مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10312
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي أَزْهَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، فَيَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ فَمَا يُسْتَجَابُ لِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری دعاء ضرور قبول ہوگی بشرطیکہ جلدبازی نہ کی جائے جلدبازی سے مراد یہ ہے کہ آدمی یوں کہنا شروع کردے کہ میں نے تو اپنے رب سے اتنی دعائیں کیں وہ قبول ہی نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10312]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6340، م: 2735
حدیث نمبر: 10313
قَرَأْتُ عَلَى قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ . وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَنْزِلُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزانہ جب رات کا تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطاء کروں؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10313]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758
حدیث نمبر: 10314
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ " قَرَأَ لَهُمْ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 فَسَجَدَ فِيهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا" .
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا نماز کے بعد فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سورت میں سجدہ کیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10314]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
حدیث نمبر: 10315
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ: " ارْكَبْهَا"، فَقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا وَيْلَكَ" ، فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، قَالَ إِسْحَاقُ:" ارْكَبْهَا وَيْلَكََ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کرلیے جارہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے دوبارہ عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر سوار ہونے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10315]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1689، م: 1322
حدیث نمبر: 10316
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا يُسَاوِمْ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا، وَلِتُنْكَحَ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے یا بیع میں دھوکہ نہ دے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔ کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10316]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 10317
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قََالَ: قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ :" حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، قَالَ: يُرِيدُ الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَاءَ سَاكِنَةً مَا ذَعَرْتُهَا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں مدینہ منورہ میں ہر نوں کو دیکھ بھی لوں تب بھی انہیں نہ ڈراؤں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10317]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1873، م: 1372
حدیث نمبر: 10318
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ الْجُنْدُعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِي آنِفًا؟"، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا، قَالَ:" إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیں کوئی نماز پڑھائی اور اس میں جہراً قرأت فرمائی نمار سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے؟ ایک آدمی نے کہا جی یارسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10318]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10319
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، هِيَ خِدَاجٌ، هِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ" ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ، قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي، وَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ , اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے میں نے عرض کیا اے ابوہریرہ! اگر کبھی میں امام کے پیچھے ہوں؟ انہوں نے میرے بازو میں چٹکی بھر کر فرمایا اے فارسی اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10319]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 395
حدیث نمبر: 10320
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ" ، قَالَ أَيُّوبُ: أُنْبِئْتُ أَنَّ رَجُلًا شَرِبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ، فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے راوی حدیث ایوب کہتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک آدمی نے مشکیزے کے منہ سے اپنا منہ لگا کر پانی پیا تو اس میں سے سانپ نکل آیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10320]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5628
حدیث نمبر: 10321
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ ، قََالَ: قُلْتُ يَعْنِي لِأَبِي هُرَيْرَةَ : هَلْ سَمِعْتَ مِنْ خَلِيلِكَ شَيْئًا تُحَدِّثُنِيهِ؟ قََالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَخَيْرُ الطِّيَرِ الْفَأْلُ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور الو (کو منحوس سمجھنے کی) کوئی حقیقت نہیں بہترین شگون فال ہے اور نظر لگنا برحق ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10321]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5717، 5755، م: 2220، 2223