مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
160. حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي تُرْضِعُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مَا يُقَدَّرُ فِي الرَّحِمِ فَسَيَكُونُ".
سیدنا ابوسعید زرقی سے مروی ہے کہ قبیلہ اشجع کے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق پوچھا: اور کہا کہ دراصل میری بیوی ابھی دودھ پلا رہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کا رحم میں ہو نا مقدر ہو چکا وہ ہو کر رہے گی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15732]
الحكم على الحديث:
صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن مرة
161. حَدِيثُ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وقَالَ ابن نُمَيْرٍ: رَجُلٌ مِنْ أَسْلَّم، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ؟ قَالَ:" غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ".
سیدنا حجاج اسلمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! دودھ پلانے والی کے حق میں کون سی چیز مجھے سبکدوش کر سکتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ایک غلام یا باندی بطور تحفہ کے دیدی جائے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15733]
الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين
162. حَدِيثُ رَجُلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ . وَإِسْحَاقَ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَجْمَعُوا اسْمِي وَكُنْيَتِي".
عبدالرحمن بن ابی عمرہ کے چچا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے نام اور کنیت کو اکٹھا نہ کیا کر و کہ ایک ہی آدمی میرا نام بھی رکھ لے اور میری کنیت بھی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15734]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
163. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرٍ , وَسَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ: أَنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
سیدنا عبداللہ بن حذافہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام تشریق میں منادی کرنے کا حکم دیا کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15735]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سليمان بن يسارلم يدرك عبدالله بن حذافة
164. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ لَيْلًا، فَتَعَجَّلَ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَإِذَا فِي بَيْتِهِ مِصْبَاحٌ، وَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ شَيْءٌ، فَأَخَذَ السَّيْفَ، فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ: إِلَيْكَ إِلَيْكَ عَنِّي، فُلَانَةُ تُمَشِّطُنِي، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ،" فَنَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا".
سیدنا عبداللہ بن رواحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت وہ سفر سے واپس آئے اور اپنی بیوی کی طرف روانہ ہو گئے گھر پہنچے تو وہاں چراغ جل رہا تھا اور ان کی بیوی کے پاس کوئی تھا انہوں نے اپنی تلوار اٹھالی یہ دیکھ کر ان کی بیوی کہنے لگی کہ رکو یہ تو فلاں عورت ہے جو میرا بناؤ سنگھار کر رہی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ کی اطلاع دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو اچانک بلا اطلاع کسی شخص کو اپنے گھر واپس آنے سے منع کر دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15736]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبوسلمة لم يسمع من عبدالله بن رواحة
حدیث نمبر: 15737
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سِنَانَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ قَائِمًا فِي قَصَصِهِ: إِنَّ أَخًا لَكُمْ كَانَ لَا يَقُولُ: الرَّفَثَ يَعْنِي ابْنَ رَوَاحَةَ ، قَالَ: وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ اللَّيْلِ سَاطِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ.
سنان بن ابی سنان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھڑے ہو کر وعظ کہنے کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تمہارا بھائی یعنی ابن رواحہ بےہو دہ اشعار نہیں کہتا یہ شعر اسی نے کہے ہیں کہ ہمارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں جو اللہ کی کتاب ہمیں پڑھ کر سناتے ہیں جبکہ رات کی تاریکی سے چمکدار صبح جدا ہو جائے وہ رات اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کا پہلو بستر سے دور رہتا ہے جبکہ کفار اپنے بستروں پر بوجھ پڑھ ہوتے ہیں انہوں نے گمراہی کے بعد ہمیں ہدایت کا راستہ دکھایا اور اب ہمارے دلوں کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ جو کہتے ہیں ہو کر رہے گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15737]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
165. حَدِيثُ سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ ، عَنْ سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا رَدِيفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا سُهَيْلُ ابْنَ الْبَيْضَاءِ"، وَرَفَعَ صَوْتَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُهُ سُهَيْلٌ، فَسَمِعَ النَّاسُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنُّوا أَنَّهُ يُرِيدُهُمْ، فَحُبِسَ مَنْ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَحِقَهُ مَنْ كَانَ خَلْفَهُ، حَتَّى إِذَا اجْتَمَعُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ، وَأَوْجَبَ لَهُ الْجَنَّةَ".
سیدنا سہیل بن بیضاء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ بلند آواز سے پکار کر فرمایا: اے سہیل بن بیضاء میں ہر مرتبہ لبیک کہتارہا یہ آواز لوگوں نے بھی سنی اور وہ یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بھی یہ بات سنانا چاہتے ہیں چنانچہ آگے والے اپنی جگہ پر رک گئے اور پیچھے والے قریب آ گئے جب سب لوگ جمع ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہواللہ اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دیدے گا اور اس کے لئے جنت واجب کر دے گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15738]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سيعد بن الصلت لم يدرك سهيل ابن بيضاء
حدیث نمبر: 15739
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ حَيْوَةُ : حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ ، عَنْ سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15739]
الحكم على الحديث:
راجع ما قبله
166. حَدِيثُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ: تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ , فَقَالَ: مَهْ لَا تَقُولُوا ذَلِكَ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ:" قُولُوا: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَبَارَكَ لَكَ فِيهَا".
عبداللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ سیدنا عقیل بن ابی طالب کی شادی ہوئی اور پہلی رات کے بعد جب وہ باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا ہوا اور یہ نکاح اولاد کا ذریعہ بنے انہوں نے فرمایا کہ رکو یوں نہ کہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا ہے اور کہا ہے یوں کہا کر و اللہ تمہارے لئے اسے مبارک کر ے تمہیں برکتیں عطا فرمائے اور اس نکاح میں تم پر خوب برکت نازل فرمائے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15740]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإن عبدالله بن محمد بن عقيل لم يدرك جده
حدیث نمبر: 15741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ، فَقَالُوا: بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا ذَاكُمْ، قَالُوا: فَمَا نَقُولُ يَا أَبَا يَزِيدَ؟ قَالَ:" قُولُوا: بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ، وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ. إِنَّا كَذَلِكَ كُنَّا نُؤْمَرُ".
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا عقیل بن ابی طالب نے بنوجعشم کی ایک عورت سے شادی کر لی لوگ انہیں مبارک باد دینے کے لئے آئے اور کہنے لگے کہ آپ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا ہو گا اور یہ نکاح اولاد کا ذریعہ بنے انہوں نے فرمایا: رکو یوں نہ کہو لوگوں نے پوچھا کہ اے ابویزید پھر کیا کہیں انہوں نے فرمایا: یوں کہا کر و اللہ تمہارے لئے اسے مبارک کر ے تمہیں برکتیں عطا فرمائے اور اس نکاح میں تم پر خوب برکت نازل فرمائے ہمیں اسی کا حکم دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15741]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عقيل