🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
251. حَدِيثُ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15969
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ وَهُوَ الْعِجْلِيُّ , حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ زِيَادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ أَبِي يَوْمَ الْأَضْحَى، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ عَلَى نَاقَتِهِ بِمِنًى".
سیدنا ہر م اس بن زیاد سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کو میدان منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15969]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنِ الْهِرْمَاسِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى بَعِيرٍ نَحْوَ الشَّامِ".
سیدنا ہر م اس سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شام کی جانب رخ کر کے اپنے اونٹ پر نفلی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15970]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عبدالله بن واقد متروك، ثم اختلف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15971
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي عَلِيٍّ أَبُو مُحَمَّدٍ مِنْ أَهْلِ الرَّيِّ، وَكَانَ أَصْلُهُ أَصْبَهَانِيًّا، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ هِرْمَاسٍ ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ أَبِي، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ وَهُوَ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا".
سیدنا ہر م اس سے مروی ہے کہ میں اپنے والد صاحب کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ پر سوار دیکھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے لبیک بحجۃ وعمرۃ معا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15971]

الحكم على الحديث:
حديث حسن دون قوله: لبيك بحجة وعمرة معاه فإنه من منكرات عبدالله بن عمران
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
252. حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي , قَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ" , قَالَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ , قَالَ: فَاسْتَدَرْتُ لَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ أَرْجُو أَنْ يَخُصَّنِي دُونَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِي , قَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ" , قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْفَرَائِعُ وَالْعَتَائِرُ؟ قَالَ:" مَنْ شَاءَ فَرَّعَ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ، وَمَنْ شَاءَ عَتَرَ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ، فِي الْغَنَمِ أُضْحِيَّةٌ"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا". وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّهِ الْحَارِثِ.
سیدنا حارث بن عمرو سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں میرے لئے بخشش کی دعا فرمادیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تم سب کی بخشش فرمائے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم عضباء نامی اونٹنی پر سوار تھے میں گھوم کر دوسری جانب آیا اس امید پر کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم خصوصیت کے ساتھ میرے لئے دعا فرمائیں اور دوبارہ عرض کیا: کہ میرے لئے بخشش کی دعا فرما دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ اللہ تم سب کی بخشش فرمائے۔ اسی دوران ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ! جانور کا پہلا بچہ ذبح کرنے یارجب کے مہینے میں قربانی کرنے کا کیا حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جانور کا پہلابچہ ذبح کرنا چاہے وہ کر لے اور جو نہ چاہے وہ نہ کر ے اسی طرح جو شخص ماہ رجب میں قربانی کرنا چاہے کر لے اور جو نہ چاہے وہ نہ کر ے البتہ بکری میں بھی قربانی ہو تی ہے پھر فرمایا کہ یاد رکھو تمہاری جان مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے اس شہر میں اس دن کی حرمت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15972]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
253. حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، فَكُنْتُ أُكْثِرُ الِاغْتِسَالَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ"، فَقُلْتُ: كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي؟ فَقَالَ:" يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ، فَتَمْسَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ، حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ".
سیدنا سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ مجھے کثرت سے خروج مذی کا مرض تھا جس کی بناء پر مجھے کثرت سے غسل بھی کرنا پڑتا تھا ایک دن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ نے فرمایا: تمہارے لئے وضو ہی کافی ہے میں نے پوچھا کہ اس کے جو قطرے کپڑوں کو لگ جائیں فرمایا: اس کے لئے اتناہی کافی ہے کہ ہتھیلی میں پانی بھرو اور جہاں اس کے نشانات دیکھو اس پر چھڑک دو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15973]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15974
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ : اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَرُدَّ أَمْرَهُ لَرَدَدْنَاهُ، وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَنْ عَوَاتِقِنَا مُنْذُ أَسْلَمْنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ، إِلَّا هَذَا الْأَمْرَ مَا سَدَدْنَا خَصْمًا إِلَّا انْفَتَحَ لَنَا خَصْمٌ آخَرُ.
سیدنا سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ اپنی رائے کو ہمیشہ صحیح نہ سمجھا کر و میں نے ابوجندل والا دن دیکھا ہے اگر ہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کو ٹالنے کی ہمت ہو تی تو اس دن ٹال دیتے واللہ اسلام قبول کرنے کے بعد جب بھی ہم نے کسی پریشان کن معاملے میں اپنے کندھوں سے تلواریں اتاریں وہ ہمارے لئے آسان ہو گیا سوائے اس معاملے کے کہ جب بھی ہم ایک فریق کا راستہ بند کرتے ہیں تو دوسرے کا راستہ کھل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15974]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3181، م: 1785
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا وَائِلٍ فِي مَسْجِدِ أَهْلِهِ أَسْأَلُهُ عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ بِالنَّهْرَوَانِ، فَِيمَا اسْتَجَابُوا لَهُ، وَفِيمَا فَارَقُوهُ، وَفِيمَا اسْتَحَلَّ قِتَالَهُمْ، قَالَ: كُنَّا بِصِفِّينَ، فَلَمَّا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ بِأَهْلِ الشَّامِ، اعْتَصَمُوا بِتَلٍّ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ: أَرْسِلْ إِلَى عَلِيٍّ بِمُصْحَفٍ، وَادْعُهُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ لَنْ يَأْبَى عَلَيْكَ , فَجَاءَ بِهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ , فَقَالَ عَلِيٌّ: نَعَمْ، أَنَا أَوْلَى بِذَلِكَ، بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ. قَالَ: فجاءته الخوارج وَنَحْنُ نَدْعُوهُمْ يَوْمَئِذٍ: الْقُرَّاءَ، وَسُيُوفُهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا نَنْتَظِرُ بِهَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ عَلَى التَّلِّ؟ أَلَا نَمْشِي إِلَيْهِمْ بِسُيُوفِنَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ فَتَكَلَّمَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ يَعْنِي الصُّلْحَ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا، فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ:" بَلَى"، قَالَ: فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ فَقَالَ:" يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَلَنْ يُضَيِّعَنِي أَبَدًا"، قَالَ: فَرَجَعَ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ , فَلَمْ يَصْبِرْ حَتَّى أَتَى أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: بَلَى , قَالَ: فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا , قَالَ: فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ، قَالَ: فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ، فَأَقْرَأَهَا إِيَّاهُ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفَتْحٌ هُوَ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابو وائل کے پاس ان کے گھر کی مسجد میں آیا تاکہ ان سے ان لوگوں کے متعلق پوچھ سکوں جنہیں سیدنا علی نے نہروان کے مقام پر قتل کیا تھا انہوں نے سیدنا علی کی کون سی بات مانی کس میں اختلاف کیا۔ اور سیدنا علی نے کس بناء پر ان سے قتال کو جائز سمجھا وہ کہنے لگے کہ ہم لوگ صفین میں تھے جب اہل شام کے مقتولین کی تعداد زیادہ بڑھنے لگی تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گئے اور سیدنا عمرو بن عاص نے سیدنا امیر معاویہ سے کہا کہ آپ سیدنا علی کے پاس قرآن کر یم کا ایک نسخہ بھیجیے اور انہیں کتاب اللہ کی دعوت دیجیے وہ آپ کی بات سے کسی صورت انکار نہیں کر یں گے۔ چنانچہ سیدنا علی کے پاس ایک آدمی یہ پیغام لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ ثالث ہے اور یہ آیت پڑھی کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا وہ انہیں کتاب اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرنے کا زیادہ حق دارہوں ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ ثالث ہے اس کے بعد خوارج جنہیں ہم اس وقت قراء کہتے تھے سیدنا علی کے پاس اپنے کندھوں پر تلواریں لٹکائے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ اے امیر المومنین یہ لوگ جو ٹیلے پر ہیں ان کے متعلق ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کیا ہم ان پر اپنی تلواریں لے کر حملہ نہ کر دے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے۔ اس پر سیدنا سہل بن حنیف بولے اور کہنے لگے اے لوگو اپنے آپ کو ہمیشہ صحیح مت سمجھا کر و ہم نے حدیبیہ کا وہ دن بھی دیکھا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان صلح ہوئی تھی اگر ہم جنگ کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے اسی دوران سیدنا عمر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر نہیں ہیں کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں وہ کہنے لگے کہ پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں دب کر صلح کیوں کر یں اور اسی طرح واپس لوٹ جائیں کہ اللہ نے ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ ہی نہیں کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب میں اللہ کا پیغمبر ہوں وہ مجھے کبھی بھی ضائع نہیں کر ے گا۔ سیدنا عمر اسی طرح غصے کی حالت میں واپس چلے گئے اور ان سے صبر نہ ہو سکا وہ سیدنا ابوبکر کے پاس پہنچے اور ان سے بھی یہی سوال و جواب ہوئے سیدنا صدیق اکبر نے فرمایا: وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں کبھی بھی ضائع نہیں کر ے گا اس کے بعد سورت فتح نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سیدنا عمر کے پاس بھیجا اور انہیں یہ سورت پڑھ کر سنائی سیدنا عمر کہنے لگے یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15975]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4844، م: 1785
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتِيهُ قَوْمٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُحَلَّقَةٌ رُءُوسُهُمْ" , وَسُئِلَ عَنِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" حَرَامٌ آمِنًا، حَرَامٌ آمِنًا".
سیدنا سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مشرق کی طرف سے ایک قوم آئے گی جو بھٹکتی پھرے گی اور ان کے سرمنڈے ہوئے ہوں گے کسی نے مدینہ منورہ کے متعلق پوچھا: تو فرمایا کہ وہ حرم ہے اور امن وامان والا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15976]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1068
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِزَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْحَرُورِيَّةِ , قَالَ: أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ لَا أَزِيدُكَ عَلَيْهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنْ هَاهُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْعِرَاقِ" يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ" , قُلْتُ: هَلْ ذَكَرَ لَهُمْ عَلَامَةً؟ قَالَ: هَذَا مَا سَمِعْتُ، لَا أَزِيدُكَ عَلَيْهِ.
یسیر بن عمرو سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں سیدنا سہل بن حنیف کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا: کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو فرقہ حروریہ کے متعلق آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوانہوں نے فرمایا کہ میں تم سے صرف اتنا ہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو یہاں سے نکلے گی اور عراق کی طرف اشارہ کیا وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوئی علامت بھی ذکر فرمائی ہے انہوں نے جواب دیا میں نے جو سنا تھا وہ یہی ہے کہ میں اسے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15977]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1068، لم يوجد فى حزام بن إسماعيل توثيق، لكنه توبع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي الرَّبَابُ . وَقَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَتْ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُ: مَرَرْنَا بِسَيْلٍ، فَدَخَلْتُ فَاغْتَسَلْتُ مِنْهُ، فَخَرَجْتُ مَحْمُومًا، فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا ثَابِتٍ يَتَعَوَّذُ" , قُلْتُ: يَا سَيِّدِي، وَالرُّقَى صَالِحَةٌ؟ قَالَ:" لَا رُقْيَةَ إِلَّا فِي نَفْسٍ، أَوْ حُمَةٍ , أَوْ لَدْغَةٍ". قَالَ عَفَّانُ:" النَّظْرَةُ , وَاللَّدْغَةُ , وَالْحُمَةُ".
سیدنا سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی علاقے میں پانی کی ندی پر سے ہمارا گزر ہوا میں اس میں غسل کرنے لگا جب نکلا تو بخار چڑھ چکا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو فرمایا: ابوثابت سے کہو کہ اپنے اوپر تعوذ پڑھ کر پھونک لیں میں نے عرض کیا: آقا جھاڑ پھونک بھی ہو سکتا ہے فرمایا: جھاڑ پھونک صرف نظر بد سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈسنے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15978]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الرباب مجهولة
WhatsApp