🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
150. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15702
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مَوْلًى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا وَأَنَا صَبِيٌّ , قَالَ: فَذَهَبْتُ أَخْرُجُ لِأَلْعَبَ، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا عَبْدَ اللَّهِ , تَعَالَ أُعْطِكَ , فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيَهُ؟" قَالَتْ: أُعْطِيهِ تَمْرًا , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تَفْعَلِي كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذْبَةٌ".
سیدنا عبداللہ بن عامر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے میں اس وقت بچہ تھا میں کھیلنے کے لئے باہر جانے لگا تو میری والدہ نے مجھ سے کہا عبداللہ ادھر آؤ میں تمہیں کچھ دوں گی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے کیا دینا چاہتی ہوانہوں نے کہا میں اسے کھجور دوں گی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا نہ کر تیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15702]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام مولي عبدالله بن عامر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
151. حَدِيثُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15703
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا شُعْبَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، أَنَّ رَجُلًا لَطَمَ جَارِيَةً لِآلِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدٌ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ إِخْوَتِي، وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدٌ، فَلَطَمَهُ أَحَدُنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ نُعْتِقَهُ".
سیدنا سوید بن مقرن کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مارا سیدنا سوید نے اس سے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ ماردیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کر دیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15703]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1658، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى شعبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15704
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ هلالا رَجُلًا مِنْ بَنِي مَازِنٍ يُحَدِّثُ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ , قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذٍ فِي جَرٍّ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ،" فَنَهَانِي عَنْهُ، فَأَخَذْتُ الْجَرَّةَ فَكَسَرْتُهَا.
سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مٹکے میں نبیذ لے کر آیا اور اس کے متعلق حکم دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع فرما دیا، چنانچہ میں نے وہ مٹکا پکڑا اور توڑ ڈالا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15704]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال أبى حمزة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15705
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ , قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا، ثُمَّ جِئْتُ وَأَبِي فِي الظُّهْرِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِي، فَقَالَ: امتثل مِنْهُ , فَعَفَا، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ , قَالَ: كُنَّا وَلَدَ مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةً لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَعْتِقُوهَا" , فَقَالُوا: لَيْسَ لَنَا خَادِمٌ غَيْرُهَا، قَالَ:"، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا".
سیدنا سوید بن مقرن کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مارا سیدنا سوید نے اس سے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ ماردیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کر دیں۔ بھائیوں نے عرض کیا: کہ ہمارے پاس تو اس کے علاوہ کوئی اور خادم نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس سے خدمت لیتے رہواور جب اس سے بےنیاز ہو جائیں تو اس کا راستہ چھوڑ دیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15705]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1658
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
152. حَدِيثُ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15706
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ فِي مَهْرِ امْرَأَةٍ، فَقَالَ:" كَمْ أَمْهَرْتَهَا؟" قَالَ: مِئَتَيْ دِرْهَمٍ , فَقَالَ:" لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بَطَحَانَ مَا زِدْتُمْ".
سیدنا ابوحدرد اسلمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی بیوی کے مہر کے سلسلے میں تعاون کی درخواست لے کر حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے اس کا مہر کتنا مقرر کیا تھا انہوں نے کہا دو سو درہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بطحان سے بھی پانی کے چلو بھر کر نکالتے تو اس سے اضافہ نہ کرتے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15706]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه ، محمد بن إبراهيم لم يسمع من أبى حدرد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15707
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيُّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15707]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه ، محمد بن إبراهيم لم يسمع من أبى حدرد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
153. حَدِيثُ مِهْرَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15708
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: أَتَيْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ ابْنَةَ عَلِيٍّ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَرَدَّتْهَا، وَقَالَتْ: حَدَّثَنِي مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُقَالُ لَهُ: مِهْرَانُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ، وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ام کلثوم بنت علی کے پاس صدقہ کی کوئی چیز لے کر آیا انہوں نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کر دہ غلام جس کا نام مہران تھا نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے اور کسی قوم کا آزاد کر دہ غلام بھی ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15708]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
154. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15709
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ، أَنَّهُ لُدِغَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ أَنَّكَ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّكَ" , قَالَ سُهَيْلٌ: فَكَانَ أَبِي إِذَا لُدِغَ أَحَدٌ مِنَّا يَقُولُ قَالَهَا؟ فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: كَأَنَّهُ يَرَى أَنَّهَا لَا تَضُرُّهُ.
ایک اسلمی صحابی کے متعلق مروی ہے کہ انہیں کسی جانور نے ڈس لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکر ہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر تم نے شام کے وقت یہ کلمات کہہ لئے ہوتے تو اعوذ بکلمات اللہ تامات من شر ماخلق تو تمہیں کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکتی۔ راوی حدیث سہیل کہتے ہیں کہ اگر ہم میں سے کسی کو کوئی جانور ڈس لیتا تو میرے والد صاحب پوچھتے کہ یہ کلمات کہہ لئے اگر وہ جواب میں ہاں کہہ دیتا تو ان کی رائے یہی ہو تی تھی کہ اب اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15709]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد اختلف على سهيل بن أبى صالح فى صحابي هذا الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
155. حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15710
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصديق , عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَمَّا يَحْيَى فَذَكَرَ , عَنْ سَهْلٍ قَالَ:" يَقُومُ الْإِمَامُ وَصَفٌّ خَلْفَهُ وَصَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي بِالَّذِي خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُومُ قَائِمًا حَتَّى يُصَلُّوا رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ يَتَقَدَّمُونَ إِلَى مَكَانِ أَصْحَابِهِمْ، ثُمَّ يَجِيءُ أُولَئِكَ فَيَقُومُونَ مَقَامَ هَؤُلَاءِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَقْعُدُ حَتَّى يَقْضُوا رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ".
سیدنا سہل بن ابی حثمہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ نماز خوف میں امام آگے کھڑا ہواور ایک صف اپنے پیچھے بنائے اور ایک اپنے آگے پھر پیچھے والوں کو ایک رکوع اور دو سجدے کر وائے پھر کھڑا رہے تاآنکہ وہ لوگ دوسری رکعت بھی پڑھ لیں اور اپنے ساتھیوں کی جگہ آگے بڑھ جائیں اور وہ لوگ یہاں آ کر ان کی جگہ کھڑے ہو جائیں اور امام انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کر وائے اور بیٹھ جائے یہاں تک کہ وہ اپنی دوسری رکعت بھی پوری کر لیں پھر آخر میں ان کے ساتھ اکٹھا سلام پھیرے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15710]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، والحديث مرفوع من طريق عبدالرحمن ابن القاسم، وموقوف من طريق يحيى بن سعيد الأنصاري، خ: 4131
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15711
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيّ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" يُصَلِّي بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يَقْضُوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُوا إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، ثُمَّ يَتَحَوَّلَ أَصْحَابُهُمْ إِلَى مَكَانِ هَؤُلَاءِ" , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15711]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4131
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں