مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
260. حَدِيثُ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 15999
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ صَاحِبٍ لَهُ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15999]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الابهام شيخ قتادة، وراشد بن حبيش تابعي، فحديثه مرسل
261. حَدِيثُ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 16000
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لَمْ يَكُنْ , قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ هَذِهِ السُّورَةَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُبَيُّ، إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ هَذِهِ السُّورَةَ" , فَبَكَى، وَقَالَ: ذُكِرْتُ ثَمَّةَ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
سیدنا ابوحبہ بدری سے مروی ہے کہ جب سورت بینہ نازل ہوئی تو سیدنا جبرائیل نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے محمد آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ یہ سورت ابی بن کعب کو پڑھ کر سنائیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی سے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ تمہیں یہ سورت پڑھ کر سناؤ اس پر سیدنا ابی بن کعب روپڑے اور کہنے لگے کہ میرا ذکر وہاں ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16000]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 16001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَبَّةَ الْبَدْرِيَّ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لَمْ يَكُنْ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى آخِرِهَا، قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَهَا أُبَيًّا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ:" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ هَذِهِ السُّورَةَ" , قَالَ أُبَيٌّ: وَقَدْ ذُكِرْتُ ثَمَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَ: فَبَكَى أُبَيٌّ.
سیدنا ابوحبہ بدری سے مروی ہے کہ جب سورت بینہ نازل ہوئی تو سیدنا جبرائیل نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے محمد آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ یہ سورت ابی بن کعب کو پڑھ کر سنائیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی سے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ تمہیں یہ سورت پڑھ کر سناؤ اس پر سیدنا ابی بن کعب روپڑے اور کہنے لگے کہ میرا ذکر وہاں ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16001]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
262. حَدِيثُ أَبِي عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 16002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مَعْرِّف يَعْنِي ابْنَ وَاصِلٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ابْنَةُ طَلْقٍ ، امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ سَنَةَ تِسْعِينَ، عَنْ أَبِي عُمَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَجَاءَ رَجُلٌ بِطَبَقٍ عَلَيْهِ تَمْرٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا، أَصَدَقَةٌ أَمْ هَدِيَّةٌ؟" , قَالَ: صَدَقَةٌ , قَالَ:" فَقَدِّمْهُ إِلَى الْقَوْمِ" , وَحَسَنٌ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ يَتَعَفَّرُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَخَذَ الصَّبِيُّ تَمْرَةً، فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَهُ فِي فِي الصَّبِيِّ، فَنَزَعَ التَّمْرَةَ، فَقَذَفَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ". فَقُلْتُ لِمَعْرِّف: أَبُو عُمَيْرٍ جَدُّكَ؟ قَالَ: جَدُّ أَبِي.
سیدنا ابوعمیر سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی کھجوروں کا ایک تھال لے کر آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ یہ صدقہ ہے اس نے کہا صدقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوگوں کے آگے کر دیا اس وقت سیدنا امام حسن بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے وہ بچے تھے انہوں نے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ میں انگلی ڈال کر وہ کھجور نکالی اور ایک طرف رکھ دی اور فرمایا: ہم آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16002]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حفصة بنت طلق
حدیث نمبر: 16003
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْرِّف ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِي عَمِيرَةَ أُسَيْدِ بْنِ مَالِكٍ جَدِّ مَعْرِّف، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16003]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حفصة بنت طلق
263. حَدِيثُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ مِنْ الشَّامِيِّينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 16004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ: عَتِيقَهَا، وَلَقِيطَهَا، وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَلَيْهِ".
سیدنا واثلہ بن اسقع سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت تین طرح کی میراث حاصل کر تی ہے ایک اپنے آزاد کر دہ غلام کی ایک گرے پڑے بچے کی اور ایک اس بچے کی جس کی خاطر اس نے لعان کیا ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16004]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عمر بن رؤبة
حدیث نمبر: 16005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ: جَاءَ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ وَنَحْنُ نَبْنِي مَسْجِدَنَا، قَالَ: فَوَقَفَ عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُصَلَّى فِيهِ، بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ فِي الْجَنَّةِ أَفْضَلَ مِنْهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ هَيْثَمِ بْنِ خَارِجَةَ.
بشر بن حیان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے پاس سیدنا واثلہ بن اسقع تشریف لائے اس وقت ہم اپنی مسجد تعمیر کر رہے تھے وہ ہمارے پاس آ کر کھڑے ہوئے سلام کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی مسجد تعمیر کر ے جس میں نماز پڑھی جائے اللہ جنت میں اس کے لئے اس سے بہترین گھر تعمیر فرمادیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16005]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحسن بن يحيى الخشني، ولجهالة بشر بن حيان
حدیث نمبر: 16006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ وَاثِلَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِقُرْصٍ، فَكَسَرَهُ فِي الْقَصْعَةِ، وَصَنَعَ فِيهَا مَاءً سُخْنًا، ثُمَّ صَنَعَ فِيهَا وَدَكًا، ثُمَّ سَفْسَفَهَا، ثُمَّ لَبَّقَهَا، ثُمَّ صَعْنَبَهَا، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَشَرَةٍ أَنْتَ عَاشِرُهُمْ"، فَجِئْتُ بِهِمْ، فَقَالَ:" كُلُوا، وَكُلُوا مِنْ أَسْفَلِهَا، وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ أَعْلَاهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا"، فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا.
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ میں اصحاب صفہ میں سے تھا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روٹی منگوائی پیالے میں رکھ کر اس کے ٹکڑے کئے ان میں پہلے رکھا ہوا پانی ڈالا پھر وہ پانی اس میں ملا کر اسے ہلانے لگے پھر اسے نرم کر کے فرمایا: جاؤ دس آدمیوں کو میرے پاس لاؤ جن میں سے دسویں تم خود ہو گے میں بلالایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور نیچے سے کھانا اوپر سے نہ کھانا کیونکہ اوپر کے حصے میں برکت نازل ہو تی ہے چنانچہ ان سب نے وہ کھانا کھایا اور سیراب ہو گئے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16006]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 16007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيَّ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے مسواک کا اس کثرت سے حکم دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہو نے لگا کہ کہیں یہ مجھ پر فرض ہی نہ ہو جائے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16007]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 16008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَعْظَمَ الْفِرَى ثَلَاثَةٌ: أَنْ يَفْتَرِيَ الرَّجُلُ عَلَى عَيْنَيْهِ يَقُولُ: رَأَيْتُ وَلَمْ يَرَ، وَأَنْ يَفْتَرِيَ عَلَى وَالِدَيْهِ، فَيُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ يَقُولُ: سَمِعَنِي، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنِّي".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے عظیم بہتان تین باتیں ہیں ایک تو یہ کہ آدمی اپنی آنکھوں پر بہتان باندھے اور کہے کہ میں نے اس طرح دیکھا ہے حالانکہ اس نے دیکھا نہ ہو دوسرا یہ کہ آدمی اپنے والدین پر بہتان باندھے اور اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کر ے اور تیسرایہ کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے مجھ سے کوئی بات سنی ہے حالانکہ اس نے مجھ سے وہ بات نہ سنی ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16008]
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح