاعِي الْغَنَمَ الذِّئْبُ فَلَا يَضُرُّهَا، وَيُرَاعِي الْأَسَدُ الْبَقَرَ فَلَا يَضُرُّهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عادل امام اور منصف حکمران بن کر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ موقوف کردیں گے اور تلواریں درانتیاں بنالی جائیں گی ہر ڈنک والی چیز کا ڈنک ختم ہوجائے گا آسمان اپنارزق اتارے گا زمین اپنی برکت اگلے گی حتیٰ کے بچے سانپوں سے کھلیتے ہوں گے اور وہ سانپ انہیں نقصان نہ پہنچائیں گے بھیڑ یا بکری کی حفاظت کرے گا اور اسے نقصان نہ پہنچائے گا اور شیر گائے کی دیکھ بھال کرے گا اور اسے نقصان نہ پہنچائے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10261]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 2476، م: 155
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10262
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُصَيْنٍ الْأَسْلَمِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَبِيحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ تَغْدُو بِأَجْرٍ، وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ، مَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعِتَاقَةِ الْأَحْمَرِ، وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعِتَاقَةِ الْأَسْوَدِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہترین صدقہ وہ دودھ دینے والی بکری ہے جو صبح و شام اجر کا سبب بنتی ہے دودھ دینے والی اونٹنی کا صدقہ کسی رنگت والے کو آزاد کرنے کی طرح ہے اور دودھ دینے والی بکری کا صدقہ کسی سیاہ فام کو آزاد کرنے کی طرح ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10262]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، محمد بن عبدالله مجهول، وعبيد الله مثله، وفليح يضعف فى التفرد، وهذا الحديث تفرد به الإمام أحمد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10263
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ وَلَّى وَلَهُ حُصَاصٌ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ، أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ لِيُنْسِيَهُ صَلَاتَهُ، فَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَلِّمْ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے تاکہ وہ بھول جائے اس لئے جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو سلام پھیر کر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10263]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، فليح قد خالف فيه من هو أوثق منه، انظر، خ: 608، م: 389
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں