مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
176. حَدِيثُ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15762
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ ، أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ أُضْحِيَّتَهُ".
سیدنا عویمر بن اشقر سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی قربانی کا جانور ذبح کر لیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکر ہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15762]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عباد بن تميم لم يسمع من عويمر
177. حَدِيثُ جَدِّ خُبَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15763
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ غَزْوًا، أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي، وَلَمْ نُسْلِمْ، فَقُلْنَا: إِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ يَشْهَدَ قَوْمُنَا مَشْهَدًا لَا نَشْهَدُهُ مَعَهُمْ , قَالَ:" أَوَ أَسْلَمْتُمَا؟" , قُلْنَا: لَا , قَالَ:" فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ". قَالَ: فَأَسْلَمْنَا، وَشَهِدْنَا مَعَهُ، فَقَتَلْتُ رَجُلًا، وَضَرَبَنِي ضَرْبَةً، وَتَزَوَّجْتُ بِابْنَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ، فَكَانَتْ تَقُولُ: لَا عَدِمْتَ رَجُلًا وَشَّحَكَ هَذَا الْوِشَاحَ , فَأَقُولُ: لَا عَدِمْتِ رَجُلًا عَجَّلَ أَبَاكِ النَّارَ.
خبیب بن عبدالرحمن کے داد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میری قوم کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے کی تیاری فرما رہے تھے ہم نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یہ بات ہمارے لئے باعث شرم ہے کہ ہماری قوم کسی جنگ کے لئے جا رہی ہواور ہم ان کے ساتھ شریک نہ ہوں اس لئے ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دونوں نے اسلام قبول کر لیا ہے ہم نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لینا چاہتے اس پر ہم نے اسلام قبول کر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہو گئے اس جنگ میں میں نے ایک آدمی کو قتل کیا اور اس نے مجھے ایک ضرب لگائی بعد میں اسی مقتول کی بیٹی سے میں نے نکاح کر لیا تو وہ کہا کر تی تھی کہ تم اس آدمی کو بھلا نہیں سکو گے جس نے تمہیں یہ زخم لگایا اور میں اس سے کہتا تھا کہ تم بھی اس آدمی کو بھلا نہیں پاؤ گی جس نے تمہارے باپ کو جلدی سے جہنم کا راستہ دکھا دیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15763]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عبدالرحمن بن خبيب والد خبيب بن عبدالرحمن، ترجم له البخاري وابن أبى حاتم، ولم يذكرا فى الرواة عنه غير ابنه خبيب. دون قوله: "فلا نستعين بالمشركين على المشركين" فهو صحيح لغيره
178. حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15764
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ طَعَامًا فَلَعِقَ أَصَابِعَهُ".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کھانا تناول فرمایا: اور بعد میں انگلیاں چاٹ لیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15764]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15765
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِسَلْعٍ، فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ مِنْ شَائِهَا، فَأَدْرَكَتْهَا الرَّاعِيَةُ، فَذَكَّتْهَا بِمَرْوَةٍ، فَسَأَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک باندی تھی جو مقام سلع میں ان کی بکریاں چرایا کر تی تھی ایک مرتبہ ایک بھیڑیا ایک بکری کو لے کر بھاگ گیا اس باندی نے اس کا پیچھا کر کے اس کو جالیا اور اسے ایک دھاری دار پتھر سے ذبح کر لیا سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بکری کا حکم پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دیدی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15765]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2304 وهذا إسناد ظاهر الانقطاع بين ابن كعب وأبيه ، لكن صرح بسماعه منه عند البخاري، فاتصل الإسناد
حدیث نمبر: 15766
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ مُلَازِمٌ رَجُلًا فِي أُوقِيَّتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ:" هَكَذَا" أَيْ: ضَعْ عَنْهُ الشَّطْرَ , قَالَ الرَّجُلُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ:" أَدِّ إِلَيْهِ مَا بَقِيَ مِنْ حَقِّهِ".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کسی شخص سے اپنی دو اوقیہ چاندی کا مطالبہ کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کر کے مجھ سے فرمایا کہ اس کا نصف قرض معاف کر دو میں نے عرض کیا: بہت بہتر یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے سے فرمایا کہ اب جو حق باقی بچا ہے اسے ادا کر و۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15766]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بغير هذه السياقة، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة
حدیث نمبر: 15767
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ مِنَ الطَّعَامِ".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کھانا کھایا اور بعد میں اپنی انگلیاں چاٹ لیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15767]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، م: 2032
حدیث نمبر: 15768
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ سَوْدَاءَ ذَكَّتْ شَاةً لَهُمْ بِمَرْوَةٍ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ،" فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی ایک سیاہ فام باندی تھی جس نے ایک بکری کو دھاری دار پتھر سے ذبح کر لیا سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بکری کا حکم پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دیدی۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15768]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2308. حجاج ضعيف لكنه توبع
حدیث نمبر: 15769
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: هُوَ شَكَّ يَعْنِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ، تُقِيمُهَا الرِّيَاحُ، تَعْدِلُهَا مَرَّةً، وَتَصْرَعُهَا أُخْرَى حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا لَا يُعِلُّهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِحَافُهَا يَخْتَلِعُهَا أَوْ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً". شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ.
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کی مثال کھیتی کے ان دانوں کی سی ہے جنہیں ہوا اڑاتی ہے کبھی برابر کر تی ہے اور کبھی دوسری جگہ لے جا کر پٹخ دیتی ہے یہاں تک کہ اس کا وقت مقررہ آ جائے اور کافر کی مثال ان چاولوں کی سی ہے جو اپنی جڑ پر کھڑے رہتے ہیں انہیں کوئی چیز نہیں ہلا سکتی یہاں تک کہ ایک ہی مرتبہ انہیں اتار لیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15769]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5643، م: 2810
حدیث نمبر: 15770
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْجِنِي إِلَّا بِالصِّدْقِ، وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ أَنْ لَا أَكْذِبَ أَبَدًا، وَإِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكَ"، قَالَ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ.
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: اللہ نے مجھے سچ کے علاوہ کسی اور چیز کی برکت سے نجات نہیں دی اب میری توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ آئندہ میں کبھی جھوٹ نہ بولوں اور میں اپنا سارامال اللہ اور اس کے رسول کے لئے وقف کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تھوڑا بہت اپنے پاس بھی رکھ لو تو بہتر ہے عرض کیا: کہ پھر میں خیبر کا حصہ اپنے پاس رکھ لیتاہوں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15770]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3889، م: 2769
حدیث نمبر: 15771
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحٍ ، قَالَ: قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ :" مَا كُنْتُ فِي غَزَاةٍ أَيْسَرَ لِلظَّهْرِ وَالنَّفَقَةِ مِنِّي فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ أَتَجَهَّزُ غَدًا، ثُمَّ أَلْحَقُهُ , فَأَخَذْتُ فِي جَهَازِي، فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرُغْ، فَقُلْتُ: آخُذُ فِي جَهَازِي غَدًا وَالنَّاسُ قَرِيبٌ بَعْدُ، ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ , فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرُغْ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ أَخَذْتُ فِي جَهَازِي، فَأَمْسَيْتُ فَلَمْ أَفْرُغْ، فَقُلْتُ: أَيْهَاتَ، سَارَ النَّاسُ ثَلَاثًا، فَأَقَمْتُ , فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ النَّاسُ يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ، فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ فِي غَزَاةٍ أَيْسَرَ لِلظَّهْرِ وَالنَّفَقَةِ مِنِّي فِي هَذِهِ الْغَزَاةِ , فَأَعْرَضَ عَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ لَا يُكَلِّمُونَا، وَأُمِرَتْ نِسَاؤُنَا أَنْ يَتَحَوَّلْنَ عَنَّا. قَالَ: فَتَسَوَّرْتُ حَائِطًا ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا أَنَا بِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: أَيْ جَابِرُ، نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ، هَلْ عَلِمْتَنِي غَشَشْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَوْمًا قَطُّ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي، فَجَعَلَ لَا يُكَلِّمُنِي. قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا عَلَى الثَّنِيَّةِ يَقُولُ: كَعْبًا كَعْبًا، حَتَّى دَنَا مِنِّي، فَقَالَ: بَشِّرُوا كَعْبًا".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں سواری اور خرچ کے اعتبار سے اس غزوے کے علاوہ کسی دوسرے غزوے میں اتنا مالدار نہیں تھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو میں نے سوچا کہ کل سامان سفر درست کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں گا چنانچہ میں نے تیاری شرع کر دی توشام ہو گئی لیکن میں فارغ نہیں ہو سکا حتی کہ تیسرے دن بھی اسی طرح ہوا میں کہنے لگا کہ ہائے افسوس لوگ تین دن کا سفر طے کر چکے ہیں یہ سوچ کر میں رک گیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آ گئے تو لوگ مختلف عذر بیان کرنے لگے کہ میں بھی بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا اور عرض کیا: کہ مجھ اس غزوے سے زیادہ کسی غزوے میں سواری اور خرچ کے اعتبار سے آسانی حاصل نہ تھی اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اعرض فرمالیا اور لوگوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے بھی منع فرما دیا بیویوں کے متعلق حکم دیا گیا کہ وہ ہم سے دور رہیں ایک دن میں گھر کی دیوار پر چڑھا تو مجھے جابر رضی اللہ عنہ نظر آئے میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہا اے جابر رضی اللہ عنہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں علم ہے کہ میں نے کسی دن اللہ اور اس کے رسول کو دھوکہ دیاہو لیکن وہ خاموش رہے اور مجھ سے کوئی بات نہیں کی ایک دن میں اسی حال میں تھا کہ میں نے ایک پہاڑی کی چوٹی سے کسی کو اپنانام لیتے ہوئے سنا یہاں تک کہ وہ میرے قریب آگیا اور کہنے لگا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے لئے خوش خبری ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15771]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2775، م: 2769 ، دون قوله: "فإذا أنا بجابر بن عبدالله......"، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عمر بن كثير لم يدرك كعب بن مالك