مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10691
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا , وَالصَّوْمُ لِي , وَأَنَا أَجْزِي بِهِ , إنه يذر طَعامَهُ وشَرابَهُ مِن أَجْلِي، فالصوم لي، وأَنَا أَجْزي به، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ میرے لئے ہوا اور اس کا بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا روزہ دار میری وجہ سے اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے لہٰذا روزہ میرے لئے ہوا اور اس کا بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10691]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10692
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ , إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي , وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" ." وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَرِحَ بِصَوْمِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے روزہ ڈھال ہے اور روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10692]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10693
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" . " يَذَرُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي , فَالصِّيَامُ لِي , وَأَنَا أَجْزِي بِهِ , كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ , إِلَّا الصِّيَامَ , فَهُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہشات پر عمل کرنا میری وجہ سے چھوڑتا ہے لہٰذا روزہ میرے لئے ہوا اور میں اس کا بدلہ بھی خود ہی دوں گا اور روزہ کے علاوہ ہر نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو گنا تک ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10693]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1101
حدیث نمبر: 10694
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ , أَخْبَرَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ, فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: " لَسْتُمْ مِثْلِي , إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي"، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ، وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رُئِيَ الْهِلَالُ، فَقَالَ:" لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ" , كَالْمُنَكِّلِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے مت رکھا کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی باز نہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن تک مسلسل روزہ رکھا پھر چاند نظر آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاند نظر نہ آتا تو میں مزید کئی دن تک اسی طرح کرتا گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نکیر فرمائی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10694]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1965، م: 1103، وفي هذا الإسناد صالح، وإن كان ضعيفا، قد توبع
حدیث نمبر: 10695
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا بْنُ جُرَيْجٍ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " التَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ , فَأَيُّكُمْ تَثَاءَبَ فَلْيَكْتُمْ مَا اسْتَطَاعَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمائی شیطان کا اثر ہوتی ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ممکن ہو اسے روکے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10695]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2994
حدیث نمبر: 10696
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنِ بْنِ شِهَابٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر وضو کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10696]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 887، م: 252
حدیث نمبر: 10697
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ هَلَكَ النَّاسُ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ تباہ ہوگئے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10697]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م:2623
حدیث نمبر: 10698
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , قََالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اقامت ہونے کے بعد وقتی فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10698]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 710
حدیث نمبر: 10699
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ سُمَيٍّ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ، يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي بَلَغَنِي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ، حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ:" فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی راستے میں چلا جا رہا تھا کہ اسے پیاس نے شدت سے ستایا اسے قریب ہی ایک کنواں مل گیا اس نے کنوئیں میں اتر کر اپنی پیاس بجھائی اور باہر نکل آیا اچانک اس کی نظر ایک کتے پر پڑی جو پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا تھا اس نے اپنے دل میں سوچا کہ اس کتے کو بھی اسی طرح پیاس لگ رہی ہوگی جیسے مجھے لگ رہی تھی چنانچہ وہ دوبارہ کنوئیں میں اترا اپنے موزے کو پانی سے بھرا اور اسے منہ سے پکڑ لیا اور باہر نکل کر کتے کو وہ پانی پلا دیا اللہ نے اس کے اس عمل کی قدر دانی فرمائی اور اسے بخش دیا صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جانوروں میں بھی ہمارے لئے اجر رکھا گیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر تر جگر رکھنے والی چیز میں اجر رکھا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10699]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2363، م: 2244
حدیث نمبر: 10700
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ , وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں سب سے بدترین شخص وہ ہے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتاہو اور ان لوگوں کے پاس دوسر ارخ لے کر آتا ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10700]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3494، م: 2526