مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10372
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10372]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134
حدیث نمبر: 10373
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَيَزِيدُ , قََالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ حَيْثُ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَاهُمْ عَنْ الْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْمَزَادَةِ , الْمَجْبُوبَةِ، وَقالَ: انْتَبِذْ فِي سِقَائِكَ، وَأَوْكِهِ، وَاشْرَبْهُ حُلْوًا طَيِّبًا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِي مِثْلِ هَذِهِ، قَالَ:" إِذَنْ تَجْعَلَهَا مِثْلَ هَذِهِ" ، قَالَ يَزِيدُ: وَفَتَحَ هِشَامٌ يَدَهُ قَلِيلًا، فَقَالَ:" إِذَنْ تَجْعَلَهَا مِثْلَ هَذِهِ"، وَفَتَحَ يَدَهُ شَيْئًا أَرْفَعَ مِنْ ذَلِكَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بنوعبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حنتم، نقیر، مزفت اور توشہ دان سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے مشکیزے میں نبیذ بناؤ اس کا منہ بند کردو اور شیریں و پاکیزہ پی لو ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اتنی سی کی اجازت دے دیجئے (راوی نے ہاتھ سے اشارہ کرکے دکھایا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعد میں تم اسے اتنا بنا لوگے (راوی نے پہلے کی نسبت ہاتھ کو زیادہ کھول کر اشارہ کرکے دکھایا) [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10373]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1993
حدیث نمبر: 10374
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان خدا! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10374]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6724، م: 2563، وإسناده ضعيف لجهالة حيان
حدیث نمبر: 10375
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قََالَ: لَا أَعْلَمُ هَذَا إِلَّا مَا حَدَّثَنَاهُ أَبِي وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ الْهَرْجَ"، قَالَ: قِيلَ: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: الْقَتْلُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے " ہرج " کی کثرت ہوگی کسی نے پوچھا کہ ہرج کا کیا معنی ہے؟ فرمایا قتل۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10375]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 7061، م: 2672، إسناده ضعيف، حيان والد سليم: مجهول
حدیث نمبر: 10376
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ صَدَقَةً لَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ كَانَ هَدِيَّةً أَكَلَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدمت میں جب آپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تناول فرما لیتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرما دیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10376]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
حدیث نمبر: 10377
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10377]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10378
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ، قََالَ: أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَفَّانُ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ: " يَا ابْنَ آدَمَ، حَمَلْتُكَ عَلَى الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ، وَزَوَّجْتُكَ النِّسَاءَ، وَجَعَلْتُكَ تَرْبَعُ، وَتَرْأَسُ، فَأَيْنَ شُكْرُ ذَلِكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے ابن آدم میں نے تجھے گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار کرایا عورتوں سے تیرا نکاح کروایا اور میں نے تجھے سیادت عطاء کی ان تمام چیزوں کا شکر کہاں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10378]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2968
حدیث نمبر: 10379
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ: " أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَقَالَ: يَا رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ"، ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: فَيَقُولُ: اعْمَلْ مَا شِئْتَ، قَدْ غَفَرْتُ لَكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی گناہ کرتا ہے پھر کہتا ہے کہ پروردگار! مجھ سے گناہ کا ارتکاب ہوا مجھے معاف فرمادے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کا کام کیا اور اسے یقین ہے کہ اس کا کوئی رب بھی ہے جو گناہوں کو معاف فرماتا یا ان پر مواخذہ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو تین مرتبہ مزید دہرایا آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو جو چاہے کر میں نے تجھے معاف کردیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10379]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7507، م: 2758
حدیث نمبر: 10380
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قََالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، قََالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ عَبْدًا أَصَابَ ذَنْبًا"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10380]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 10381
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ، حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ، ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ فَأَكَلَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو ہدیہ دے کر واپس مانگ لے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو خوب سیراب ہو کر کھائے اور جب پیٹ بھر جائے تو اسے قے کردے اور اس قے کو چاٹ کر دوبارہ کھانے لگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10381]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة، وقد توبع