مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
171. حَدِيثُ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15752
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ فَتَحَ بَابًا، فَخَرَجَتْ مِنْهُ حَيَّةٌ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو لُبَابَةَ : لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ" نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ".
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر نے ایک دروازہ کھولا اس میں سے سانپ نکل آیا انہوں نے اسے مارنے کا حکم دیا سیدنا ابولبابہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کر یں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15752]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3298، م: 2233
172. حَدِيثُ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15753
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ الْهَيْثَمِ حِينَ مَاتَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، فِتَنًا كَقِطَعِ الدُّخَانِ، يَمُوتُ فِيهَا قَلْبُ الرَّجُلِ كَمَا يَمُوتُ بَدَنُهُ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ وَدِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا". وَإِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَدْ مَاتَ وَأَنْتُمْ إِخْوَانُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا، فَلَا تَسْبِقُونَا حَتَّى نَخْتَارَ لِأَنْفُسِنَا.
حسن بصری کہتے ہیں کہ جب یزید کا انتقال ہو گیا تو سیدنا ضحاک بن قیس نے قیس بن ہیثم کے نام خط میں لکھاسلام علیک امابعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے فتنے اس طرح آئیں گے جیسے اندھیری رات کے ٹکڑے ہوتے ہیں کچھ فتنے ایسے ہوں گے جو دھویں کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے ان فتنوں میں انسان کے جسم کی طرح اس کا دل بھی مر جائے گا انسان صبح کو مومن اور شام کو کافر ہو گا اسی طرح شام کو مومن اور صبح کو کافر ہو گا لوگ اپنے اخلاق اور دین کو دنیا کے تھوڑے سے سازوسامان کے بدلے بیچ دیآ کر یں گے۔ اور یزید بن معاویہ فوت ہو گیا ہے تم لوگ ہمارے بھائی اور ہمارے سگے ہواس لئے تم پر سبقت لے جا کر کسی حکمران کو منتخب نہ کر لینا یہاں تک کہ ہم خود اپنے لئے کسی کو منتخب کر لیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15753]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، دون قوله : "فتنا كقطع الدخان، يموت فيها ....... بدنه" وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، والحسن البصري لم يذكر له سماع من الضحاك بن قيس
173. حَدِيثُ أَبِي صِرْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15754
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمَّهُ أَبَا صِرْمَةَ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَايَ وَغِنَى مَوْلَايَ".
سیدنا ابوصرمہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا: کرتے تھے اے اللہ میں تجھ سے اپنے لئے اور اپنے آزاد کر دہ غلاموں کے لئے غناء کا سوال کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15754]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، رواية محمد بن يحيى بن حبان عن عمه أبى صرمة خطأ، والصواب: محمد بن يحيى بن حبان عن لؤلؤة عن أبى صرمة أى بذكر واسطة لؤلؤة
حدیث نمبر: 15755
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ".
سیدنا ابوصرمہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے اللہ اسے نقصان میں مبتلا کر دے گا اور جو لوگوں کو مشقت میں مبتلا کر ے گا اللہ اسے مشقت میں مبتلا کر دے گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15755]
الحكم على الحديث:
حديث حسن لشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة لؤلؤة مولاة الأنصار
حدیث نمبر: 15756
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَايَ وَغِنَى مَوْلَايَ".
سیدنا ابوصرمہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا: کرتے تھے کہ اے اللہ میں تجھ سے اپنے لئے اور اپنے آزاد کر دہ غلاموں کے لئے غناء کا سوال کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15756]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة لؤلؤة
174. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15757
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ:" ذَكَرَ طَبِيبٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَوَاءً، وَذَكَرَ الضُّفْدَعَ يُجْعَلُ فِيهِ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الضُّفْدَعِ".
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی طبیب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دواء کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ اس میں مینڈک کے اجزاء بھی شامل کرتا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کو مارنے سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15757]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
175. حَدِيثُ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15758
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ".
سیدنا معمر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ذخیرہ اندوزی وہی شخص کرتا ہے جو گناہ گار ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15758]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 15759
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ".
سیدنا معمر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ذخیرہ اندوزی وہی شخص کرتا ہے جو گناہ گار ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15759]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 15760
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مَعْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ".
سیدنا معمر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ذخیرہ اندوزی وہی شخص کرتا ہے جو گناہ گار ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15760]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 15761
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مَعْمَرٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ". وَكَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يَحْتَكِرُ الزَّيْتَ.
سیدنا معمر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ذخیرہ اندوزی وہی شخص کرتا ہے جو گناہ گار ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15761]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1605