🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
263. حَدِيثُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ مِنْ الشَّامِيِّينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو فَضَالَةَ الْفَرَجُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ " يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ عَرَكَهَا بِرِجْلِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: أَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْزُقُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
ابوسعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دمشق کی مسجد میں سیدنا واثلہ کو نماز پڑھنے کے دوران دیکھا کہ انہوں نے بائیں پاؤں نیچے تھوک پھینکا اور اپنے پاؤں سے اسے مسل دیا جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا: کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں پھر بھی مسجد میں تھوک پھینکتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16009]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى فضالة، ولجهالة أبى سعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَاثَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ صَاحِبًا لَنَا قَدْ أَوْجَبَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَعْتِقْ رَقَبَةً مُسْلِمَةً يَفُكَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ بنوسلیم کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی نے اپنے اوپر کسی شخص کو قتل کر کے جہنم کی آگ کو واجب کر لیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ایک غلام آزاد کرنا چاہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16010]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، إبراهيم بن أبى عبلة لم يسمع هذا الحديث من واثلة ابن الأسقع، بينهما الغريف الديلمي، والغريف مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيُّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ: عَتِيقَهَا، وَلَقِيطَهَا، وَوَلَدَهَا الَّذِي تُلَاعِنُ عَلَيْهِ".
سیدنا واثلہ بن اسقع سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت تین طرح کی میراث حاصل کر تی ہے ایک اپنے آزاد کر دہ غلام کی، ایک گرے پڑے بچے کی اور ایک اس بچے کی جس کی خاطر اس نے لعان کیا ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16011]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عمر بن رؤبة، وفيه بقية بن الوليد مدلس تدليس التسوية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنِ الْغَرِيفِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيَّ ، فقلنا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَوْجَبَ، فَقَالَ:" أَعْتِقُوا عَنْهُ، يُعْتِقْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ بنوسلیم کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی نے اپنے اوپر کسی شخص کو قتل کر کے جہنم کی آگ کو واجب کر لیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ایک غلام آزاد کرنا چاہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16012]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال الغريف الديلمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنْ يَزِيْدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سِبَاعٍ ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ نَاقَةً مِنْ دَارِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، فَلَمَّا خَرَجْتُ بِهَا أَدْرَكَنَا وَاثِلَةُ وَهُوَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: يَا عَبَد اللَّهِ اشْتَرَيْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: هَلْ بَيَّنَ لَكَ مَا فِيهَا؟ قُلْتُ: وَمَا فِيهَا؟ قَالَ: إِنَّهَا لَسَمِينَةٌ ظَاهِرَةُ الصِّحَّةِ! قَالَ: فَقَالَ أَرَدْتَ بِهَا سَفَرًا أَمْ أَرَدْتَ بِهَا لَحْمًا؟ قُلْتُ: بَلْ أَرَدْتُ عَلَيْهَا الْحَجَّ , قَالَ: فَإِنَّ بِخُفِّهَا نَقْبًا , قَالَ: فَقَالَ صَاحِبُهَا: أَصْلَحَكَ اللَّهُ مَا تُرِيدَ إِلى هَذَا تُفْسِدُ عَلَيَّ؟! قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَبِيعُ شَيْئًا إِلَّا يُبَيِّنُ مَا فِيهِ، وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ يَعْلَمُ ذَلِكَ إِلَّا يُبَيِّنُهُ".
ابوسباع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا واثلہ کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی میں جب اس اونٹنی کو لے کر نکلنے لگا تو مجھے سیدنا واثلہ مل گئے وہ اپنی چادر کھینچتے ہوئے چلے آ رہے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بندہ اللہ کیا تم نے اسے خرید لیا ہے میں نے کہا جی ہاں انہوں نے پوچھا: کیا انہوں نے تمہیں اس کے متعلق سب کچھ بتادیا ہے میں نے کہا کہ سب کچھ سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ خوب صحت مند جو نظر بھی آرہا ہے یہ بتاؤ تم اس پر سفر کرنا چاہتے ہو یا ذبح کر کے گوشت حاصل کرنا چاہتے ہو میں نے عرض کیا: میں اس پر حج کے لئے جانا چاہتا ہوں وہ کہنے لگے کہ پھر اس کے کھر میں ایک سوراخ ہے اس پر اونٹنی کا مالک کہنے لگا اللہ آپ کے حال پر رحم کر ے کیا آپ میرا سوداخراب کرنا چاہتے ہیں انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کسی آدمی کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ وہ کسی چیز کو بیچے اور اس میں عیب نہ کر ے اور جو اس عیب کو جانتا ہواس کے لئے بھی حلال نہیں ہے کہ اسے بیان نہ کر ے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16013]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى سباع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللَّهِ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , قَالَ: فَدَعَاهُ فَقَالَ:" أَلَمْ تُحْسِنْ الطُّهُورَ أَوْ الْوُضُوءَ، ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا آنِفًا" , قَالَ: بَلَى , قَالَ:" اذْهَبْ فَهِيَ كَفَّارَتُكَ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اسی دوران ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں حدود اللہ میں سے ایک حد کو پہنچ گیا ہوں لہذا مجھے سزاد یجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعرض کیا: تین مرتبہ اسی طرح ہوا اس کے بعد نماز کھری ہوئی نماز سے فراغت کے بعد وہ چوتھی مرتبہ پھر آیا اور اپنی بات دہرائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قریب بلا کر پوچھا کہ کیا تم اچھی طرح وضو کر کے ابھی ہمارے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوئے اس نے کہا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ پھر یہی تمہارے گناہ کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16014]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ليث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَعْظَمَ الْفِرْيَةِ ثَلَاثٌ: أَنْ يَفْتَرِيَ الرَّجُلُ عَلَى عَيْنَيْهِ، يَقُولُ: رَأَيْتُ وَلَمْ يَرَ، وَأَنْ يَفْتَرِيَ عَلَى وَالِدَيْهِ يُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَأَنْ يَقُولَ: قَدْ سَمِعْتُ وَلَمْ يَسْمَعْ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے عظیم بہتان تین باتیں ہیں ایک تو یہ کہ آدمی اپنی آنکھوں پر بہتان باندھے اور کہے کہ میں نے اس طرح دیکھا ہے حالانکہ اس نے دیکھا نہ ہو دوسرا یہ کہ آدمی اپنے والدین پر بہتان باندھے اور اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کر ے اور تیسرایہ کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے مجھ سے کوئی بات سنی ہے حالانکہ اس نے مجھ سے وہ بات نہ سنی ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16015]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16016
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي السَّائِبِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ عَلَى أَبِي الْأَسْوَدِ الْجُرَشِيِّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَجَلَسَ، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو الْأَسْوَدِ يَمِينَ وَاثِلَةَ، فَمَسَحَ بِهَا عَلَى عَيْنَيْهِ وَوَجْهِهِ لِبَيْعَتِهِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ وَاثِلَةُ: وَاحِدَةٌ أَسْأَلُكَ عَنْهَا , قَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: كَيْفَ ظَنُّكَ بِرَبِّكَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ، وَأَشَارَ بِرَأْسِهِ، أَيْ حَسَنٌ , قَالَ وَاثِلَةُ : أَبْشِرْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ".
حیان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا واثلہ کے ساتھ ابوالاسود جرشی کے پاس ان کے مرض الموت میں گیا سیدنا واثلہ سلام کر کے بیٹھ گئے ابواسود نے ان کا داہنا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی آنکھوں اور چہرے پر ملنے لگے کیونکہ سیدنا واثلہ نے ان ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی تھی سیدنا واثلہ نے ان سے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھتاہوں ابواسود نے پوچھا کہ وہ کیا بات ہے انہوں نے پوچھا کہ تمہارا اپنے رب کے متعلق کیساگمان ہے ابواسود نے سر کے اشارے سے جواب دیا اچھا ہے انہوں نے فرمایا: پھر خوش ہو جاؤ کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتاہوں جو وہ میرے متعلق گمان رکھتا ہے اب جو چاہے میرے ساتھ جیسا مرضی گمان رکھے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16016]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16017
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , وَهِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، أنهما سمعاه من حيان أبي النضر يُحَدِّثُ بِهِ، وَلَا يَأْتِيَانِ عَلَى حِفْظِ الْوَلِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16017]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَلَا إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، وَعَذَابَ النَّارِ، أَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، فَإِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے اللہ فلاں بن فلاں تیری ذمہ داری میں اور تیرے پڑوس کی رسی میں ہے اس لئے اسے قبر کی آزمائش اور عذاب جہنم سے محفوظ فرما تو ہی اہل وفا حق ہے اے اللہ اسے معاف فرما اس پر رحم فرما تو ہی معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16018]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں