مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10332
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا عَجَّلْتُمُوهُ إِلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا أَلْقَيْتُمُوهُ عَنْ عَوَاتِقِكُمْ"، أَوْ قَالَ،" عَنْ ظُهُورِكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنازے لے جانے میں جلدی سے کام لیا کرو کیونکہ اگر میت نیک ہو تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر میت گناہ گار ہو تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10332]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1315، م: 944
حدیث نمبر: 10333
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ، فَمَاتَ، فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ مِنْ أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا، لَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا، فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي، وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ، يَدْعُو لِلْعَصَبَةِ، أَوْ يَغْضَبُ لِلْعَصَبِيَّةِ، أَوْ يُقَاتِلُ لِلْعَصَبِيَّةِ، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص امیر کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حال میں مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوئی اور جو شخص کسی جھنڈے کے نیچے بےمقصد لڑتا ہے (قومی یا لسانی) تعصب کی بناء پر غصہ کا اظہار کرتا ہے اسی کی خاطر لڑتا ہے اور اسی کے پیش نظر مدد کرتا ہے اور مارا جاتا ہے تو اس کا مرنا بھی جاہلیت کے مرنے کی طرح ہوا [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10333]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، لكن ظاهر الحديث أنه موقوف، م: 1848
حدیث نمبر: 10334
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ رَبَاحٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ، وَخَالَفَ الطَّاعَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10334]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، فهو كسابقه
حدیث نمبر: 10335
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی " من " (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور اس کا پانی زہر کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10335]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 10336
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا مُسْلِمٍ جَلَدْتُهُ"، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ:" أَوْ سَبَبْتُهُ، أَوْ لَعَنْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا، وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذاء پہنچائی ہو یا اسے لعنت کی ہو اسے اس شخص کے لئے باعث تزکیہ و اجر اور قیامت کے دن اپنے قرب کا سبب بنا دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10336]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 10337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ، فَحَدِيدَتُهُ بِيَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى فِيهَا، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آپ کو کسی تیزدھار آلے سے قتل کرلے (خودکشی کرلے) اس کا وہ تیزدھار آلہ اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر اپنے پیٹ میں گھونپتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور جو شخص اپنے آپ کو پہاڑ سے نیچے گرا کر خودکشی کرلے وہ جہنم میں بھی پہاڑ سے نیچے گرتا رہے گا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10337]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5778، م: 109
حدیث نمبر: 10338
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں (١) ختنہ کرنا (٢) زیرناف بال صاف کرنا (٣) بغل کے بال نوچنا۔ (٤) ناخن کاٹنا (٥) مونچھیں تراشنا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10338]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5891، م: 257
حدیث نمبر: 10339
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ثُمَّ طَلَعَتْ، فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی ایک رکعت پڑھ لے اور سورج نکل آئے تو اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی شامل کرلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10339]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
حدیث نمبر: 10340
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , الْمَعْنَى، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَامْشُوا إِلَيْهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے اقامت ہوجائے تو اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10340]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 10341
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: وَسُئِلَ عَنِ الْإِنَاءِ يَلَغُ فِيهِ الْكَلْبُ , قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " يُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے اور پہلی مرتبہ مٹی سے مانجھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10341]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 172، م: 279