مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10442
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَوْ عَلَى النَّاسِ، لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، وَلَا يَجِدُونَ مَا يَتَحَمَّلُونَ عَلَيْهِ، فَيَخْرُجُونَ فَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّه، فَأُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ میں انہیں سواری مہیا کروں اور وہ خود بھی سواری نہیں رکھتے کہ نکل پڑیں مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10442]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
حدیث نمبر: 10443
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قََالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ " يُصَلِّي بِالْمَدِينَةِ نَحْوًا مِنْ صَلَاةِ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي؟ قَالَ: وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ صَلَاتِي؟ قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ إِلَّا خَيْرًا، إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ، قَالَ: نَعَمْ , وَأَجْوَزُ" .
ابوخالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مدینہ منورہ میں قیس بن ابی حازم کی طرح نماز پڑھاتے تھے ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح نماز پڑھایا کرتے تھے؟ (جیسے آپ ہمیں پڑھاتے ہیں) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں میری نماز میں کیا چیز اوپری اور اجنبی محسوس ہوتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں اسی کے متعلق آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا فرمایا ہاں بلکہ اس سے بھی مختصر۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10443]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10444
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے۔ ایک کھجور اور ایک انگور۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10444]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1985
حدیث نمبر: 10445
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَكْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، لِأَنَّ الرَّجُلَ يَشْتَغِلُ فِيهِ عَنْ صِيَامِهِ وَصَلَاتِهِ وَعِبَادَتِهِ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ، فَلْيُعَجِّلْ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر بھی عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی کو اس کے کھانے پینے اور نیند سے روک دیتا ہے اس جب تم میں سے کوئی شخص اپنی ضرورت کو پورا کرچکے تو وہ جلد از جلد اپنے گھر کو لوٹ آئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10445]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1804، م: 1927، وهذا إسناد ضعيف، أبو عبدالله البكري، مجهول
حدیث نمبر: 10446
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ حَدِيثًا , ثُمَّ قَالَ: " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟ لَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَؤُهُنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے پاس تین صحت حاملہ اونٹنیاں لے کر لوٹے؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں (ہر شخص چاہتا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی قرآن کریم کی تین آیتیں نماز میں پڑھتا ہے اس کے لئے وہ تین آیتیں تین حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10446]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 802
حدیث نمبر: 10447
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى، غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص چاشت کی دو رکعتوں کی پابندی کرلیا کرے اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10447]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف النهاس، وشداد لم يسمع من ابي هريره
حدیث نمبر: 10448
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ النِّسَاءَ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ، لَا يَسْتَقِمْنَ عَلَى خَلِيقَةٍ، إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا، وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو اسے توڑ ڈالوگے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دوگے تو اس کے اس ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ اٹھا لوگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10448]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3331، م: 1468
حدیث نمبر: 10449
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , أَنَّ نُعَيْمًا الْمُجْمِرَ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ صَلَّى وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا قَالَ: " غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 , قَالَ: آمِينَ، ثُمَّ كَبَّرَ لِوَضْعِ الرَّأْسِ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
نعیم المجمررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی انہوں نے سورت فاتحہ کی تلاوت کرتے ہوئے آخر میں جب " غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین " کہا تو آمین کہا پھر سر جھکانے کے لئے تکبیر کہی پھر فارغ ہو کر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں نماز میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10449]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 795، م: 392، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين، لكنه توبع
حدیث نمبر: 10450
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , وَشَهْرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَأَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ لَا أَدَعَ رَكْعَتَيْ الضُّحَى" . قََالَ عَبْد اللَّهِ: وَجَدْتُ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ (٣) چاشت کی دو رکعتیں کبھی ترک نہ کرنے کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10450]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر، وإن كان ضعيفا، قد توبع
حدیث نمبر: 10451
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ يَعْنِي رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ، ثُمَّ أَفْطِرُوا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہیے۔ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عیدالفطر منالو اگر ابر چھاجائے تو تیس دن روزہ رکھو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10451]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1914، م: 1082