🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10352
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ حَدِيثٍ ذَكَرَهُ , عَنْ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي عُمَرَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10352]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10353
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ , قََالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُهُ، فَقَالَ: أَلَمْ أُغْنِكَ يَا أَيُّوبُ؟ فَقَالَ: يَا رَبِّ، وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ، أَوْ قَالَ: مِنْ فَضْلِكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوب (علیہ السلام) پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب (علیہ السلام) انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10353]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 279
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10354
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ، وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور اس کا پانی زہر کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10354]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10355
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ، فَمَاتَتْ؟ فَقَالَ: " إِنْ كَانَ جَامِدًا، فَخُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَكُلُوا مَا بَقِيَ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا، فَلَا تَأْكُلُوهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گراہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کرلو اور اگر گھی مائع کی شکل میں ہو تو اسے مت استعمال کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10355]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وأن معمرا قد أخطأ فى إسناده ومتنه، خ: 5538
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10356
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا فَرَعَ، وَلَا عَتِيرَةَ" ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَالْفَرَعُ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَذْبَحُونَ أَوَّلَ نِتَاجٍ يَكُونُ لَهُمْ، وَالْعَتِيرَةُ: ذَبِيحَةُ رَجَبٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10356]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5474، م: 1976
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10357
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ" ، قُلْتُ لِيَحْيَى: مَا يَعْنِي بِالْأَسْوَدَيْنِ؟ قَالَ: الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو مارا جاسکتا ہے یحییٰ نے دو کالی چیزوں کی وضاحت سانپ اور بچھو سے کی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10357]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10358
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ فَلْيَقْبَلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ بن مانگے کچھ مال و دولت عطاء فرما دے تو اسے قبول کرلینا چاہئے کیونکہ یہ زرق ہے جو اللہ نے اس کے پاس بھیجا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10358]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عبد الملك: فلم نتبين من هو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10359
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ ، عَنْ رَجُلٍ صَلَّى رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ، قََالَ: عَفَّانُ ثُمَّ طَلَعَ قَرْنُ الشَّمْسِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي خِلَاسٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُتِمُّ صَلَاتَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتادہ رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر ایک آدمی نے فجر کی ایک رکعت ہی پڑھی تھی کہ سورج نکل آیا تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے اپنی سند سے یہ نقل کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا آدمی اپنی نماز مکمل کرلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10359]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10360
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَأْتُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ جَاءَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَةِ كَذَا، قَالَ حَمَّادٌ: أَظُنُّهُ قَالَ: خَمْسَ مِرَارٍ , جَاءَ فُلَانٌ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَجَاءَ فُلَانٌ فَأَدْرَكَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يُدْرِكْ الْجُمُعَةَ، أَوْ لَمْ يُدْرِكْ الْخُطْبَةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پر فرشتے لوگوں کے مراتب لکھتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں وقت آیا فلاں آدمی فلاں وقت آیا فلاں آدمی اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا فلاں آدمی آیا تو اسے صرف نماز ملی اور جمعہ نہیں ملا یہ اس وقت لکھتے ہیں جبکہ کسی کو خطبہ نہ ملا ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10360]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف علي، وجهالة أوس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10361
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مَعَهَا عَصَا مُوسَى، وَخَاتَمُ سُلَيْمَانَ، فَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِنِ بِالْعَصَا، وَتَخْتِمُ أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْخَاتَمِ، حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْخِوَانِ لَيَجْتَمِعُونَ، فَيَقُولُ هَذَا: يَا مُؤْمِنُ، وَيَقُولُ هَذَا: يَا كَافِرُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دابۃ الارض کا خروج ہوگا جس کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی ہوگی وہ کافر کی ناک پر مہر سے نشان لگا دے گا اور مسلمان کے چہرے کو عصا کے ذریعے روشن کردے گا یہاں تک کہ لوگ ایک دسترخوان پر اکٹھے ہوں گے اور ایک دوسرے کو اے مومن اور اے کافر کہہ کر پکاریں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10361]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف علي، وجهالة أوس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں