🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
416. حَدِيثُ رَسُولِ قَيْصَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16694
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن أحمد، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ إِمْلَاءً عَلَيَّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ قَيْصَرَ جَارًا لِي زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَيْصَرَ ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى قَيْصَرَ، وَكَتَبَ مَعَهُ إِلَيْهِ كِتَابًا فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ، وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ وَأَحْسَنُ اقْتِصَاصًا لِلْحَدِيثِ، وَزَادَ قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ سورة القصص آية 56، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ رَسُولُ قَوْمٍ وَإِنَّ لَكَ حَقًّا، وَلَكِنْ جِئْتَنَا وَنَحْنُ مُرْمِلُونَ"، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ: أَنَا أَكْسُوهُ حُلَّةً صَفُورِيَّةً، وَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: عَلَيَّ ضِيَافَتُهُ.

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة سعيد بن أبى راشد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
417. حَدِيثُ ابْنِ عَبْسٍ شَيْخٌ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16695
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الدَّارِيُّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْخٌ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ، وَنَحْنُ فِي غَزْوَةِ رُودِسَ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ عَبْسٍ ، قَالَ:" كُنْتُ أَسُوقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَةً، قَالَ: فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِهَا: يَا آلَ ذَرِيحٍ، قَوْلٌ فَصِيحٌ، رَجُلٌ يَصِيحُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ بِمَكَّةَ".
سیدنا ابن عبس فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھروالوں کی ایک گائے چرایا کرتا تھا، ایک دن میں نے اس کے شکم سے یہ آواز سنی اے آل ذریح! ایک فصیح بات ایک شخص اعلان کر کے کہہ رہا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس کے بعد جب ہم مکہ مکر مہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کر دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16695]

الحكم على الحديث:
هذا الأثر إسناده ضعيف، تفرد به عبيدالله بن أبى زياد، وهو ممن لا يحتمل تفرده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
418. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16696
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْعَنْزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ:" خطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ"، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ: عَلَيَّ مِئَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا، قَالَ: ثُمَّ حَثَّ، فَقَالَ عُثْمَانُ: عَلَيَّ مِائَةٌ أُخْرَى بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ مَرْقَاةً مِنَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ حَثَّ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ: عَلَيَّ مِئَةٌ أُخْرَى بِأَحْلَاسِهَا، وَأَقْتَابِهَا، قَالَ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا يُحَرِّكُهَا وَأَخْرَجَ عَبْدُ الصَّمَدِ يَدَهُ كَالْمُتَعَجِّبِ" مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذَا".
سیدنا عبدالرحمن بن خباب سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو مالی تعاون کی ترغیب دی، سیدنا عثمان غنی کہنے لگے کہ ایک سو اونٹ مع پالان اور پائتابہ کے میرے ذمے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اسی طرح ترغیب دی اور ہر مرتبہ سیدنا عثمان غنی ایک ایک سو اونٹ اپنے ذمے لیتے رہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھ ہلا کر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کر ے، وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16696]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الجهالة فرقد أبى طلحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16697
قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْعَنَزِيُّ ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أبي هِشَامٍ ، عَنْ فرقد أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَطَبَ، فَحَضَّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ، فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16697]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة فرقد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
419. بَقِيَّةُ حَدِيثِ أَبِي الْغَادِيَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16698
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْعَنَزِيُّ مُحَمَّدُ ابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ: كُنَّا بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ، يُقَالُ لَهُ أَبُو الْغَادِيَةِ اسْتَسْقَى مَاءً، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مُفَضَّضٍ، فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ، وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ:" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا أَوْ ضُلَّالًا" شَكَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ" يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" فَإِذَا رَجُلٌ يَسُبُّ فُلَانًا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْكَ فِي كَتِيبَةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ إِذَا أَنَا بِهِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ، قَالَ: فَفَطِنْتُ إِلَى الْفُرْجَةِ فِي جُرُبَّانِ الدِّرْعِ فَطَعَنْتُهُ، فَقَتَلْتُهُ، فَإِذَا هُوَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَأَيُّ يَدٍ كَفَتَاهُ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ فِي إِنَاءٍ مُفَضَّضٍ وَقَدْ قَتَلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ.
کلثوم بن حبر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ شہر واسط میں عبدالاعلی بن عامر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران وہاں موجود ایک شخص جس کا نام ابوغادیہ تھا نے پانی منگوایا، چنانچہ چاندی کے ایک برتن میں پانی لایا گیا لیکن انہوں نے وہ پانی پینے سے انکار کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے یہ حدیث ذکر کی کہ میرے پیچھے کافر یا گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ اچانک ایک آدمی دوسرے کو برا بھلا کہنے لگا، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے لشکر میں مجھے تیرے اوپر قدرت عطاء فرمائی (تو تجھ سے حساب لوں گا) جنگ صفین کے موقع پر اتفاقا میرا اس سے آمنا سامنا ہو گیا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، لیکن میں نے زرہ کی خالی جگہوں سے اسے شناخت کر لیا، چنانچہ میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا، بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو سیدنا عمار بن یاسر تھے، تو میں نے افسوس سے کہا کہ یہ کون سے ہاتھ ہیں جو چاندی کے برتن میں پانی پینے پر ناگواری کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ انہی ہاتھوں نے سیدنا عمار کو شہید کر دیا تھا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16698]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16699
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي غَادِيَةَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ إِلَى أَنْ تَلْقَوْا رَبَّكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ" اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟".
سیدنا ابوغادیہ جہنی سے مروی ہے کہ یوم عقبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! قیامت تک تم لوگوں کی جان ومال کو ایک دوسرے پر حرام قرار دیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے میں اور اس شہر میں ہے، کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا؟ لوگوں نے تائید کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ، یاد رکھو! میرے پیچھے کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو، کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16699]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16700
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا غَادِيَةَ الْجُهَنِيَّ ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعَقَبَةِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ دِمَاءَكُمْ" فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16700]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16701
(حديث مرفوع) قَالَ عبد الله بن أحمد: حَدَّثَنِي الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَاصِ ابْنَ عَمْرٍو الطُّفَاوِيَّ ، قَالَ: خَرَجَ أَبُو الْغَادِيَةِ، وحَبِيبُ بْنُ الْحَارِثِ، وَأُمُّ أَبِي الْغَادِيَةِ مُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا، فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ: أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِيَّاكِ وَمَا يَسُوءُ الْأُذُنَ".
عاص بن عمرو طفاوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابوغادیہ، حبیب بن حارث اور ام غادیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مہاجر بن کر روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر اسلام قبول کر لیا، اس موقع پر خاتون (ام غادیہ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ!! مجھے کوئی وصیت فرمایئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی باتوں سے بچو جو کانوں کو سننا ناگوار ہوں۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16701]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الجهالة حال العاص بن عمرو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
420. حَدِيثُ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16702
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَحْلِبُ، فَقَالَ:" دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ".
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت دودھ دوہ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کر سکو۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16702]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال يعقوب بن بحير، والأعمش مدلس وما ذكر سماعا، ويعقوب لم يذكر سماعه من ضرار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16703
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ جَارُنَا، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَاهِلِيُّ الْأَثْرَمُ الْبَصْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: امْدُدْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، قَالَ ضِرَارٌ: ثُمَّ قُلْتُ: تَرَكْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِيَانِ وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالَا وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ وَحَمْلِي عَلَى الْمُشْرِكِينَ الْقِتَالَا فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ سُفْقَتِي فَقَدْ بِعْتُ مَالِي وَأَهْلِي ابْتِدَالَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا غُبِنَتْ سُفْقَتُكَ يَا ضِرَار".
سیدنا ضرار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: کہ ہاتھ بڑھائیے، میں اسلام پر آپ کی بیعت کر لوں، پھر میں نے چند اشعار پڑھے (جن کا ترجمہ یہ ہے) کہ میں پیالے، گلوکاراؤں کے گانے اور شراب کو چھوڑ آیا ہوں، گو کہ مجھے اس کی تکلیف برداشت کرنا پڑی ہے لیکن میں نے عاجزی سے یہ کام کئے ہیں اور رات کے اندھیرے میں عمدہ جگہوں کو چھوڑ آیا ہوں اور مشرکین پر قتال کا بوجھ لاد آیا ہوں، لہذا اے پروردگار! میری اس تجارت کو خسارے سے محفوظ فرما کہ میں اس کے عوض اپنے اہل خانہ اور مال و دولت کو بیچ آیا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ضرار! تمہاری تجارت میں خسارہ نہیں ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16703]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال يعقوب بن بحير، والأعمش مدلس وما ذكر سماعة، ويعقوب لم يذكر سماعه من ضرار محمد بن سعيد الباهلي إن كان هو قرشية فهو ضعيف، وإن كان غيره فلم يوجد له ترجمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں