مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10412
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْعُرْسِ، يُطْعَمُهُ الْأَغْنِيَاءُ، وَيُمْنَعُهُ الْمَسَاكِينُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10412]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5177، م: 1432
حدیث نمبر: 10413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ ثُمَّ تَفَرَّقُوا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ، كَأَنَّمَا تَفَرَّقُوا عَنْ جِيفَةِ حِمَارٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ اکھٹے ہوں اور اللہ کا ذکر کئے بغیر ہی جدا ہوجائیں وہ ایسے ہوتے ہیں گویا کہ کسی مردار گدھے سے جدا ہوئے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10413]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 10414
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جِدَالٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10414]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10415
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ: قََالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ كَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، فَقَالَ: قَبْلَ أَنْ يَقُومَ سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ ثُمَّ أَتُوبُ إِلَيْكَ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مجلس میں شریک ہو اور وہاں بیہودگی زیادہ ہوجائے تو اس مجلس سے اٹھتے وقت یوں کہہ لے سبحانک ربنا وبحمدک لاالہ الا انت استغفرک ثم اتوب الیک تو اس مجلس میں ہونے والے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10415]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10416
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10416]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2355 ، م: 1710
حدیث نمبر: 10417
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قََالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اخْتَلَفَتْ النَّاسُ فِي طُرُقِهِمْ أَنَّهَا سَبْعُ أَذْرُعٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جب راستے کی پیمائش میں لوگوں کا اختلاف ہوجائے تو اسے سات گز رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10417]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
حدیث نمبر: 10418
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ , فَقَالَ: " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10418]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 365، م: 515
حدیث نمبر: 10419
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَابَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10419]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4635، م: 157
حدیث نمبر: 10420
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ يَعْلَمُهُ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10420]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10421
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ، كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِذَا لَمْ يَشْتَهِهِ سَكَتَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنا نہ ہوتی تو سکوت فرما لیتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10421]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2064