🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
135. حَدِیث معَاذِ بنِ اَنَس الجهَنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابَّ لَهُمْ وَرَوَاحِلَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْكَبُوهَا سَالِمَةً , وَدَعُوهَا سَالِمَةً , وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ، فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا هِيَ أَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى مِنْهُ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں پر ہوا جو اپنے جانوروں اور سواریوں کے پاس کھڑے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جانوروں پر اس وقت سوار ہوا کر و جب وہ صحیح سالم ہوں اور اسی حالت میں انہیں چھوڑ بھی دیا کر و راستوں اور بازاروں میں گفتگو میں انہیں کر سیاں نہ سمجھ لیا کر و کیونکہ بہت سی سواریاں اپنے اوپر سوار ہو نے والوں کی نسبت سے زیادہ بہتر اور اللہ کا زیادہ ذکر کرنے والی ہو تی ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15646]

الحكم على الحديث:
حديث حسن إلى قوله: ولا تتخذوها كراسي، وهذا إسناده ضعيف مسلسل بالضعفاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَفْضُلُ الذِّكْرُ عَلَى النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِسَبْعِ مِائَةِ أَلْفِ ضِعْفٍ".
سیدنا معاذ بن انس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذکر خداوندی میں مشغول رہنا صدقہ خیرات کرنے سے سات لاکھ درجہ اونچا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15647]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف ، تفرد به سهل بن معاذ، وهو ممن لا يحتمل تفرده، وقد اختلف عنه فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: نَزَلْنَا عَلَى حِصْنِ سِنَانٍ بِأَرْضِ الرُّومِ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ، فَقَالَ مُعَاذٌ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّا غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا، فَضَيَّقَ النَّاسُ الطَّرِيقَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى:" مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا، أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا، فَلَا جِهَادَ لَهُ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ عبداللہ بن عبدالمک کے ساتھ سر زمین روم میں حصن سنان پر اترے لوگوں نے منزلیں تنگ اور راستے مسدد کر دیئے سیدنا معاویہ یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ لوگو ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں غزوے میں شریک تھے اس دوران لوگوں نے راستے مسدد کر دیئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیج کر یہ اعلان کر وایا کہ جو شخص کسی منزل کو تنگ یا راستے کو مسدد کر دے اس کے جہاد کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15648]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15649
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ , وَيَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ , قَالَ: أَحْمَدُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَقَالَ يَعْمَرُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ , أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ يَحْيَى الْمَعَافِرِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ يَعِيبُهُ، بَعَثَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَمَنْ بَغَى مُؤْمِنًا بِشَيْءٍ يُرِيدُ بِهِ شَيْنَه، حَبَسَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ , حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی پیٹھ پیچھے اس منافق کے سامنے حمایت و حفاظت کر ے جو اس کے عیوب بیان کر رہا ہواللہ قیامت کے دن ایک فرشتے کو بھیجیں گے جو جہنم کی آگ سے اس کے گوشت کی حفاظت کر ے گا اور جو شخص کسی مسلمان کو رسوا کرنے کے لئے اس پر کوئی تہمت لگائے اللہ اسے جہنم کے پل پر روک لیں گے یہاں تک کہ وہ اس چیز سے نکل جائے جو اس نے کہی تھی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15649]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة إسماعيل بن يحيي، ويحيى بن أيوب له غرائب و مناكير ، و عبدالله بن سليمان مجهول الحال
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15650
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَتَّخِذُوا الدَّوَابَّ كَرَاسِيَّ، فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ عَلَيْهَا هِيَ أَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى مِنْ رَاكِبِهَا".
سیدنا معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانوروں کو کر سیاں نہ سمجھ لیا کر و کیونکہ بہت سی سواریاں اپنے اوپر سوار ہو نے والوں کی نسبت زیادہ بہتر اور اللہ کا ذکر زیادہ کرنے والی ہو تی ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15650]

الحكم على الحديث:
حديث حسن دون قوله: فرب مركوبة عليها هي أكثر ذكرا لله تعالى من راكبها، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ، وقد توبع دون هذا الحرف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
136. حَدِیث رَجل مِن اَصحَابِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15651
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , وَأَبُو سَعِيدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الكَلَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي الشَّمَّاخِ الْأَزْدِيِّ , عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَتَى مُعَاوِيَةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ وَلِيَ أَمْرًا مِنْ أَمْرِ النَّاسِ، ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ الْمِسْكِينِ وَالْمَظْلُومِ أَوْ ذِي الْحَاجَةِ، أَغْلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دُونَهُ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ حَاجَتِهِ وَفَقْرِهِ أَفْقَرُ مَا يَكُونُ إِلَيْهَا".
ایک مرتبہ سیدنا امیر معاویہ کے پاس ایک صحابی آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی معاملے پر حکمران بنے اور کسی مسکین یا مظلوم یا ضرورت مند کے لئے اپنے دروازے بند رکھے اللہ اس کی ضرورت اور تنگدستی کے وقت جو زیادہ سخت ہو گی اپنی رحمت کے دروازے بند رکھے گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15651]

الحكم على الحديث:
«صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الشماخ الأزدي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
137. حَدِیث رَجل مِن اَصحَابِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15652
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَا يَرْفَعْ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ أَنْ يُلْتَمَعَ بَصَرُهُ".
ایک صحابی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو آسمان کی طرف نظریں اٹھا کر نہ دیکھے کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی بصارت سلب کر لی جائے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15652]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
138. حَدِیث عبَادَةَ بنِ الوَلِیدِ بنِ عبَادَةَ عَن اَبِیهِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15653
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ , وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَاضِي , أنهما سمعا عبادة بن الوليد بن عبادة يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، أَمَّا سَيَّارٌ , فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَمَّا يَحْيَى , فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَالْأَثَرَةِ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَنَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كَانَ، وَلَا نَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ.
سیدنا ولید بن عبادہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر بیعت کی کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات تنگی اور فراخی اور خوشدلی اور تنگ دلی اور ہم پر دوسروں کو ترجیح دینے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کر یں گے کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کر یں گے حق پر قائم رہیں گے خواہ کہیں بھی ہواللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کر یں گے۔ راوی حدیث شعبہ کہتے ہیں کہ سیار نے یہ حرف خواہ کہیں بھی ہو ذکر نہیں کیا تھا البتہ یحییٰ نے ذکر کیا تھا اور میں نے اس میں جو چیز بھی ذکر کی ہے وہ سیار سے منقول ہے یا یحییٰ سے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15653]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7199، م: 1709 عن عبادة بن الصامت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15654
قَالَ عبد الله: حدثني أبي قال: وقَالَ شُعْبَةُ: سَيَّارٌ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ" وَحَيْثُ مَا كَانَ"، ذَكَرَهُ يَحْيَى , قَالَ شُعْبَةُ: إِنْ كُنْتُ ذَكَرْتُ فِيهِ شَيْئًا، فَهُوَ عَنْ سَيَّارٍ أَوْ عَنْ يَحْيَى.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
139. حَدِیث التَّنوخِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، قَالَ: لَقِيتُ التَّنُوخِيَّ , رَسُولَ هِرَقْلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِمْصَ، وَكَانَ جَارًا لِي شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ بَلَغَ الْفَنَدَ أَوْ قَرُبَ، فَقُلْتُ: أَلَا تُخْبِرُنِي عَنْ رِسَالَةِ هِرَقْلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرِسَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ؟ فَقَالَ بَلَى، قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ، فَبَعَثَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى هِرَقْلَ، فَلَمَّا أَنْ جَاءَهُ كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا قِسِّيسِي الرُّومِ وَبَطَارِقَتَهَا، ثُمَّ أَغْلَقَ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ بَابًا، فَقَالَ: قَدْ نَزَلَ هَذَا الرَّجُلُ حَيْثُ رَأَيْتُمْ، وَقَدْ أَرْسَلَ إِلَيَّ يَدْعُونِي إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ , يَدْعُونِي إِلَى: أَنْ أَتَّبِعَهُ عَلَى دِينِهِ، أَوْ عَلَى أَنْ نُعْطِيَهُ مَالَنَا عَلَى أَرْضِنَا، وَالْأَرْضُ أَرْضُنَا، أَوْ نُلْقِيَ إِلَيْهِ الْحَرْبَ , وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُمْ فِيمَا تَقْرَءُونَ مِنَ الْكُتُبِ لَيَأْخُذَنَّ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ، فَهَلُمَّ نَتَّبِعْهُ عَلَى دِينِهِ، أَوْ نُعْطِيهِ مَالَنَا عَلَى أَرْضِنَا , فَنَخَرُوا نَخْرَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ حَتَّى خَرَجُوا مِنْ بَرَانِسِهِمْ، وَقَالُوا: تَدْعُونَا إِلَى أَنْ نَدَعَ النَّصْرَانِيَّةَ، أَوْ نَكُونَ عَبِيدًا لِأَعْرَابِيٍّ جَاءَ مِنَ الْحِجَازِ! فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّهُمْ إِنْ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ، أَفْسَدُوا عَلَيْهِ الرُّومَ رَفَأَهُمْ وَلَمْ يَكَدْ، وَقَالَ: إِنَّمَا قُلْتُ ذَلِكَ لَكُمْ لِأَعْلَمَ صَلَابَتَكُمْ عَلَى أَمْرِكُمْ، ثُمَّ دَعَا رَجُلًا مِنْ عَرَبِ تُجِيبَ كَانَ عَلَى نَصَارَى الْعَرَبِ، فَقَالَ: ادْعُ لِي رَجُلًا حَافِظًا لِلْحَدِيثِ، عَرَبِيَّ اللِّسَانِ، أَبْعَثْهُ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ بِجَوَابِ كِتَابِهِ، فَجَاءَ بِي، فَدَفَعَ إِلَيَّ هِرَقْلُ كِتَابًا، فَقَالَ: اذْهَبْ بِكِتَابِي إِلَى هَذَا الرَّجُلِ، فَمَا ضَيَّعْتُ مِنْ حَدِيثِهِ , فَاحْفَظْ لِي مِنْهُ ثَلَاثَ خِصَالٍ انْظُرْ هَلْ يَذْكُرُ صَحِيفَتَهُ الَّتِي كَتَبَ إِلَيَّ بِشَيْءٍ، وَانْظُرْ إِذَا قَرَأَ كِتَابِي فَهَلْ يَذْكُرُ اللَّيْلَ، وَانْظُرْ فِي ظَهْرِهِ هَلْ بِهِ شَيْءٌ يَرِيبُكَ؟ فَانْطَلَقْتُ بِكِتَابِهِ حَتَّى جِئْتُ تَبُوكَ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ مُحْتَبِيًا عَلَى الْمَاءِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ صَاحِبُكُمْ؟ قِيلَ: هَا هُوَ ذَا، فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَنَاوَلْتُهُ كِتَابِي، فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ، ثُمَّ قَالَ:" مِمَّنْ أَنْتَ؟" فَقُلْتُ: أَنَا أَحَدُ تَنُوخَ، قَالَ:" هَلْ لَكَ فِي الْإِسْلَامِ الْحَنِيفِيَّةِ مِلَّةِ أَبِيكَ إِبْرَاهِيمَ؟" قُلْتُ: إِنِّي رَسُولُ قَوْمٍ، وَعَلَى دِينِ قَوْمٍ، لَا أَرْجِعُ عَنْهُ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْهِمْ , فَضَحِكَ، وَقَالَ:" إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ سورة القصص آية 56 , يَا أَخَا تَنُوخَ، إِنِّي كَتَبْتُ بِكِتَابٍ إِلَى كِسْرَى فَمَزَّقَهُ، وَاللَّهُ مُمَزِّقُهُ وَمُمَزِّقٌ مُلْكَهُ، وَكَتَبْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ بِصَحِيفَةٍ فَخَرَقَهَا، وَاللَّهُ مُخْرِقُهُ وَمُخْرِقٌ مُلْكَهُ، وَكَتَبْتُ إِلَى صَاحِبِكَ بِصَحِيفَةٍ فَأَمْسَكَهَا، فَلَنْ يَزَالَ النَّاسُ يَجِدُونَ مِنْهُ بَأْسًا مَا دَامَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ" , قُلْتُ: هَذِهِ إِحْدَى الثَّلَاثَةِ الَّتِي أَوْصَانِي بِهَا صَاحِبِي، وَأَخَذْتُ سَهْمًا مِنْ جَعْبَتِي، فَكَتَبْتُهَا فِي جِلْدِ سَيْفِي، ثُمَّ إِنَّهُ نَاوَلَ الصَّحِيفَةَ رَجُلًا عَنْ يَسَارِهِ , قُلْتُ: مَنْ صَاحِبُ كِتَابِكُمْ الَّذِي يُقْرَأُ لَكُمْ؟ قَالُوا: مُعَاوِيَةُ , فَإِذَا فِي كِتَابِ صَاحِبِي تَدْعُونِي إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ، فَأَيْنَ النَّارُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ أَيْنَ اللَّيْلُ إِذَا جَاءَ النَّهَارُ؟" قَالَ: فَأَخَذْتُ سَهْمًا مِنْ جَعْبَتِي، فَكَتَبْتُهُ فِي جِلْدِ سَيْفِي، فَلَمَّا أَنْ فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ كِتَابِي، قَالَ:" إِنَّ لَكَ حَقًّا، وَإِنَّكَ رَسُولٌ، فَلَوْ وُجِدَتْ عِنْدَنَا جَائِزَةٌ جَوَّزْنَاكَ بِهَا، إِنَّا سَفْرٌ مُرْمِلُونَ" قَالَ: فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْ طَائِفَةِ النَّاسِ، قَالَ: أَنَا أُجَوِّزُهُ، فَفَتَحَ رَحْلَهُ , فَإِذَا هُوَ يَأْتِي بِحُلَّةٍ صَفُورِيَّةٍ، فَوَضَعَهَا فِي حَجْرِي، قُلْتُ: مَنْ صَاحِبُ الْجَائِزَةِ؟ قِيلَ لِي: عُثْمَانُ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّكُمْ يُنْزِلُ هَذَا الرَّجُلَ"؟ فَقَالَ: فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَا، فَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ، وَقُمْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا خَرَجْتُ مِنْ طَائِفَةِ الْمَجْلِسِ، نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" تَعَالَ يَا أَخَا تَنُوخَ" فَأَقْبَلْتُ أَهْوِي إِلَيْهِ، حَتَّى كُنْتُ قَائِمًا فِي مَجْلِسِي الَّذِي كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَحَلَّ حَبْوَتَهُ عَنْ ظَهْرِهِ، وَقَالَ:" هَاهُنَا , امْضِ لِمَا أُمِرْتَ لَهُ" فَجُلْتُ فِي ظَهْرِهِ، فَإِذَا أَنَا بِخَاتَمٍ فِي مَوْضِعِ غُضُونِ الْكَتِفِ مِثْلِ الحَجْمَةِ الضَّخْمَةِ.
سعید بن ابی راشد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حمص میں میری ملاقات تنوخی سے ہوئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہرقل کے ایلچی بن کر آئے تھے وہ میرے پڑوسی تھے انتہائی بوڑھے ہو چکے تھے اور سٹھیا جانے کی عمر تک پہنچ گئے تھے میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہرقل کے خط اور ہرقل کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے بارے میں کچھ بتاتے کیوں نہیں انہوں نے کہا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے تشریف لائے ہوئے تھے آپ نے سیدنا دحیہ کلبی کو ہرقل کے پاس بھیجا جب ہرقل کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط پہنچا تو اس نے رومی پادری اور سرداروں کو جمع کیا اور کمرے کا دروازہ بند کر لیا اور ان سے کہنے لگا کہ یہ آدمی میرے پاس آیا ہے جیسا کہ تم نے دیکھ ہی لیا ہے مجھے جو خط بھیجا گیا ہے اس میں مجھے تین میں سے کسی ایک صورت کو قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہے یا تو میں ان کے دین کی پیروی کر وں یا انہیں زمین پر مال کی صورت میں ٹیکس ادا کر وں اور زمین ہمارے پاس ہی رہے یا پھر ان سے جنگ کر وں اللہ کی قسم آپ جو لوگ کتابیں پڑھتے ہوان کی روشنی میں آپ جانتے ہو کہ وہ میرے قدموں کے نیچے کی جگہ بھی حاصل کر لیں گے تو کیوں نہ ہم ان کی دین کی پیروی کر یں یا اپنی زمین کا مال ٹیکس کی صورت میں دے دیا کر یں۔ یہ سن کر ان سب کے نرخروں سے ایک جیسی آواز نکلنے لگی کہ حتی کہ انہوں نے اپنی ٹوپیاں اتار دیں اور کہنے لگے کہ کیا آپ ہمیں عیسائیت چھوڑنے کی دعوت دے رہے ہو یا ہم کسی دیہاتی جو حجاز سے آیا ہے غلام بن جائیں جب ہرقل نے دیکھا کہ اگر یہ لوگ اس کے پاس سے اسی حال میں چلے گئے تو وہ پورے روم میں فساد بڑپا کر دیں گے تو اس نے فورا پینترا بدل کر کہا میں نے تو یہ بات محض اس لئے کہی تھی کہ اپنے دین پر تمہارا جماؤ اور مضبوطی دیکھ سکوں۔ پھر اس نے عرب تجیب کے ایک آدمی کو جو نصاری عرب پر امیر تھا بلایا اور کہا کہ میر پاس ایسے آدمی کو بلا کر لاؤ جو حافظہ کا قوی ہواور عربی زبان جانتا ہو تاکہ میں اس سے اس شخص کی طرف اس کے خط کا جواب دوں وہ مجھے بلا لایا ہرقل نے اپنا خط میرے حوالے کر دیا اور کہنے لگا کہ میرا یہ خط اس شخص کے پاس لے جاؤ اگر اس کی ساری باتیں تم یاد نہ رکھ سکو تو کم از کم تین چیزیں ضرور یاد رکھ لینا یہ دیکھنا کہ وہ میری طرف بھیجے ہوئے اپنے خط کا کوئی ذکر کرتے ہی یا نہیں یہ دیکھنا کہ جب وہ میرا خط پڑھتے ہیں تورات کا ذکر کرتے ہیں یا نہیں اور ان کی پشت پر دیکھنا تمہیں کوئی عجیب چیز دکھائی دیتی ہے یا نہیں میں ہرقل کا خط لے کر روانہ ہوا اور تبوک پہنچا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان پانی کے قریبی علاقے میں اپنی ٹانگوں کے گرد ہاتھوں سے حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں انہوں نے مجھے اشارہ کر دیا میں چلتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا انہیں خط پکڑا دیا جسے انہوں نے اپنی گود میں رکھ لیا اور مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے میں نے کہا میں ایک تنوخی آدمی ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں ملت حنیفیہ اسلام جو تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ہے میں کوئی رغبت محسوس ہو تی ہے میں نے کہا کہ ایک قوم کا قاصد ہوں ایک قوم کے دین پر ہوں میں جب تک ان کہ پاس لوٹ نہ جاؤں اس دین سے برگشتہ نہیں ہو سکتا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر یہ آیت پڑھنے لگے جسے آپ چاہیں اس ہدایت نہیں دے سکتے لیکن جسے اللہ چاہے اسے ہدایت دے سکتا ہے وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو زیادہ جانتی ہے اے تنوخی بھائی میں نے ایک خط کسری کی طرف لکھا تھا اس نے اسے ٹکڑے ٹکر ے کر دیئے اللہ اسے اور اس کی حکومت کو بھی ٹکڑے ٹکر ے کر دے گا میں نے نجاشی کی طرف بھی خط لکھا تھا اس نے اسے پھاڑ دیا اللہ اسے اور اس کی حکومت کو بھی تور پھوڑ دے گا میں نے تمہارے بادشاہ کی طرف بھی خط لکھا تھا لیکن اس نے اسے محفوظ کر لیا جب تک زندگی میں کوئی خیر رہے گی لوگوں پر اس کا رعب دبدبہ باقی رہے گا میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ تین میں سے پہلی بات ہے جس کی مجھے بادشاہ نے وصیت کی تھی چنانچہ میں نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اسے اپنی تلوار کی جلد پر یہ بات لکھ لی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خط اپنے بائیں جانب بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ خط پڑھنے والے صاحب کون ہیں لوگوں نے بتایا کہ سیدنا امیر معاویہ ہیں بہرحال ہمارے بادشاہ کے خط میں لکھا ہوا تھا کہ آپ مجھے جنت کی دعوت دیتے ہیں جس کی چوڑائی زمین آسمان کے برابر ہے اور جو متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے تو جہنم کہاں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ جب دن آتا ہے تو رات کہاں جاتی ہے میں نے اپنے ترکش سے تیر نکال کر اپنی تلوار کی جلد پر یہ بات بھی لکھ لی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خط پڑھ کر فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تمہارا ہم پر حق بنتا ہے کیونکہ تم قاصد ہو، اگر ہمارے پاس کوئی انعام ہوتا تو تمہیں ضرور دیتے لیکن ابھی ہم سفر میں پراگندہ ہیں، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک آدمی نے پکار کر کہا کہ میں اسے انعام دوں گا، چنانچہ اس نے اپنا خیمہ کھولا اور ایک صفوری حلہ لے آیا اور لا کر میری گود میں ڈال دیا، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ انعام دینے والے صاحب کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے تم میں سے کون شخص اسے اپنا مہمان بنائے گا؟ اس پر ایک انصاری نوجوان نے کہا کہ میں بناؤں گا، پھر وہ انصاری کھڑا ہوا اور میں بھی کھڑا ہو گیا، جب میں مجلس سے نکل گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکار کر فرمایا اے تنوخی بھائی! ادھر آؤ میں دوڑتا ہوا گیا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہو گیا جہاں میں پہلے بیٹھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا یہاں دیکھو، اور تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کرو، چنانچہ میں گھوم کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کی طرف آیا، میں نے کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی جو پھولے ہوئے غدود کی مانند تھی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15655]

الحكم على الحديث:
حديث غريب، وإسناده ضعيف لجهالة سعيد بن أبى راشد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں