🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
149. حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15683
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15683]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15684
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّي عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ النَّوَافِلَ فِي كُلِّ جِهَةٍ".
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر رات کے وقت اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15684]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1104 تعليقا، م: 701
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15685
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَإِنْ لَمْ تَكُ مَاشِيًا مَعَهَا , فَقُمْ لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكَ أَوْ تُوضَعَ" , قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رُبَّمَا تَقَدَّمَ الْجِنَازَةَ فَقَعَدَ، حَتَّى إِذَا رَآهَا قَدْ أَشْرَفَتْ , قَامَ حَتَّى تُوضَعَ، وَرُبَّمَا سَتَرَتْهُ.
سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی جنازے کو دیکھا کر و تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے سیدنا ابن عمر جب کسی جنازے کو دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا اور جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو اپنی پشت دوسری قبروں کی طرف فرما لیتے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15685]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15686
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ".
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر رات کے وقت اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15686]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1093، م: 701
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15687
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ الْجِنَازَةَ، فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ".
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15687]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَسْتَاكُ مَا لَا أَعُدُّ , وَلَا أُحْصِي وَهُوَ صَائِمٌ".
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت صیام میں اتنی مرتبہ مسواک کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ میں شمار نہیں کر سکتا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15688]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا صَلَّى عَلَيَّ أَحَدٌ صَلَاةً إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا دَامَ يُصَلِّي عَلَيَّ، فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ".
سیدنا عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر درود پڑھے تو جب تک وہ مجھ پر درود پڑھتا رہے گا فرشتے اس پر درود پڑھتے رہیں گے اب انسان کی مرضی ہے کہ کم پڑھے یا زیادہ؟ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15689]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15690
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً" فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15690]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15691
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِيهِ ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ، فَأَجَازَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک عورت سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کر لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کو برقرار رکھا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15691]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا , قَالَ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ يَا بُنَيَّ مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّلْفُ مِنَ التَّمْرِ، فَيَقْسِمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً، حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ التَّمْرَةُ عَنْكُمْ؟ قَالَ: لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا بُنَيَّ، فَبَعْدَ أَنْ فَقَدْنَاهَا، فَاخْتَلَلْنَا إِلَيْهَا.
سیدنا عامر بن ربیعہ جو بدری صحابی تھے مروی ہے کہ بعض مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کسی دستے کے ساتھ روانہ فرماتے تو بیٹا ہمارے پاس سوارئے چند کھجوروں کے اور کوئی چیز نہ ہو تی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ایک ایک مٹھی تقسیم کر دیتے یہاں تک کہ ایک ایک کھجور تک نوبت آجاتی عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اباجان ایک کھجور آپ کے کس کام آتی ہو گی انہوں نے فرمایا کہ بیٹا یوں نہ کہو جب ہمیں ایک کھجور بھی نہ ملی تو ہمیں اس کی قدر آئی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15692]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاختلاط المسعودي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں